Daily Mashriq


میڈیا کو احتیاط کرنی چاہیے

میڈیا کو احتیاط کرنی چاہیے

جنوبی وزیر ستان کے عمائدین نے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایجنسی میں طالبان کی متوازی حکومت قائم ہو گئی ہے جب کہ حکومت کی رٹ پوری طرح قائم ہے۔ وزیر قبیلہ کے چار علماء نے جمعہ کے روز رستم اڈہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایجنسی میں طالبان کی موجودگی یا ان کے متوازی حکومت قائم کرنے سے متعلق خبر بے بنیاد ہے اور اس کا مقصد امن عمل کو ناکام بنانا ہے۔ پریس کانفرنس میں کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے صحافیوں کو بطور خاص مدعو کیا گیا تھا۔ پریس کانفرنس میں عمائدین کے اس اعلان کی بنیاد ایک انگریزی معاصر کی شائع ہونے والی خبر بنی جس میں کہا گیا تھا کہ طالبان گروپ کے ایک سابق لیڈر ملا نذیر کے بھائی کی سرکردگی میں نام نہاد امن کمیٹی کی جانب سے علاقے میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا گیا ہے جس میں تقریبات میں قبائلی رسم و رواج کے مطابق رقص اور عورتوں کے بغیر اپنے محرم مرد ہمراہیوں کے بازار جانے آنے پر پابندی کا اعلان کیا گیا تھا اور حکم کی خلاف ورزی پر سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔ اور کہاگیا تھا کہ طالبان دوبارہ نمودار ہو گئے ہیں اور انہوں نے عوام پر احکام صادر کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ عمائدین نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ علاقے میں کوئی ایسا پمفلٹ تقسیم نہیں کیا گیا۔ عمائدین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر قبیلہ کے 120عمائدین ' بااثر افراد اور تاجروں نے 2007ء میں ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے وہ اب تک قائم ہے۔ اس امن معاہدے کے نفاذ کے لیے قبیلہ نے غیر ملکیوں کو علاقے سے نکالا بھی۔ ان کوششوں میں احمد زئی وزیر قبیلہ کے چالیس افراد شہید ہوئے۔ عمائدین نے کہا ہے کہ وہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ علاقے کے امن کو سبوتاژ کرے۔

غیر ملکی میڈیا اور اس کے تتبع میں ہمارے انگریزی اخبارات ' طالبان اور طالبانیت کے بارے میں کچھ زیادہ ہی حساسیت کا مظاہرہ کر تے ہیں۔ ہر ایسی بات کو جو قبائلی معاشرت کا حصہ اور رواج ہوتی ہے غیر ملکی میڈیا والے ظالمانہ' طالبانیت پر مبنی قرار دینے میں پیش پیش رہتے ہیں جو ان کی ہمارے قبائل کے رسوم و رواج سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ تاہم ہمارے انگریزی میڈیا کو مغربی میڈیا کی تابعداری کی بجائے اپنے ملک کے مختلف حصوں کے کلچر اور معاشرت سے زیادہ واقفیت کا حامل ہونا چاہیے۔ جو ایسی خبر نگاری میں نظر نہیں آتا جس کی تردید وزیر عمائدین نے کی ہے۔

