Daily Mashriq


اصل مسئلہ مغرب کا مخمصہ ہے

اصل مسئلہ مغرب کا مخمصہ ہے

جنیوا میں منعقدہ اجلاس میں عالمی ادارے یونیورسل پریوڈک رویو کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد امریکہ نے ختم نبوت قانون اور سزائوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے تنسیخ کا مطالبہ کیا ہے ۔یہ مطالبہ امریکی نمائندے جیز بریسٹن اسٹریسٹ نے کیا اورکہا پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔امریکہ کا یہ مطالبہ نیا نہیں بلکہ وہ اس پر مسلسل ایک دبائو قائم رکھے ہوئے ہے اور اسی دبائو کے ردعمل میں پاکستان میں وقتاََفوقتاََ کئی تحریکیں چلتی ہیں۔مغربی دنیا نے ہر دور میں اپنی ضرورت اور پسند وناپسند کے مطابق اسلام کو اپنے معانی پہنانے کے ساتھ ساتھ اپنے نام بھی دئیے ۔جس سکول آف تھاٹ سے مغربی تہذیب کی پنجہ آزمائی ہوئی اسے نشان زدہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک برا نام بھی دیا گیا۔ مصر میں اخوان المسلمون سے ناراض ہوئے تو اس پر بنیاد پرست اسلام کا لیبل لگا دیا گیا ۔افغانستان میں طالبان اور عرب دنیا میں ریڈیکل سوچ سے خطرہ ہوا تو اس پر وہابی اور ملی ٹینٹ اسلام کی پھبتی کسی گئی ۔ایران میں انقلاب سے خوف زدہ ہوئے تو شیعہ اسلام کے خطرے کی گھنٹیاں بجائی جانے لگیں۔ان سب سے مختلف مقامات پر پنجہ آزمائی کرتے کرتے مغربی شہ دماغ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اب اچھا اور پرامن اسلام صرف صوفی اسلام ہے ۔جس میں تشدد کا عنصر نہ ہونے کے برابر ہے ،کشمکش اور جدوجہد کی بجائے خانقاہی زندگی کا تصور غالب ہے ۔ان کے خیال میں ایک صوفی زمانے کے ہنگاموں سے دور اپنی ذات میں گم رشد وہدایت کی وادیوں کا مسافر ہوتا ہے۔ اسی تصور کے تحت افغانستان میں امریکہ اور مغربی فوجی اتحاد کو شکست ہوتی گئی تو عالمی سطح پر صوفی اسلام کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔یہ ایک عالمی پراجیکٹ تھا اس لئے پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہی کی سرپرستی میں ایک صوفی کونسل بھی قائم ہوئی اور سرکاری سطح پر محافلِ سماع سجانے کا سلسلہ بھی فروغ پانے لگا۔ ماضی قریب میں بھی سرکاری سطح پر صوفی اسلام کو فروغ دے کر معاشرے سے شدت اور انتہا پسندی ختم کرنے کی یہ کوششیں جاری تھیں کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کا واقعہ ہوا اور یوں صوفی اسلام اور سنی اسلام کو عالمی چھتر چھائے میں فروغ دینے کی پالیسی کو بریک لگ گئی ۔جب یہ معلوم ہوا کہ سلمان تاثیر کو قتل کرنے والا کسی دیوبندی مدرسے کا طالب نہیں بلکہ نعت خواں اور درودوسلام کی محفلوں میں وقت گزارنے اور ایک سنی عالم دین کے خطابات پر سر دھننے والا پنجاب پولیس کا جوان ممتاز قادری نام کاشخص ہے تو صوفی اسلام کو فروغ دینے کی باتیں کرنے والے انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے ۔اس واقعے میں مغرب کے لئے ایک اہم سبق یہ تھا کہ اسلام حقیقت میں ایک ہے ۔جس کا ماخذ اور سرچشمہ ایک ہے ۔ جس کے سوتے اسی منبع سے پھوٹتے ہیں ۔اس میں شدت بھی ایک حد تک ہے اورملائمت کی بھی ایک حد ہے ۔یہ حالات کے مطابق بریشم کی طرح نرم بھی ہوتاہے اور فولاد کی صورت میں بھی ڈھل جاتا ہے ۔جس کا تعلق اس کے سنی ،شیعہ ،بریلوی ،دیوبندی سے نہیں بلکہ حالات سے ہوتا ہے ۔فرق صرف تشریحات کا ہے۔اکثر اوقات اس میں شدت کا تعلق ردعمل سے ہوتا ہے ۔جب مغرب کسی سوچ کو دبانے اور اپنی سوچ کو مسلط کرنے کی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کرتا ہے تو کوئی حلقہ حساسیت کا مظاہرہ کرکے اس پر ردعمل دکھاتا ہے اور یوں اسے مستقل طور پر نشان زدہ کرنے کے لئے ایک مخصوص لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے ۔سلمان تاثیر کے قتل کے بعد صوفی اسلام کے فروغ کی کوششیں ہوائوں میں تحلیل ہو گئیں۔ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت ہوگیا لاہور سے ایک سفید ریش عالم دین کی قیادت میں ایک کارواں راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان میں فیض آباد کے مقام پر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے ۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ان کے مطالبات اور احتجاج کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہا مگر راولپنڈی اسلام آباد کے وسط فیض آبا د میں بیٹھے یہ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور توجہ حاصل کئے ہوئے ہیں ۔ یہ ایک'' چارجڈ ''ہجوم ہے جو معمولی سی لغزش کے باعث تشدد کے راستے پر نکل سکتا ہے ۔ثابت یہ ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی گروہ شدت پسند نہیں ہوتا یہ حالات کا اثر ہوتا ہے جو انہیں ردعمل میں شدت کے راستوں پر گامزن کرتا ہے ۔دھرنے والوں کا خیال ہے انتخابی قوانین میں ترمیم کے نام پر ناموس ِرسالت کی شق پر ہاتھ کی صفائی بھول چوک یا سہو نہیں بلکہ ایک طویل عمل کی ابتدا اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھی ۔اگر یہ سہو تھا تو نظر انداز کرنے کے قابل بھی نہیں تھا اس لئے اس دانستہ یا نادانستہ غلطی کے مرتکب شخص کو عہدے سے مستعفی ہونا چاہئے ۔دھرنے والوں کا پہلا مطالبہ وزیر قانون زاہد حامد کی برطرفی ہے جو ان کے مطابق انتخابی حلف نامے سے ختم نبوت کی شق کو ختم کرنے کے محرک تھے ۔دھرنے والے اسلام آباد اور راولپنڈی کے عوام کے لئے مشکلات پیدا کئے ہوئے ہیں ۔ یہ سوال عمومی طور پر پوچھا جا رہا ہے اب جبکہ انتخابی حلف نامے میں ناموس ِرسالت سے متعلق نکات بحال کردئیے گئے تو وہیل چیئر والے مولانا کا پیروکارو ں کے ہمراہ دھرنا دینا آمدورفت کے لحاظ سے لاکھوں شہریوں کو مشکل میںمبتلا کرنے کاکیا جواز رکھتا ہے ؟عین اس وقت امریکیوں نے ناموس رسالت کے قوانین کے خاتمے پر زور دے کر سار ا مخمصہ دور کرنے کے ساتھ ساتھ سارے سوالوں کا جواب دے دیاہے۔

متعلقہ خبریں