Daily Mashriq


ایک کتاب ایک نعت

ایک کتاب ایک نعت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کی ذات مبارک کے بارے سوچتا ہوں تو حیرتوں کا ایک سلسلہ رواں ہوجاتا ہے کہ ذات گرامی کو اللہ نے کیسے کیسے کمالات ودیعت فرمادیے تھے ۔ آپ دنیا کے عظیم ترین انسانوں کی سرگزشت کا مطالعہ کرلیں تو ان عظیم شخصیات کی زندگی میں جہاں بہت بڑی بڑی کامیابیاں درج ہوں گی وہیں ان کے کھاتوں میں ناکامیاں بھی دکھائی دیں گی ۔مگرنبی کریم ۖ کی ذات اقدس کو جس حوالے سے بھی دیکھا جائے تو اس میںعظمت اور کاملیت ہی دکھائی دے گی ۔والد کی حیثیت سے دیکھا جائے تو بی بی فاطمة الزہرا کی تربیت اور ان سے نبی ۖ کی محبت کا عالم مثالی دکھائی دیتا ہے ۔ شوہر کی حیثیت سے دیکھا جائے تو یہاں بھی رشتوں کے نبھاہ میں آپۖ شاندار اور کاملیت کے درجے پر فائزدکھائی دیں گے ۔ سپہ سالار اور سیاست دان کی حیثیت سے دیکھیں تو حجرت مدینہ سے فتح مکہ تک کا عرصہ ان کے تدبر کی گواہی دے گا۔نبی کی حیثیت سے دیکھو تو اپنے صحابہ کرام کو اپنے ہی رنگ میں رنگ دیا اور اتنا پاک اور باصفاکردیا کہ سب کے سب رہتی دنیاتک باوقار گردانے جائیں گے ۔ اور یہ کیا معجزہ نہیں کہ جس نے بھی کلمہ پڑھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہوگیا،انہیں دیکھے بغیر ہی ہر مسلمان ان سے محبت کرتا ہے ۔

نبی کی محبت کا اظہار بھی ایک مستقل سلسلہ رہا ہے ۔فرزندان توحید نے ہر دور میں عشق محمدی ۖ سے سرشار ہوکر اپنے نبی آخرالزماںۖ کی شان میںقصائد ونعت تحریر کیے ہیں ۔یہ سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کی حیات ہی سے شروع ہوچکا تھا جو یقینا قیامت تک جاری رہے گا۔یہ مہینہ کہ جس میں اللہ نے نبی کریم ۖ کی ولادت فرمائی بے شک یہ مہینہ انسانیت کو نئے امکانات سے روشناس کروانے کا باعث بنا اور انسانیت کو علم و آگہی اورتوحید کی اصل حقیقتوں سے ہمکنار کرگیا۔ استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر فقیرا خان فقری کے آٹھویں شعری مجموعے ''قفس گردوں ''کے پہلے صفحے پر درج نعت شریف نے ایسا پکڑا کہ دل و دماغ ماضی کے جھروکوں سے ہوتاہوا مدینہ و مکہ کے بیابانوں کی سیر کو نکل گیا۔ سیرت نبویۖ کے سارے واقعات آنکھوں کے سامنے پھر گئے ۔ ڈاکٹر فقیراخان خود بھی ایک عاشق رسول ۖ ہیں۔مدینہ شہر ان کے عشق کا مستقل موضوع رہا ہے ۔ ان کی غزل یوں تو معروضی حالات و واقعات کا بیان دکھائی دیتی ہے جسے وہ بڑے دبنگ انداز میں بیان کرجاتے ہیں لیکن نعت میں ان کی احتیاط دیدنی ہوتی ہے ۔حب رسول میں وہ اپنی نفی کرجاتے ہیں اور یہی عشق کا ارفع و اعلیٰ مقام ٹھہرتا ہے ۔

آج فرعون کی سرکوبی کو

ہاتھ میں ہم بھی عصا رکھتے ہیں

سر سے بپھری ہوئی لہر دبوچی ہم نے

حوصلے بڑھتے رہے اور بھی طوفانوں میں

گلوں کی آنکھ تر ہے آنسوؤں سے

کوئی تتلی گئی ہے گلستاں سے

افلاک سے چھنتا ہے نور مدینے میں

دو چار نہیں بلکہ سو طور مدینے میں

کسی محمل سے کو ئی چاند مسکائے

زمانے سے گزرتا سارباں میں ہوں

ہمیشہ کے لیے ،مکھ موڑ جاتے ہیں

ہمارے پیارے ہم کو چھوڑ جاتے ہیں

فقط حسرت بھری دو ہچکیاں لے کر

ہمارے سامنے دم توڑ جاتے ہیں

کبھی افلاک میرے زیر پر تھے پر

زمین پر آج بے مقدور بیٹھا ہوں

نظر خو د کو نہ آجاؤ ں کہیں فقری!

میں اپنے آپ سے مستور بیٹھا ہوں

''قفس گردوں'' کی چھوٹی اور بڑی بحر کی غزلوں میں مذکورہ بالا اشعار جیسے بہت سے دل کھینچنے والے اشعار موجود ہیں لیکن میرا ہاتھ بار بار صفحے الٹ الٹ کرمجھے نعت کی طرف لے آتے ہیں اور پھر یہ اشعار مجھے کہیں اور لے جاتے ہیں آپ بھی مزہ لیجئے ان خوبصورت اشعار کا ۔۔

نعت

سرکار ِ دوعالم کے سب فیض کا عالم ہے

کوئی بھی نہیں ہوتا مجبور مدینے میں

فردوس کو جانے دو فردوس میں کیا کرنا

جنت سے زیادہ ہوں مسرور مدینے میں

طیبہ کے شرارے بھی سب چاند ستارے ہیں

ہوجاؤں تمنا ہے مستور مدینے میں

سردارِ دوعالم کو دکھ درد سناتاہوں

روتا ہوں گھٹا بن کر گھنگھور مدینے میں

طیبہ کی فضاؤں سے ایثار چھلکتا ہے

انصار کا روشن ہے دستور مدینے میں

بستے ہیں جو بطحا میں انصار کے وارث ہیں

کوئی بھی نہیں دیکھا مغرور مدینے میں

اس پیار کی بستی میں سب پیار سے بستے ہیں

رائج ہے محبت کا دستور مدینے میں

انوار کی نگری میں ہر چیزہے نورانی

''نرگس''بھی نہیں دیکھی ''بے نور''مدینے میں

جو گنبد خضرا کے تابندہ نظارے ہیں

رہتی ہے نظر ان پر بھرپور مدینے میں

درکار نہیں کچھ بھی ہوجاؤں تمنا ہے

بس نعت ہی کہنے پر مامور مدینے میں

فیضان محمد ۖ سے بے بال کو بھی فقری !

پروازاک ملتا ہے مقدور مدینے میں

متعلقہ خبریں