فرض کیجئے کسی رپورٹر کے ہاتھ کوئی ایسا پمفلٹ لگا تھا جس کا ذکر سطور بالا میں کیاگیا ہے تو اسے پہلے یہ تصدیق کرنی چاہیے تھی کہ آیا یہ کوئی پرانا پمفلٹ ہے یا حال ہی میں جاری ہوا ہے۔ دوسرے اسے چاہیے تھا کہ معلوم کرتا کہ ایسے کتنے پمفلٹ اور کہاں کہاں دیکھے گئے ہیں۔ تیسرے اسے یہ معلوم کرنا چاہیے تھا کہ اگر ایسے پمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں تو ان کے تقسیم کرنے کے لیے کیا طریق کار اختیار کیا گیا۔آیا وہ چھپ چھپا کر پھینکے گئے ہیں یا کھلم کھلا تقسیم کیے گئے ہیں۔ اور پبلک مقامات پر چسپاں کیے گئے۔ اگر ان پمفلٹس کی تعداد چند سو یا بیسیوں تھی اور اگر یہ کھلم کھلا تقسیم کیے گئے تو اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ جس طالبان گروپ کے نمودار ہونے کا دعویٰ اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے اس کی تعداد کتنی ہے اور وہ کس قدر موثر ہے۔ چوتھی بات جو نہایت اہم ہے وہ یہ کہ ان نام نہاد پمفلٹس کا اثر علاقے کے لوگوں پر کیا ہوا۔ کیا وہ خوفزدہ ہو گئے یا انہوں نے ان متذکرہ پمفلٹس کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ کیا رپورٹر نے علاقے کے عمائدین اور مشران سے ان پمفلٹس پر ان کا ردِ عمل جاننے کی کوشش کی؟ خبرمیں لکھا گیا ہے کہ جب پولیٹیکل ایجنٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ دستیاب نہ ہوئے۔ خبر میں نہ اس خبر پر عمائدین اور مشران کا ردِعمل شامل ہے ' نہ توثیق۔ جہاں تک پولیٹیکل ایجنٹ سے رابطہ کی کوشش کی بات ہے یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کوشش کے نتیجے میں کیا معلوم ہوا کہ پولیٹیکل ایجنٹ رابطہ کی کوشش کے وقت کہاں تھے۔ جس پاکستانی اخبار میں یہ خبر دی گئی ہے اس کے پاس ایسے نمائندے ہیں جو قبائلی معاشرت اور قبائلی علاقے کی صورت حال کے بارے میں نہایت باخبر ہونے کا ثبوت فراہم کرتے رہے ہیں۔ طالبان کی قوت کے بارے میں ان کے اندازے دیگر باخبر نمائندوں اور حکام کے اندازوں کے قریب قریب ہی رہے ہیں۔ لیکن اخبار نے یہ خبر اپنے نمائندے کے نام کے ساتھ شائع کرنے کی بجائے مراسلہ نگار کے حوالے سے شائع کی ہے ۔ اس مراسلہ نگار نے یہ خبر کن ذرائع سے معلوم کی اور اس کی توثیق اپنے سینئر ساتھیوں اور علاقے کے عمائدین یا پولیٹیکل ایجنٹ کے علاوہ سرکاری حکام سے حاصل کرنے کی کوشش کی یا نہیں' اس کا ذکر نہیں ہے۔

وانا کے عمائدین نے یہ پریس کانفرنس اس خبر کی تردید کیلئے کی ہے۔ اس میں کرک اور ڈیرہ کے صحافیوں کو بطورِ خاص مدعو کیا ہے جس سے اس تردید کے مبنی برحقیقت ہونے کا یقینی ہونا نظر آتا ہے۔ قبائلی معاشرہ نہایت مربوط معاشرہ ہے۔ اس معاشرے میں کوئی چھپا نہیں رہ سکتا۔ سبھی کو معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا ہے ' کس کا تعلق طالبان سے ہے کس کا نہیں۔ اگر کوئی چھپ کر ایسا کام کرتا ہے تو وہ زیادہ دیر نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا۔ ممکن ہے کوئی یک ورقہ یا دو ورقہ کسی نے تقسیم کیا ہو لیکن اس میں جو کہا گیا ہے کہ خواتین محرم کے بغیر بازاروں میں نہ جائیں یہ قبائلی معاشرت کا حصہ ہے۔ جو کہا گیا ہے کہ قبائلی معاشرت کی تقریبات میں خوشی کے اظہار پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ تو اس وقت بھی نہیں لگائی تھی جب طالبان پوری قوت سے قبائلی علاقے میں موجود تھے۔ اگر کوئی ایسا پمفلٹ تقسیم کیا گیا تو اس کی بنیاد پر یہ کہہ دینا کہ قبائلی علاقے میں طالبان کی متوازی حکومت قائم ہو گئی ہے بے پرکی اُڑانے کے مترادف ہے۔ میڈیا والوں کو احتیاط برتنی چاہیے کہ ان کی ''بڑی'' خبر دینے کی کوشش بے جا تشویش یا اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں