Daily Mashriq

کنٹرولڈ جمہوریت اور پاکستان

کنٹرولڈ جمہوریت اور پاکستان

یہ بات تو ہر صاحب علم کو معلوم ہے کہ پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر جمہوری اصولوں کے تحت ہوا تھا۔ علامہ محمد اقبال نے خطبات الہ آباد( اب تاریخی الہ آباد شہر متعصب اور تنگ نظر ہندئوں کی نئی مہم بعد کے پریاگ راج بن گیا ہے) میں جو اصول پیش کیا تھا اس میں بھی مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کی خود مختاری کامطالبہ تھا۔ 1946ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے 99.9فیصدنشستیں جیت کر مسلمانوں کی اکثریتی سیاسی جماعت ہونے کو منوا لیا۔قائد اعظم نے جمہوریت کی ماں کہلانے والے ملک برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان ہی کے جمہوری اصولوں کے مطابق مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الگ وطن کا مطالبہ کرکے بالآخر پاکستان حاصل کیا۔ تحریک پاکستان کے دوران اور ما بعد قائد اعظم کی بیسیوں تقریروں سے یہ بات بغیر کسی شک و شبے کے واضح ہے کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی جمہوری ریاست ہوگا۔ لیکن چونکہ قائد اعظم بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہوئے اور ان کے قریبی تحریک پاکستان کے مخلص قائد لیاقت علی خان بھی ان کے بعد جلد ہی شہید کئے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں اسلامی جمہوری روایات و اقدار کو جڑیں پھیلانے اور مضبوط کرنے کا موقع نہ مل سکا۔بانیان پاکستان کے بعد اس ملک میں نظام حکومت اور طرز حکمرانی کے حوالے سے عجیب عجیب مباحث اور سازشیں شروع ہوئیں۔ مسلم لیگ جو پاکستان کی بانی جماعت تھی اقتدار اور مفاد پرستوں کے درمیان رسہ کشیوں کی نذر ہو کر انتشار کا شکار ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ پنجاب اور بنگال میں جو مسلم لیگ کے پشتیبان تھے ایسی ایسی شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کے بنیادی نظرئیے کے حوالے سے اپنے بیانات و انٹرویوز وغیرہ میں عجیب قسم کی کنفیوژن پیدا کی۔اس خطے میں سندھی بنگالی بڑے قوم پرست واقع ہوئے ہیں۔ ان دونوں صوبوں کے سیاسی زعماء نے جہاں تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہر اول دستے کا کردار ادا کیا وہاں پاکستان کے نظریہ سے ہٹ کر قوم پرستی پر مبنی تحریکوں کے ذریعے اپنی سیاسی ساکھ اور پہچان قائم کرا کے وطن عزیز میں جمہوری اقتدار و روایات کے ضعف کا سبب بن گئے۔ بنگالی تو اس حد تک آگے بڑھے کہ قیام پاکستان کے محض چو بیس برس بعد بنگلہ دیش کی صورت میں الگ وطن قائم کیا۔ لیکن یہ سوال آج بھی بڑی شد و مد کے ساتھ موجود ہے کہ پاکستان میں آخر شاندار جمہوری بنیادوں کی شروعات کے بعد جمہوریت کیوں پنپ نہ سکی۔ قیام پاکستان کے بعد پانچ برسوں کے اندر اندر کیوں غیر جمہوری قوتوں نے سر اٹھانا شروع کیا۔ جنرل سکندر مرزا کس طرح جمہوری سیاسی شخصیات پر حاوی اور غالب رہے۔ عظیم سیاسی و جمہوری تحریک کے نتیجے میں قائم ہونے والی مملکت کیوں پندرہ برس تک سر زمین بے آئین رہی اور ملک کو پہلا آئین ملا بھی تو ایک فوجی ڈکٹیٹر کے ہاتھوں۔پاکستان میں یہ بحث آج بھی کل ہی کی طرح تازہ ہے کہ ہماری افواج کے جنرلوں کے مزاج میں اقتدار کا چسکا موجود ہونے کے سبب یہاں جمہوری روایات آگے نہ بڑھ سکیں یا ہمارے سیاستدانوں میں جمہوری و سیاسی اور صاف ستھرے رہنے کی صلاحیتوں کے فقدان کے سبب مقابلتاً صاف و شفاف' منظم اور حامل قوت ہونے کے سبب افواج پاکستان کو اقتدار پر قابض ہونے کا موقع ملا۔ بہر حال پاکستان میں جمہوریت کا غلغلہ 1971ء میں بلند ہوا اگرچہ یہ انتخابات ایک فوجی ڈکٹیٹر نے کرائے لیکن کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے صاف و شفاف اور غیر جانبدار انتخابات نہ اس سے پہلے ہوئے تھے اور نہ بعد میں ہوسکے۔ یہ الگ بات کہ یہ اتنے صاف و شفاف تھے کہ ہمارے آدھے ملک کابھی صفایا کردیا۔اس کے بعد جو بھی انتخابات ہوئے آج تک کوئی اپوزیشن یا ہارنے والی جماعتیں اس پر راضی نہ ہوئیں' کیوں؟ یہ ایک الگ تفصیل طلب اور تحقیق طلب داستان ہے۔ لیکن جب بھی جمہوری حکومت قائم ہوئی ہے ' حزب اقتدار اور اختلاف میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جو مظاہر سامنے آتے ہیں وہ ملک و قوم کے اتحاد و اتفاق کو انتظار اور احساس عدم تحفظ سے دو چار کرنے کے علاوہ معاشی و اقتصادی لحاظ سے بھی ملک کو دیوالیہ پن کے قریب کرنے کا سبب بنے ہیں لیکن دوسری طرف مارشل لاء کی حکومتوں میں جمہوری روایات کے شدید نقصان بلکہ انہدام کے علاوہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے اور بلوچستان میں قوم پرستوں کے تحفظات اور بغاوت نے اہل دانش و سیاست اور عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔آج جو تیسری جمہوری قوت کی حکومت ہے اس کے خلاف دو سیاسی جماعتوں کے جمہوریت کے گن گانے والے سیاستدانوں نے جو صورت حال پیدا کی ہے اور اس کے رد عمل میں حکمران جماعت کو اس کے بجائے کہ اپنے منشور اور وعدوں پر عمل کرکے دکھائے اپنے دفاع پر اس حد تک مجبور کیا ہے کہ حکومت کی بہت بڑی توانائی ضائع ہو رہی ہے۔ اگرچہ اس میں اس کا اپنا حصہ و کردار بھی کچھ کم نہیں ہے۔ ایسے ہی حالات کے پیش نظر بعض دانشوروں کے ہاں یہ فکر پختہ ہو رہی ہے کہ اگرچہ پاکستان جیسے ملک میں آمریت کی تو کوئی گنجائش نہیں لیکن کیا گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے جمہوریت کے جو مناظر سامنے آئے ہیں ان کے پیش نظر ملک و قوم کو ''خالص جمہوریت'' کی کرم فرمائیوں سے بچانے کے لئے اس وقت تک کنٹرولڈ جمہوریت کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے سیاستدان ذرا اور بھی سیاست سیکھ لیں۔

متعلقہ خبریں