Daily Mashriq

احتساب کی رفتار

احتساب کی رفتار

وزیر اعظم کے مشیر احتساب نے کہا ہے کہ شریف فیملی کی لندن میں مزید جائیدادوںکا پتہ چلا ہے جن کا ذکر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے انتخابی گوشواروں میں نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے چار نئے مقدمات نیب کے حوالے کیے جا رہے ہیں ۔ میاں نواز شریف کے خلاف ایک عرصہ سے کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں جن کے فیصل ہونے کی سپریم کورٹ کی مقرر کردہ تاریخ میں نیب عدالت التوا حاصل کرتی جا رہی ہے۔ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ اس تاخیر کی وجہ ملزموں کے وکلاء کی حکمت عملی ہے تو بھی انصاف میں تاخیر تو ہو رہی ہے۔ اب جو چار نئے کیسر سامنے آ گئے ہیں ان کے باعث مزید کارروائی ہو گی۔ دوسری طرف پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے خلاف بھی مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ن لیگ کے لیڈروں کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے جب کہ محض پاناما دستاویزات کے حوالے سے کئی سو افرادایسے شمار ہو سکتے ہیں جن کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ پھر اخبارات میں اپنے بینک اکاؤنٹس سے لاعلم کم وسیلہ اکاؤنٹ ہولڈروں کے کھاتوںمیںلاکھوں کروڑوں روپے کے لین دین کی خبریں آ رہی ہیں ۔اب پتہ نہیںکہ کتنے اور ایسے غریب لاعلم کھاتے داروںکے نام سامنے آئیں گے ۔ ایک طرف متوقع ملزموںکی تعداد بڑھتی جا رہی ہے 'دوسری طرف احتساب کی رفتار نہایت سست ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا احتساب بیورو کی تفتیشی ٹیم میں ضرورت سے کم اہلکار ہیں یا ریفرنس دائر کرنے والوں کی تعداد کم ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''نیب سب کا احتساب کرے یا سب کو چھوڑ دے''۔ بعض لوگوں کے احتساب اور بعض دیگر لوگوں کے احتساب کی طرف عدم توجہی سے نظامِ انصاف پر حرف آتا ہے۔ اس وجہ سے نیب کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار جنم لے رہا ہے۔ احتساب سے عدم توجہی نظام عدل کی ناکامی تصور کی جا سکتی ہے جب کہ نظام عدل ہی کسی معاشرے کو توانا رکھ سکتا ہے اور اسے آگے بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے احتساب کے حوالے سے اصلاحات پر غور کرتے ہوئے احتساب بیورو کو بینکنگ اورمالیاتی معاملات میں مہارت رکھنے والے اہل افراد فراہم کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے اور مالیاتی عدالتیں قائم کرنے پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ بیشتر مقدمات سپریم کورٹ تک جانے کی بجائے مناسب سطح پر ہی فیصل ہو جائیں۔

متعلقہ خبریں