خون کا بدلہ خون

خون کا بدلہ خون


بلوچستان میں کالعدم بی ایل ایف کے اس کمانڈر کو کیفر کردار تک پہنچانے کی خبر پر ہر محب وطن پاکستانی کا اظہار اطمینان فطری امر ہے ۔ ان شقی القلب عناصر نے گزشتہ روز جس طرح کے معصوم لوگوں کا قتل کیا اور اس کے علاوہ بھی تازہ اطلاع کے مطابق پانچ افراد کا قتل کیا گیا ہے اول الدکر واقعے میں ملوث کمانڈر کی ہلاکت کی خبر اور ان کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر بھی دیکھی جا سکتی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کمانڈر اس سنگین کے واردات کے بعد اتنی آسانی سے کیسے ہتھے چڑھ گیا اور اگر ایسا ہی ہوا تو اس قابل رسائی علاقے میں اب تک ان کے خلاف کارروائی کیوں ممکن نہ ہو سکی تھی اس طرح کے آپریشنز اور فوری نتائج کے حامل آپریشنز ناممکن تو نہیں لیکن کئی وجوہات کی بناء پر اس شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے مقامی لوگوں کو حقیقت حال کا تفصیل سے علم ہوگا لیکن سوشل میڈیا اور پریس میں جو تفصیل موجود ہے اس سے پوری طرح اس امر کو سمجھنا مشکل ہے کہ اس قدر سنگین اقدام کے بعد اتنی آسانی سے ان کا ہاتھ آنا اور مارا جانا دشوار لگتا ہے۔ بہر حال شکوک و شبہات اپنی جگہ مقام اطمینان امر یہ ہے کہ ایک بد تر ین قاتل کو ان کے کرتوتوں کی سزا بہت جلد ملی اور قدرت نے یہ موقع فراہم کیا کہ دوسروں کی زندگیاں لینے والا خود بھی زیادہ دن جی نہ سکا ۔ بلوچستان کے حالات پر ہر پاکستانی کوتشویش ہے اور دشمن کی سازشوں سے ہرشخص مشوش ہے۔ قوم اپنے قومی اداروں اور خاص طور پر حساس اداروں سے بجا طور پر توقع کرتی ہے کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں وہ کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ بہتر ہوگا کہ اس طرح کے آپریشنز کی پوری تفصیل اور ویڈیو جاری کی جائے تاکہ دشمنوں کو عبرت اورہم وطنوں کیلئے اطمینان کا باعث بنے ۔ قوم بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ ہمارے قومی سلامتی کے ادارے چن چن کر ایسے عناصر کا خاتمہ کریں گے جو بلوچستان میں حالات کی خرابی کا باعث بن رہے ہوں البتہ اگر وہ ہتھیار پھینک کر مطیع ہو جائیں تو اس صورت میں ہی یہ ہمارے ہم وطن اور بھائی کہلانے کے حق دار ہوں گے ۔