مشرقیات

مشرقیات


حضرت ابراہیم بن ادہم بلخ کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی کنیت ابو اسحاق ہے۔ اولیائے کرام میں بہت اونچے مقام پر فائز ہیں۔ حضرت جنید بغدادی آپ کی توصیف میں فرماتے ہیں: ''علوم کی چابیاں حضرت ابراہیم ہیں۔'' ایک مرتبہ حضرت ابراہیم بن ادہم حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کی مجلس میں حاضر تھے تو بعض لوگوں نے حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھا۔ لیکن حضرت امام ابو حنیفہ نے انہیں سیدنا (ہمارے سردار) کہہ کر خطاب فرمایا اور اپنے نزدیک جگہ دی۔ لوگوں نے سوال کیا کہ انہیں سرداری کیسے حاصل ہوئی؟ تو حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نے فرمایا: ان کا مکمل وقت ذکر و شغل اور وظائف میں گزرتا ہے اور ہم دنیاو مشاغل میں بھی حصہ لیتے رہتے ہیں۔ (تذکرة الاولیا جلد 1ص 85فارسی)
ایک دفعہ آپ شکار کے لئے باہر جنگل میں نکل گئے۔ ہاتف غیبی نے آواز دی: اے ابراہیم تو اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیا۔
آپ یہ آواز سنتے ہی متنبہ ہوئے' تمام مشاغل کو ترک کردیا' طریقت کی راہ اختیار کی اور حصول طریقت پر سختی سے کار بند ہوگئے۔ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ وہاں حضرت سفیان ثوری ' حضرت فضیل بن عیاض اور حضرت ابو یوسف غسولی سے استفادہ کیا اور ان حضرات کی خدمت میں کچھ وقت گزارا۔ مکہ مکرمہ سے کچھ عرصہ کے لئے ملک شام کا رخ کیا اور وہاں رزق حلال کے حصول کے لئے مصروف کار ہوئے۔ آپ باغات کی نگہبانی کرکے رزق حلال کماتے تھے۔ (تذکرة الاولیا جلد 1ص 85فارسی)
آپ نے کسی سے سوال کیا: تم جماعت حق میں شمولیت چاہتے ہو؟ اور جب اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ دنیا و آخرت کی رتی بھر پروانہ کرتے ہوئے خود کو مخلوق سے خالی کرلو اور رزق حلال استعمال کرو' پھر فرمایا کہ صوم و صلواة اورجہاد و حج پر کسی کو جوانمردی کا مرتبہ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک وہ یہ محسوس نہ کرلے کہ اس کی روزی کس قسم کی ہے۔ روایت ہے کہ کسی نے آپ سے ایک صاحب و جد اور عبادت و ریاضت میں مشغول رہنے والے نوجوان کی بہت تعریف کی۔
چنانچہ اشتیاق ملاقات میں جب آپ اس کے یہاں پہنچے تو اس سے آپ نے تین یوم کے لئے مہمان رکھنے کی استدعا کی اور جب آپ نے تین یوم میں اس کے احوال کا مطالعہ کیا تو محسوس ہوا کہ اس کی جتنی تعریف سنی تھی اس سے کہیں زیادہ بہتر ثابت ہوا اور یہ دیکھ کر آپ نے اس سے اپنے یہاں تین یوم مہمان ہونے کا مطالبہ کیا اور اس کو ہمراہ لا کر کھانا کھلایا جس کے بعد اس کی پہلی سی حالت باقی نہ رہی اور جب اس نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا کردیا ہے؟ تو فرمایا کہ تجھے رزق حلال حاصل نہ ہونے کی وجہ سے شیطان کی کار فرمائیاں جاری تھیں۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ تمام عبادت و ریاضت کا تعلق صرف رزق حلال پر موقوف ہے۔

اداریہ