Daily Mashriq

دوست ملکوں کے امدادی پیکیج اور آئی ایم ایف سے معاملت

دوست ملکوں کے امدادی پیکیج اور آئی ایم ایف سے معاملت

وزیر اعظم عمران خان کے متحدہ عرب امارات کے ایک روزہ دورے سے کافی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کو اقتصادی مشکلات سے نکلنے کے لیے کوئی بڑا امدادی پیکیج دے گا۔ پچھلے دنوں یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ یہ پیکیج سعودی عرب کی امداد کے ہم پلہ ہو گا۔ وزیر اعظم کا دو ماہ کے دوران امارات کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ پی ٹی آئی کی نئی حکومت ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے جن مشکلات سے نبرد آزما ہے انہیں کم یا ختم کرنے کے لیے دوست ملکوں نے تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ سعودی عرب سے تین بلین ڈالر پاکستان کے بینک میں جمع کرانے اور اتنی ہی رقم کا تیل تین سال تک مؤخر ادائیگیوں کے عوض حاصل کرنے کے معاہدے سعودی پیکیج میں شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر ایک دو روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے ۔ ایسا ہی ایک پیکیج چین کی طرف سے بھی حاصل ہوا ہے جس کی اگرچہ تفصیل عام معلومات کا حصہ نہیں ہے تاہم کہا گیا ہے کہ چین کا پیکیج سعودی عرب کے پیکیج سے بڑا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے دنوں کہا تھا کہ دوست ملکوں کے تعاون سے پاکستان ادائیگیوں کے بحران سے نکل گیا ہے اور اب ترقیاتی کاموں کی طرف توجہ دی جائے گی۔ وزیر اعظم کا محولہ بالا دورہ ان کے اس اعلان کے بعد کی بات ہے۔ دریں اثناء آئی ایم ایف سے بھی امدادی پیکیج کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔حکومت کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ دوست ملکوں سے ملنے والی امداد کے باعث آئی ایم ایف سے نسبتاً چھوٹے امدادی پیکیج کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔ تاہم ان مذاکرات سے پہلے ہی حکومت نے متعدد ایسے معاشی اقدامات کر دیے تھے جو بالعموم آئی ایم ایف کی متوقع شرائط کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے ملنے والے متوقع پیکیج کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی یہ اندازہ کیا جائے گا کہ حکومت آئی ایم ایف سے کس سائز کے پیکیج کے لیے معاملت کرتی ہے ۔ آئی ایم ایف سے پیکیج لینے کا ایک فائدہ وزیر خزانہ نے یہ بیان کیا ہے کہ اس کے بعد قرضہ دینے والے دیگر بین الاقوامی اداروں سے معاملت کرنے میں آسانی ہو جائے گی ۔ جب حکومت کے اقتدار میں آنے کے تھوڑے عرصے بعد آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی بات چلی تھی تو امریکہ کے صدر ٹرمپ نے آئی ایم ایف کو اس کے خلاف انتباہ کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے وصول ہونے والی رقوم سے چین کے قرضوں کی ادائیگیاں کرے گا اور امریکی ڈالروں کو چین کی ادائیگیوں کے لیے استعمال نہیںہونا چاہیے۔ صدر ٹرمپ کا یہ مفروضہ بے بنیاد تھا کیوں کہ پاکستان نے چین کو اگر کوئی ادائیگیاں کرنی ہیں تو وہ تین سال بعد شروع ہوں گی اور تب تک آئی ایم ایف کے امدادی پیکیج کی مدت ختم ہو چکی ہو گی۔ لیکن اب پاکستان کے لیے دوست ملکوں کے تعاون کے حصول کے بعد امریکہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کے لیے بہترین آپشن ہے اور امریکہ اس حوالے سے مدد کرے گا۔ امریکی سفارت خانے میں اقتصادی معاون مائیکل سلی وان نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان کو مستحکم ترقی کے لیے معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور آئی ایم ایف اس حوالے سے بہترین آپشن ہے۔ اس سوال پر کہ آیا آئی ایم ایف سے پاکستان کی درخواست کے حوالے سے حمایت کرے گا تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ امریکہ کی سوچ میں اس تبدیلی کی وجوہ کیا ہیں ان سے قطع نظر حکومت چین' سعودی عرب سے امداد کے حصول کے لیے معاہدات کر چکی ہے اور توقع ہے کہ متحدہ عرب امارات سے حوصلہ افزاء پیکیج ملے گا۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے بھی امدادی پیکیج کی راہ میں صدر ٹرمپ کے تحفظات حائل نہیں ہوں گے۔ اس لیے امدادی قرضے ملنے کی توقعات مضبوط ہیں۔ ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ پاکستان کو بارہ ارب ڈالر کی کمی کا سامنا تھا۔ جیسے کہ سطور بالا میںکہا جا چکا ہے کہ متحدہ عرب امارات جانے سے چند روز پہلے ہی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ادائیگیوں کے توازن کی ضروریات پوری ہو چکی ہیں اب حکومت دیگر امور کی طرف متوجہ ہو گی۔ بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کے علاوہ بھی پاکستان کی اقتصادی مشکلات کم نہیں ہیں۔ ایک کھرب روپے کا گردشی قرضہ واجب الادا ہے۔ پی آئی اے اور سٹیل ملز ایسے بڑے سرکاری اداروںکو بحال کرنے کے لیے امدادی رقوم چاہئیں۔ ممکن ہے ایسی ہی وجوہ کی بنا پر دوست ملکوں کے امدادی پیکیج کے علاوہ آئی ایم ایف سے معاملت جاری رکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ معاملات کہاں تک پہنچے اور آئی ایم ایف نے پیکیج کے لیے کیا شرائط عائد کی ہیں ان کی تفصیل نہیں بتائی جا رہی تاہم بعض اخبارات کے مطابق آئی ایم ایف نے دیگر شرائط کے علاوہ روپے کی قدر میںمزید کمی اور شرح سود میں اضافے کی تجاویز پیش کی ہیں۔ روپے کی قدر پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہے اب اگر اس پر کوئی سرکاری کنٹرول نہیںکیا جاتا تو یہ شرح ایک ڈالر کے مقابلے میں ایک سو پچاس روپے تک جا سکتی ہے۔ اس سے مہنگائی میں جو اضافہ ہو گا وہ عوام کی سکت سے باہر ہو گا۔ حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی بجلی ' گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے بھی ایسے ہی مطالبات کیے جاتے ہیں۔ ان وجوہ کی بنا پر مہنگائی میں بے لگام اضافہ ہو رہا ہے۔کسانوںکو بجلی' کھاد اور بیج پرسبسڈی نہیں ملے گی تو ان کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا۔اور آئندہ فصل تک مہنگائی کے ایک اور ریلے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ روپے کی قدر میںکمی کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے اور درآمدات میں کمی لیکن یہ نہیںبتایا جاتا کہ اس کمی اور اضافے کا حاصل کیا ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے صنعتوںکونقصان پہنچا ہے ' ان کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے تو یہ کہنا کہاں تک جائز ہے کہ برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارا ملک زرعی ملک ہے۔ اسی پر انحصار کیا جاناچاہیے، زرعی اجناس کی پیداوار میں زراعت کے لیے سہولتیں دے کر دو سے تین گنا اضافہ ہو سکتا ہے وہ بھی بغیر مشینری کی بڑی تعداد درآمدکیے۔ زرعی اجناس بھی زرِمبادلہ کما سکتی ہیں 'زیادہ ترانحصار انہی پر کیا جانا چاہیے تاکہ آج جو قرضے لیے جا رہے ہیں ان کی ادائیگی بروقت کی جا سکے۔ اپوزیشن مطالبہ کر رہی ہے کہ دوست ملکوں سے جو پیکیج لیے گئے ہیں ان کے ساتھ اگر کوئی شرائط وابستہ ہیں تو انہیں پارلیمان میں لایا جائے۔ یہ ایک جائز مطالبہ ہے تاکہ پارلیمنٹ کی بحث کے ذریعے عوام کو معلوم ہو سکے کہ موجودہ بحرانی کیفیت سے ملک کو نکالنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے اور ان اقدامات کی عوام کو کیا قیمت کب تک ادا کرنی پڑے گی۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے گزشتہ روز ایوان میںمطالبہ کیاکہ آئی ایم ایف سے جو امدادی پیکیج اور اس کی شرائط طے کی جا رہی ہیں انہیں ایوان میںپیش کیا جائے۔ یہ مطالبہ نظر انداز نہیںکیاجانا چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان چند روز میں اپنی حکومت کے سو دن کی کارکردگی پیش کرنے والے ہیں' امید کی جانی چاہیے کہ یہ کارکردگی قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی ' اس میں امدادی پیکیجز کے معاہدوں کی تفصیلات بھی بیان کی جائیں گی۔ یہ بھی بتایا جائے گا کہ حکومت کتنے قرضے یا امداد لینے کے معاہدے کر چکی ہے 'کتنی مزید امداد درکار سمجھتی ہے۔ اس کی شرائط کیا ہوں گی ' اس کو بروئے کار لانے کے کتنے منصوبے ہیں اور ادائیگی کی شرائط کیا ہیں۔ تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ کب تک ان کی مشکلات جاری رہیں گی اور کب خوشحالی کی طرف اقدامات شروع کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں