Daily Mashriq


ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

میں نے ایک طویل عرصے میں اتنے عجیب و غریب آئی ایم ایف مذاکرات نہیں دیکھے۔ مجھے نہیں یاد کہ آخری مرتبہ کب کسی وزیرِ خزانہ نے مذاکرات کے دوران ہی ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے حل ہوجانے کا اعلان کیا ہو۔یہ بھی یاد نہیں آرہا کہ آخری مرتبہ کب ایسا ہوا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات ایسے وقت میں شروع ہوئے ہوں جب ایک دوست ملک(اس معاملے میں چین)سے ایک بڑے بیل آٹ پیکج کی خبر کا انتظار تھا۔وزارت سنبھالنے کے بعد وزیرِ خزانہ نے کہا تھا کہ انہیں ادائیگیوں میں توازن کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے12ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ یہ سال گزارا جا سکے۔ مسئلہ اگلے سال سے شروع ہوگا جب یہی اندازے دکھاتے ہیں کہ بیرونی مالی امداد کی ضرورت بڑھ کر 33.8ارب ڈالر ہوجائے گی جبکہ اسی دوران برآمدات میں سستی اور بیرونِ ملک سے ترسیلاتِ زر میں کمی واقع ہونے کا بھی امکان ہے۔ ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے چین اور سعودی عرب کا مشترکہ سہارا یعنی چین کو برآمدات اور سعودی عرب سے تیل کی سہولت اہم ہوگا مگر یہ اہم اصلاحات کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ایک اور اہم بات جو ذہن میں رکھنے کی ہے وہ یہ کہ درمیانی مدت میں بیرونی مالیاتی ضروریات کے اندازوں پر مذاکرات کے تازہ ترین رائونڈ کے بعد نظرِ ثانی کر کے انہیں بڑھانا پڑے۔ ہم جولائی2017 کی آرٹیکل فور رپورٹ اور مارچ2018 کی بعد از پروگرام مانیٹرنگ رپورٹ میں یہ ہوتا ہوا دیکھ چکے ہیں۔جولائی2017 میں شائع ہونے والی آرٹیکل فور رپورٹ میں مالی سال2019 کے لیے بیرونی مالیاتی ضروریات کا اندازہ21ارب ڈالر یا پھر ہماری برآمدات کا 297.1فیصد تک لگایا گیا تھا جسے مارچ2018 میں بڑھا کر27ارب ڈالر یا پھر ہماری برآمدات کے310.6فیصد پر رکھا گیا ہے۔اگر ہم دیکھیں کہ ان دونوں رپورٹس کے درمیان صرف8ماہ کا فاصلہ ہے، تو یہ بہت ہی بڑا اضافہ ہے، اب یا تو ایسا ہوا کہ اس دوران حکومت کے سامنے نئی معلومات آئیں یا بڑے حجم کا مختصر مدتی قرضہ لیا گیا، یا پھر ان دونوں میں سے کسی ایک معاملے میں شدید غلطی کی گئی۔ اس اہم شماریے، یعنی کہ مجموعی بیرونی مالیاتی ضرورت کا تازہ ترین اندازہ وہ پہلی چیز ہے جسے پروگرام کی دستاویزات میں آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوتے ہی ڈھونڈنا چاہیے۔ ایسا ہونے کا امکان جنوری میں ہے۔اگر اس اہم شماریے کے ہمارے درمیانی مدت کے اندازے ایک بار پھر بڑھ جائیں تو ہم جان جائیں گے کہ اس موقع پر شروع ہونے والی دردناک ایڈجسٹمنٹ پہلے تصور کردہ دورانیے سے کہیں زیادہ طویل ہوگی۔ لیکن اگر نظرِثانی شدہ اندازے مارچ میں لگائے گئے اندازے سے کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوتے تو ہم اس تصور پر یقین کرسکتے ہیں کہ اب تک کئے گئے اقدامات مثلاً شرحِ تبادلہ میں کمی اور شرحِ سود میں اضافہ حکومت کو اس نئی حقیقت سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیں گے جسے اس نے حال ہی میں تسلیم کیا ہے۔اس کے بعد اگلی چیز مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کا حجم دیکھنا ہوگا، خاص طور پر یہ کہ مالیاتی خسارے کی حد پروگرام کے تحت کتنی مقرر کی گئی ہے۔ اس پورے منصوبے کو جو بات عجیب بناتی ہے وہ اب تک کسی بھی ٹھوس چیز کی عدم موجودگی ہے۔ عام طور پر جب دونوں فریق مذاکرات کے درمیان ہوں تو اس موقع تک کچھ نہ کچھ اشارے ملنے شروع ہوجاتے ہیں کہ اصلاحات کے خدوخال اور سمت کیا ہوگی۔ مثال کے طور پر مارچ کی رپورٹ میں آئی ایم ایف نے نشاندہی کی تھی کہ ریاستی ملکیت میں موجود اداروں کے متعلق ''فیصلہ کن ایکشن'' لینا ہوگا تاکہ بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے پر قابو پایا جاسکے۔ مگر مذاکرات کے موقع پر ہم نے اپنے وزیرِ خزانہ کو باآوازِ بلند اور بااعتماد انداز میں اعلان کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ نجکاری ان کی حکومت کے منصوبے میں شامل نہیں اور یہ کہ وہ سرکاری اداروں کو اپنی ملکیت میں رکھتے ہوئے منافع بخش بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔اپنی دلیل کے حق میں وہ بتاتے ہیں کہ دنیا کی500بڑی کمپنیوں کی فہرست فارچون500میں ایک بڑی تعداد سرکاری کمپنیوں کی ہے جو ایک منصفانہ دلیل ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اس فلسفیانہ تصور سے اتفاق نہیں کرتے کہ حکومت کو کمرشل ادارے نہیں چلانے چاہئیں۔ یہ بھی ایک منصفانہ دلیل ہے۔ مگر ایک اتنا ہی منصفانہ سوال یہ ہے کہ آپ کیسے مالیاتی ڈھانچے پر مزید بوجھ بڑھائے بغیر نقصانات کم کرکے سرکاری اداروں کی صحت میں بہتری لانے کا منصوبہ رکھتے ہیں؟ہم یہ جانتے ہیں کہ ایک خودمختار ویلتھ فنڈ کے قیام سے متعلق ایک منصوبہ موجود ہے جس کا آئی ایم ایف کے ساتھ تبادلہ بھی کیا گیا ہے۔ مگر میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتا جس نے یہ منصوبہ دیکھا ہو اور یہ منصوبہ کتنا قابلِ عمل ہے، اس کا بھی اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔ اسی طرح محصولات کا دائرہ بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ کیا یہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اور اگر ہاں تو کیسے؟ ایف بی آر میں مضبوط نفاذ اور ٹیکس پالیسی کی تیاری اوراکٹھا کرنے کے معاملات کو الگ کرنے کے علاوہ ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے کسی اسٹر یٹجک سمت کا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے۔یہی بات پیداواری صلاحیت بڑھانے اور برآمدات کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی صادق آتی ہے۔ کیا ہم اس حکومت کی مدت کے خاتمے تک ٹیکسٹائل ایکسپورٹر رہیں گے یا پھر نئی اور جدید صنعتیں بھی تب تک کام شروع کردیں گی؟میں نے سالوں میں اتنا عجیب و غریب پروگرام نہیں دیکھا ہے کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مذاکرات کے موقع پر بھی یہ نہ بتایا جا رہا ہو کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور حکومت ہمیں کہاں لے کر جانا چاہتی ہے۔ (بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں