Daily Mashriq

وزیراعظم سے اپیل

وزیراعظم سے اپیل

ے بسی کے کتنے چہرے ہیں ، یہ اس وقت تک معلوم نہیں ہوتا جب تک زندگی کا کوئی رخ کوئی بھنور ، کوئی ہیر پھیراس کے کسی چہرے کو ہمارے سامنے لاکھڑا نہیں کرتا۔شاید وقت کے ہاتھوں میں کئی پریشانیوں کے مرہم نہیں ہوتے، کئی بار صرف صبر ہی مصیبت کا ازالہ ہوا کرتا ہے ۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جینے کی خواہش کا ختم ہوجانا ہی کئی بارمرنے کے لیے کافی نہیں ہوا کرتا ۔ میں اس بات کو پورے طور سمجھ نہیں سکی ۔ سمجھ سکتی ہی نہیں کیونکہ زندگی کے معمولی مسئلے جب چہرے کے عین سامنے کھڑے انتہائی بھیانک لگ رہے ہوتے ہیں، یہ لگتا ہے کہ اس سے زیادہ پریشانی، اس سے بڑا دُکھ کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ جان لیوا مرض میں مبتلا کسی شخص میں جینے کی خواہش کیسے بجھتے ہوئے دیئے کی لو کی مانند مدھم ہورہی ہوتی ہے ۔ وہ مسلسل تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اور کئی بار جسمانی تکلیف خاموش ہو بھی جائے تو ذہن اس کے احساس کو معدوم نہیں ہونے دیتا۔ وہ خوف بھی وہیں کمرے کے کونے میں کھڑا رہتا ہے مسلسل اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ اسکے زیر اثرقبر کو کچھ فاصلے پر کھڑا مریض ہولتا رہتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اجل کب آکے اسے کہنے والی ہے کہ بس خاموش خاموش! لیکن وہ ڈرتا ہے۔ڈرتا رہتا ہے ۔ اس خوف کے چہرے کی تحریر تو اسکی پیشانی پر بھی مرتصم ہے ۔ کہیں کوئی امید نہیں، کہیں سے کوئی مدد کی آواز بھی نہیں آتی ۔ انکی رہی سہی زندگی میں سے بھی امید مدھم ہو جاتی ہے ۔ دھیرے دھیرے مٹنے لگتی ہے ۔ ان کے دل کی کیفیت بھی کوئی نہیں جان سکتا۔یہ بے بسی پاکستان میں سوا ہے کیونکہ پاکستان میں تکلیف دور کرنے والی دوائیں درآمد کرنے کی اجازت نہیں ۔ ان مریضوں کو اپنی تکلیف کے ساتھ نبردآزما ہونے کے لیے سہارا ہی نہیں ملتا۔ کسی کو کینسر ہو جائے تو کیمو تھراپی کی تکلیف سے نجات مشکل سے مشکل ترین ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ایک خاص حد سے زیادہ اثر رکھنے والی دوائیں نہ ملک میں موجود ہیں اور نہ ہی منگوانے کی اجازت ہے۔ سو انہی کم اثر دوائیوں کے درمیان مریض اور ڈاکٹر کا تنائو جاری رہتا ہے۔ ڈاکٹر مجبور ہیں کہ وہ اپنی حد پہچانتے ہیں۔ مریض مجبور ہے کیونکہ اس کی تکلیف کی شدت کوئی سمجھ نہیں سکتا۔ اس کی تکلیف ختم کرنے کے دنیا میں ان گنت طریقے موجود ہیں لیکن پاکستان میں اس کی شنوائی نہیں کیونکہ انہیں دوائیوں کو' جنہیں تکلیف دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے حنیف عباسی جیسے لوگ انہیں پاکستان میں منشیات کے کاروبار میں استعمال کرتے ہیں۔ وہ سیاست میں ہیں' حکومت میں بھی رہتے رہے ہیں اسی لئے نہ وہ کبھی مجرم بنے اور نہ ہی ان جیسوں کے ہاتھ روکنے کا کوئی اقدام ہوسکا۔ ان جیسے لوگوں کے جرم کا شکار صرف ہمارے نوجوان ہی نہیں جنہیں نہایت سستے داموں جان لیوا منشیات مل رہی ہیں' سکولوں اور کالجوں میں ٹافیوں کی صورت' پڑیوں کی صورت' سگریٹوں کی شکل میں یوں میسر ہیں جیسے ہمارے بچپن میں گٹا ملا کرتا تھا اور وہ لوگ جو انہی بنیادی عناصر سے بننے والی دوائیوں کے اصل محتاج ہیں وہ سسک سسک کر اپنی قبر کی جانب قدم قدم بڑھاتے رہتے ہیں۔ہم بے بسی کو نہیں سمجھ سکتے لیکن یہ ملک ہم نے اپنی ترجیحات کے باعث خود اپنے ہی لئے اندھے کنویں میں تبدیل کر ڈالا ہے۔ ان لوگوں کو جانے کیا سوچ کر ہم ووٹ دیتے رہے۔ ان کی بنائی سڑکوں' پلوں کو ان کی تعریف کی وجہ بناتے رہے۔ کبھی یہ نہیں دیکھا کہ انہوں نے مایوسی کی کیسی راکھ بکھیری جس نے ہمارے جوانوں کی بصارتیں ہی ختم کردیں۔ ہمارے جوان ایسی مایوسی میں الجھے کہ انہیں نشے کی ضرورت محسوس ہونے لگی اور ہمارے مریض اپنے حق سے محروم ہوگئے۔اس کالم کے توسط میں جناب وزیر اعظم سے اپیل کرنا چاہتی ہوں' ایک ایسی اپیل جس کا دکھ وہ محسوس کرسکتے ہیں کیونکہ اس دکھ نے انہیں اس ملک میں کینسر ہسپتال بنانے پر مائل کیا تھا۔ پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی نفسیاتی مدد کے لئے کوئی ماہرموجود نہیں ان کی تکلیف کی کمی کے لئے Pain management میں مہارت موجود نہیں' دوائیں بھی نہیں۔ ساری دنیا میں جہاں لوگوں کے جسمانی درد میں کمی کے لئے مارفین پیچ (Morphine patches) استعمال کئے جاتے ہیں پاکستان میں لوگوں نے ان کا نام بھی سنا نہیں ہوتا۔ کئی ڈاکٹر اپنے مریضوں کی تکلیف ختم کرنے کے لئے Cannibus Oil استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن یہ تیل بھی خفیہ طریقے سے حاصل ہوسکتا ہے اور اس میں ملاوٹ کا تعین کرنا بھی ممکن نہیں۔ پاکستان میں کینسر بڑھ رہاہے ۔ موجودہ حکومت کو اس وقت اس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ حکومت اس جانب دھیان نہ دے گی تو لاکھوں مریضوں کی تکلیف کاکوئی مداوا نہ ہوسکے گا۔ جناب وزیر اعظم آپ اس تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں۔ خدارا ایک نظر کرم ان لوگوں کی جانب بھی کیجئے۔

متعلقہ خبریں