Daily Mashriq

ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے

ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے

ہم ہر سال پشتو اور ہندکو کی بہترین کتابوں کے مصنفین کی خدمت میں پاکستان رائیٹرز گلڈ کے صوبائی ایوارڈز بڑے تزک و احتشام کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس کی مثال سال 2011 اور 2012 کے دوران شائع ہونے والی بہترین کتابوں کے کے لئے ایبٹ آباد میں منعقدہ تقریب تھی جس میں صوبائی وزیر مشتاق احمد غنی مہمان خصوصی تھے اور کمشنر ایبٹ آباد کرسی صدارت پر رونق افروز تھے۔ اس ہی سلسلہ کی دوسری تقریب رحمان بابا کمپلیکس میں منعقد کی گئی جس میں 2013 اور 2014کے دوران شائع ہونے والی پشتو اور ہندکو کی بہترین کتابوں کے مصنفین کو صوبائی گلڈ ایوارڈز دئیے گئے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ 2017 کے آتے آتے 2015اور 2016 کے ایوارڈز بھی تقسیم کردئیے جاتے۔ مگر افسوس کہ ہم ایسا نہ کرسکے کیونکہ بار بار کی یاد دہانیوں اور تحریری عرضداشتیں بھیجنے کے باوجود ہم گلڈ ٹرسٹ سے کما حقہ گرانٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے مبلغ پندرہ ہزار پاکستانی روپے کا کراس چیک 2015کے دوران شائع ہونے والی پشتو اور ہندکو کی بہترین کتابوں کے مصنفین کو صوبائی گلڈ ایوارڈز دینے کے لئے ارسال کئے سو ہم نے دستیاب بجٹ کے اندر رہتے ہوئے پشتو اور ہندکو کے کامیاب مصنفین کے ایڈریسز پر تین تین ہزار روپے کے کراس چیک اور اسناد اعتراف بھیج دیں۔ کسی کتاب کو سال کی بہترین کتاب قرار دینا اور اس کے مصنف کو صرف تین ہزار روپے کا چیک بھیجنا کسی بھونڈے مذاق سے کم نہیں تو اور کیا ہے۔ کیوں کر رہے ہیں ہم توہین زر کثیر خرچ کرکے اپنے خون جگر کو منصہ شہود پر لانے والے مصنفین کے ساتھ۔ اوپر تلے درخواست در درخواست ارسال کرنے کے بعد تخت لاہور والے ہمیں پندرہ ہزار پاکستانی روپے بھیج کر گویا حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہیں اور یوں ہمیں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر رقم بھیج کر ضمیر کی عدالت میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ پنجاب کے دارالخلافہ لاہور کے منٹگمری روڈ پر آرکائیو ویلیو کی حامل نہایت خوبصورت اور وسیع وعریض عمارت زبان حال سے گلڈ ٹرسٹ کے کروڑہا روپے مالیت کے اثاثوں کا ثبوت پیش کر رہی ہے۔ اگر ہم گلڈ کے ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو اس کی شان رفتہ کی داستانیں ہمیں بسنت کا اندھا بنا دیتی ہیں۔ جنوری1959میں اس کی پہلی رسم تاسیس منعقد ہوئی۔ جس میں صدر پاکستان بھی تشریف لائے لیکن انہیں اسٹیج پر آنے کی دعوت نہ دی گئی اور انہوں نے گلڈ کی رسم تاسیس کی پوری کی پوری کارروائی تقریب کے سامعین میں بیٹھ کر سنی بھی اور دیکھی بھی۔ 1959 میں راقم السطور کی عمرآٹھ یا نو برس کی تھی، وہ پشاور کے ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول کا ملیشیا پوش اور ٹاٹ نشین بچہ تھا۔ وہ تو وہ اس کے فرشتے بھی گلڈ کی پہلی رسم تاسیس سے آگاہ نہ ہو پاتے اگر یہ سب باتیں بابائے گلڈ سردار خان فنا اسے نہ بتاتے۔ اللہ رکھے بقید حیات ہیں اور شنید ہے کہ طویل علالت کے سبب اپنے گنبد ذہن میں محفوظ بہت سی قیمتی یادیں گنواچکے ہیں۔آپ گلڈ کے صوبائی سیکرٹری ہونے کے علاوہ رائیٹرز گلڈ صوبہ خیبر پختون خوا کے بانی اراکین میں شمار ہو تے ہیں۔ یہ ان ہی کی نظر التفات تھی جس کی بدولت راقم السطور نے گلڈ کی مجلس عاملہ کی رکنیت اختیار کی۔ نسیم درانی گلڈ کے سیکرٹری جنرل کا منصب حاصل کرنے کے بعد سالہا سال تک خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگے اور یوں ہمارے پرکھوں کی نشانی پاکستان رائٹرز گلڈ کبھی نہ ختم ہونے والے جمودکا شکار ہوکر رہ گئی۔ اور پھر اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ گلڈ کو فعال کرنے کے لئے ہمیں گلڈ کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن کی حیثیت سے جہاز کا ٹکٹ بھجواکر کوئٹہ طلب کیا گیا۔ راقم السطور کے ہمراہ گلڈ کے صوبائی خازن اور مرکزی مجلس عاملہ کے رکن فقیر حسین مسرور بھی تھے جب کہ قیادت سردار خان فنا ہی کر رہے تھے۔ کوئٹہ میں پنجاب اور سندھ سے بھی مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین اور ٹرسٹی آئے۔ ہم سب نے مل کر کوئٹہ کے محمد اسماعیل بلوچ کو90 دن کی مدت کے لئے عبوری سیکرٹری جنرل چنا اور انہیں جنرل باڈی کا اجلاس بلانے اور حسب روایت خفیہ بیلٹ پیپرز کے ذریعے سیکرٹری جنرل کے چناؤکا اختیار دیا۔ مگر وائے افسوس کہ محمد اسماعیل بلوچ90 دن تو کیا90مہینے گزارنے کے بعد بھی اپنا وعدہ وفا نہ کرسکے۔ سردار خان فنا گلڈ کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ہر بارگلڈ کی ساکھ کو پہنچائے جانے والے نا قابل تلافی نقصان کا رونا روتے رہے۔ اور وہ جو کسی نے کہا ہے کہ
ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
روز روز کا رونا سردار خان فنا کی صحت کو لے ڈوبا۔ وہ صاحب فراش ہوکر گوشہ تنہائی میں چلے گئے۔ گلڈ کی صوبائی مجلس عاملہ نے ان کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے گلڈ کے صوبائی سیکرٹری کے منصب کے لئے قرعہ فال راقم السطور کے نام نکالا اور ہم سر تسلیم خم کرتے ہوئے ریت کے رسے بننے لگے۔گلڈ کی گاڑی کو چلتا کرنے کے لئے ہم متعدد بار لاہور کا سفر کرچکے ہیں۔ ایک بارپروفیسر اسیر منگل کے ساتھ، ایک بار فقیر حسین مسرور کے ساتھ اور شاید دوبار تن تنہا۔ اللہ کے فضل و کرم سے صوبائی سطح پر ہم اپنا منصبی فریضہ بحسن و خوبی نبھا رہے ہیں۔ لیکن بہترین کتابوں کے مصنفین کو تین ہزار روپے کا چیک بھیجنا ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے۔ ہم تخت لاہور کے شہنشاہ سفید و سیاہ سے دست بستہ عرض گزار ہیں کہ وہ گرانٹ میں مقدور بھر اضافہ کرنے کے علاوہ درخواست در درخواست کے مرحلے طے کروانے کی بجائے خودکار نظام کے تحت بھیجنے کا اہتمام کریں تاکہ کم از کم صوبائی سطح تک ہی سہی ،گلڈ کا نام ونشان باقی رہ جائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر ہمیں کہنے دیں کہ۔
چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
کیا فائدہ کہ جیب کو رسوا کرے کوئی

اداریہ