پاکستان کو چین کامشورہ

پاکستان کو چین کامشورہ

تین عشروں سے ملک کے سیاہ وسفید کی مالک دو سیاسی جماعتیں ہیں جو باریاںبدل بدل کر اقتدار میں رہتی ہیں ۔پروپز مشرف کے مختصر عرصہ اقتدار کو نکال کر اگر جائزہ لیا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ہی اقتدار میں رہی ہیں ،عوام یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ جب پیپلز پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو مسلم لیگ (ن) پر الزام عائد کرتی ہے اور مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آتی ہے تو پی پی پی الزامات کی بوچھاڑ کرتی ہے۔ ایک دوسرے پر الزام عائد کرکے اصل میں وہ اندر سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے تاکہ کوئی تیسری پارٹی ان کے درمیان نہ آجائے اور جب وہ اقتدار میں آتی ہیں تو اپنے وہ تمام الزامات بھول جاتی ہیں جو انہوں نے حزب اختلاف کے دور میں لگائے ہوتے تھے کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ انہوں نے جو الزام لگائے تھے وہ غلط تھے ۔پیپلزپارٹی کے سابقہ دور حکومت میں اس کی ایک جھلک دیکھنے کو ملی جب نواز شریف کی پارٹی پر فرینڈلی اپوزیشن کے الزامات عائد ہوئے ،مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کے شروع والے سالوں میں پی پی پی پر بھی ایساہی الزام لگا کہ یہ سابقہ دور کا قرض چکا رہے ہیں،کبھی احتساب بیورو بنایا گیا کبھی احتساب کمیشن بنانے کا اعلان کیا گیا۔ پرویز مشرف نے احتساب بیورو کا نام قومی احتساب بیورو رکھ دیا۔ فوجی حکومت ہونے کے باوجودمشرف دورمیں ایسا احتساب نہیں کیا گیاجس کی مثال دی جائے۔ بلکہ پرویزمشرف نے پاکستا ن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ این آراوجاری کیا، جس کے تحت پاکستا ن پیپلزپارٹی کے سات ہزاراورایم کیوایم کے بارہ ہزارسنگین جرائم ومالی بدعنوانیوں کے مقدمات واپس لیے گئے۔اس این آراوکاخمیازہ قوم آج بھی بھگت رہی ہے۔پرویز مشرف کے بعد پی پی پی نے وفاق اور سندھ میں حکومتیں بنائیں ، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) نے حکومت بنائی۔ 2013 ء کے عام الیکشن کے بعد مسلم لیگ (ن) نے وفاق اور پنجاب میں جبکہ پی پی پی نے سندھ میں حکومتیں بنائیں جو اب اپنی مدت مکمل کرنے والی ہیں۔ لیکن اب گزشتہ چھ ماہ سے جو احتساب شروع ہوا ہے اس سے ملک کی دو بڑی پارٹیاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) چیخ اٹھی ہیں ایسا کیوں ہورہا ہے؟ آخر ایسا کیا ہوگیا کہ دونوں پارٹیوں کو احتساب پر احتجاج کرنا پڑرہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاست نے زمینی حقیقت دیکھ کر ملک میں احتساب کے عمل کی حمایت کی ہے اور غیر جانبدارانہ احتساب شروع کرایا ہے۔جب ریاست نے احتساب پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیا اور تمام اداروں پر واضح کیا کہ اب کسی سے رعایت نہیں ہوگی اور احتساب سب کا ہوگا تو اب سب کو کپکپی لگ گئی ہے۔ آصف زرداری اور ان کی پارٹی تو اس وقت مسلم لیگ (ن) سے زیادہ پریشان ہیں اس کی پہلی جھلک سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کی گرفتاری کے وقت نظر آئی۔ شرجیل میمن کی گرفتاری کے بعد آصف زرداری، فریال تالپور نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔اس وقت نیب کے پاس پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے 700 سے زائد رہنماؤں کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں جس سے نوازشریف اور آصف علی زرداری کی پریشانی فطری ہے اب ریاست کے واضح موقف کے بعد کوئی بھی سیاسی جماعت عدالت یا نیب کو دباؤ میں نہیں لا سکتی، پہلے تو سپریم کورٹ پر بھی حملے ہوئے تھے، عدالتوں پر دباؤ ڈالا گیا لیکن اس وقت ریاستی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے تھے مگر اب حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔اب ریاستی ادارے جاگ چکے ہیں۔ سب کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہیں۔ قانونی جنگ لڑیں اور اگر انہوں نے آنکھ دکھانے کی کوشش کی تو پھر ان کو ایک نہیں چار آنکھیں دکھائی جائیں گی۔ لگتا ہے اب سیاسی جماعتوں نے صورتحال کو بھانپ لیا ہے۔ عمران خان نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دو چار دن دھمکیاں دیں لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس دھمکی کا نقصان خود ان کو ہی ہوگا تب ان کی آنکھیں کھلیں اور جاکر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے معافی مانگ لی۔ملک بھر کے عوام احتساب پر خوش ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جس نے بھی لوٹ مار کی ہے۔ اس کا کڑا احتساب ہونا چاہئے اور کسی سے بھی رعایت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اب ملک کی ترقی اسی میں ہے کہ کرپشن سے پاک ملک ہونا چاہئے۔ سی پیک پر کام کرنے والے پاکستان کے برادر ملک چین نے بھی پاکستان پر واضح کیا ہے کہ اب کرپشن کودفن کرکے نئے پاکستان کی تعمیر کی جائے،چین نے چونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور آئندہ بھی بڑی سرمایہ کاری ارادہ رکھتا ہے اسلئے اس کے خدشات درست ہیں کیونکہ کرپشن سے پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کو بھی نقصان ہوگا۔ اس لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے اس ملک کی بنیادیں کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوں۔ اسی مشورے پر ریاستی اداروں نے عمل کر دکھایا ہے مگر اس کے بر عکس سیاسی جماعتیں احتجاج کررہی ہیں۔

اداریہ