قابل صد توجہ بات 

قابل صد توجہ بات 

ملائیشیا کے نائب وزیر ڈاکٹر اشرف واجدی نے حق بات کہی ہے کہ حلال کمانے کے بجائے مسلمان حلال غذ ا کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائب وزیر نے کہا کہ مسلم آبادی کی اکثریت اسلام کو محض ذریعہ بندگی سمجھتی ہے، جہاں تک معاملہ حلال اور حرام کا ہے اسلام کن چیزوں سے روکتا اور کن چیزوں کی اجازت دیتا ہے وہ صرف کھانے پینے تک ہی محدود ہے۔خبرکے مطابق، اشرف واجدی نے یہ بات اسلامی معاشی ادارے اور صدقات کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔نائب وزیر نے کہا کہ جب گوشت کھانے کی بات آتی ہے تو عوام یہ خیال کرتے ہیں کہ کیا اسے شریعت کے اصولوں کے مطابق ذبح کیا گیا ہے یا نہیں لیکن خرچ کرنے والی رقم کے بارے نہیں سوچتے کہ یہ حلال ذرائع سے ہے یا حرام سے؟ملائیشیاکے نائب وزیر ڈاکٹر اشرف واجدی نے مسلمانوں میں قول و فعل کے تضاد اور کمزوریٔ عمل کی اس سادگی اور صراحت سے نشاندہی کی ہے کہ اس کا حرف حرف سچ اور قابل غور ہے ۔ مسلمانوں کی اکثریت نہیں تو بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو رشوت و بد عنوانی شراب نوشی اور لغو یات و منکرات کا کوئی خیال نہیں رکھتی۔ ان کے نزدیک صرف سور کا گوشت ہی حرام ہے اس کے حرام ہونے میں تو شک نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے مسلمان کا حق مارنا قومی خزانے اور سرکاری وسائل پر ہاتھ صاف کرنا بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح کسی مردار جانور کا گوشت۔ آقائے دو جہاں خاتم النبیین پیغمبر آخرالزماں نے تو غیبت کو بھی اپنے بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا ہے۔ کیا ہم اس فرمان مبارک پر عمل پیرا ہونے کی شعوری کو شش کرتے ہیں بد قسمتی سے اس کا جواب واضح نفی میں ہے۔ عبادات وصدقات اور دعائووں کی قبولیت کیلئے بنیادی ترین شرط رزق حلال سے پرورش اور لباس و پوشاک کا حلال کی رقم سے ہونا ہے لیکن ہم رشوت اور بد عنوانی کی رقم اور دوسرے کے مال و متاع اور جائیداد پر قبضہ کر کے عمرہ اور حج پر چلے جاتے ہیں۔ مالک کائنات کو وہ عمل ہی منظور ہوتا ہے جو خالص ہو اور مطلوبہ شرائط و معیار پر کما حقہ پورا اترتا ہو۔ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ہم ایک گونہ توقف کر کے اس امر کا جائزہ لیں کہ کہیں ہم نام کے مسلمان اور کام میں اس کی ضد کا مظاہرہ تو نہیں کر رہے ہیں۔ آخر کب ہمیں عقل آئے گی اور ہم خالص دودھ ، صاف پانی اور خالص خوراک کی طرح خالص عمل اور پاکیز گی اختیار کرنے پر توجہ دیں گے۔ یقین جانیں ایسا ہو تو پھر ہمارے معاشرے سے منکر ات و مکروہات کا وجود مٹ جائے گا اور کسی محافظ کسی نگراں یہاں تک کہ کسی محکمے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی اور ہمارے معاملات خود بخود درست ہونا شروع ہوجائیں گے ۔

دنیا