Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

تصور اقامت دین: اقامت سے مراد کسی چیز کا پورا پورا حق ادا کرنے کا ہوتا ہے۔ امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں کسی چیز کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حقوق پورے کردیے جائیں۔ علمی اور عملی حیثیتوں سے شاہ ولی اللہ نے اقیموا الدین کا ترجمہ قائم کنندہ دین(دین کو قائم کرنا) لیا ہے مولانا اصلاحی کا ترجمہ قائم رکھو اس دین کو۔ پیر کرم شاہ الاظہری کا ترجمہ قائم رکھو اس دین کو امام ابن جریرطبری اس دین میں اختلاف نہ کرو جسے تمہیں قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ امام قرطبی فرماتے ہیں اس دین کو قائم اور محفوظ رکھو اور اس میں اختلاف نہ کرو۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں اقامت دین سے مراد اس کے ارکان احکام کو درست طریقہ پر قائم رکھنا۔ اس کی حفاظت کرنا اور ہمیشہ کے لیے اس کی پابندی کرنا۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے دین میں تفرقہ مت ڈالو۔ مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں مراد اس دین سے اصولِ دین ہیں جو مشترک ہیں تمام طرائق میں مشتمل توحید، رسالت، بعثت وغیرہ۔

مفتی محمد شفیع فرماتے ہیں اقامت دین فرض اور اس میں تفریق حرام ہے۔ چونکہ اقامت دین فرض ہے اور اس لیے اس میں افتراق کی شدید ممانعت نصوص صحیحہ میں ملتی ہے۔ فروعی معاملات میں اختلاف ممنوع نہیں۔ ایسا اختلاف صحابہ کرام میں عہد رسالت سے چلا آرہا ہے اور تمام فقہا اس پر متفق ہیں کہ ایسا اختلاف باعث رحمت ہے۔

تحفظ دین اور غلبہ دین، اقامت دین کے ہم آہنگ پہلو: اسلاف کے فرمودات سے واضح ہوتا ہے کہ

٭ اقامت دین فرض عین ہے۔

٭ اس کی فرضیت کے بارے میں اختلاف ممنوع ہے۔

٭ اقامت دین کے لیے دین کو قائم رکھنا اور دین کو قائم کرنا دونوں ضروری ہیں

٭ دین کے قائم رکھنے اور دین کو قائم کرنے کی کوششوںمیں فروعی اختلاف باعث رحمت ہیں۔

دین نظام بھی ہے اور طرز حیات بھی اس کے احکام معاشرے پر بھی نافذ ہوتے ہیں اور ریاست پر بھی سرمایہ دارانہ سامراج کے غلبہ کے بعد برصغیر میں احکام شرع معاشرے سے بھی معطل کیے جانے لگے اور ریاست کی سطح پر بھی۔

معاشرتی سطح پر سامراجی تعطل احکام شریعت کا مقابلہ تحفظ دین کی تحاریک نے کیا اور وہ بڑی حد تک اسلامی تمدنی اور علمی ورثہ کو سامراجی یلغار سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہیں۔ اس کے برعکس تحاریک غلبہ دین(جہاد سید بادشاہ اور صادق پوری سیدوں کی تحاریک، تحریک ریشمی رومال، تحریک احرار) پسپا ہوگئیں اور اس کے نتیجہ میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی سیکولر دستوری ریاست قائم کرلی جہاں احکامات شرع تقریباً بالکلیہ معطل ہیں لیکن تحریکات غلبہ دین معدوم نہ ہوئیں۔ انہوں نے اس لیے سرمایہ دارانہ دستوری تناظر میں غلبہ دین کی راہیں تلاش کرنے کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں