Daily Mashriq

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

علامہ اقبال نے کہا تھا :

آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پر اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

جمہور توڑنا آسان نہیں ہوتا' برسوں سے جاری نظام کے بینی فشری راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں' ٹھٹھا کرتے ہیں اور یہ کہہ کر آس اور امید کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے۔ صدیوں قبل بائیں بازو اور دائیں بازو کی اصطلاحیں عام ہوئیں' وہ جو بادشاہ کی طرف تھے یعنی سٹیٹس کو کے حامی تھے وہ دائیں طرف بیٹھے تھے چنانچہ دائیں بازو والے بن گئے اور وہ جو اسٹیٹس کو کوتوڑنا چاہتے تھے اور آگے بڑھنا چاہتے تھے وہ بائیں بازو والے شمار کیے گئے۔ آج دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم اگرچہ اس طرح نہیں ہے مگر میرے نزدیک اسٹیٹس کو کے حامیوں کے لیے دائیں بازو کی اصطلاح اور پروگریسو سوچ رکھنے والوں کو بائیں بازو میں شمار کیا جانا ہی سمجھ میں آتا ہے۔ اس تقسیم کے تناظر میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کھڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف پروگریسو یعنی ترقی پسند جماعت دکھائی دیتی ہے جب کہ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بشمول مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی پرانے فرسودہ نظام کا حامی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام ' میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی مسلم لیگ ن'آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی پیپلز پارٹی ' محمود خان اچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی ' اسفند یار ولی کی عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کو چھوڑ کر متحدہ مجلس عمل کی دیگر سب جماعتیں اس حد تک ایک مؤقف رکھتی ہیں کہ عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف نے نئے پاکستان کی بات کر کے خوا مخواہ رنگ میں بھنگ ڈالی ہے اور ایک خاص ڈگر پر چلتے ہوئے نظام کو بے سود چیلنج کیا ہے۔ ان جماعتوں کے حامیوں کی سوچ ایک جیسی ہے ' یہ سب اس خیال کے حامی ہیں کہ پاکستان میں کچھ بھی تبدیل ہونے والا نہیں ہے' یہاں جیسے چل رہا ہے اس نے ہمیشہ ایسے ہی چلنا ہے چنانچہ اس سوچ کے تحت میاں نواز شریف کی مسلم لیگ ن نے 2013ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد روٹین سے ہٹ کر کوئی نیا کام کرنے کی بجائے آصف علی زرداری کی ''ڈنگ ٹپاؤ'' پالیسی کو جاری رکھا اور وقت کو دھکا دینے کی روش پر عمل کیا جس کا نتیجہ آج قوم بھگت رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے لہروں کے ساتھ بہنے کی بجائے دریا کی مخالف سمت تیرنے کی سعی کی ہے کہ اس کا قوم سے وعدہ بھی یہی تھا اور خدا نے اس کی سرشت بھی ایسی ہی بنائی ہے۔ شاعر نے کہا تھا

تم اگر تیراک ہو تو دریا کے مخالف تیرو

لہر کے ساتھ تو اک تنکا بھی بہا جاتا ہے

وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ریفارمز لانے کی سنجیدہ کوشش کی ہے ' چنانچہ برسوں سے جاری نظام کے بینی فشری خواہ وہ اہلِ سیاست ہیں یا ان کا تعلق مفادات پانے والے کسی بھی گروہ سے ہے وہ تحریک انصاف کی حکومت کی مخالف سمت کھڑے ہیں۔ بیوروکریسی' میڈیا اور دیگر مفاداتی گروہ ہر اس سازش کا حصہ بننے کو تیار ہیں جس کا مقصد عمران خان کو نیچا دکھانا اور راہ سے ہٹانا ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں مقتدر اداروں کا تعاون و حمایت حاصل ہے۔ چنانچہ مخالفین کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی ہے۔ تاریخ کے اس نازک دور میں جب مشکل فیصلوںکا وقت ہے قدرت نے عمران خان کی صورت میں پاکستان کو ایک ایسا رہنما عطا کیا ہے جو غیر مقبول فیصلے کرنے کی جرأت رکھتا ہے کیونکہ اس کی نیت نیک ہے۔ ملکی تاریخ کے 70برسوں میں ٹیکس نیٹ میں آنے والے لوگوں کی کل تعداد 14لاکھ تھی جب کہ تحریک انصاف کی حکومت کے سوا سالوں میں یہ تعداد دگنی ہو گئی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ گئی ہے۔ درآمدات کم ہونا شروع ہو گئی ہیں اور برآمدات میں اضافہ ہوا جس کو بنیاد بنا کر اسٹیٹس کو کی حامی جماعتوں نے طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کی مگر زمینی حقائق سے آشنا عوام کو یہ جماعتیں اپنے حق میں استعمال کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ وزیر اعظم عمران خان پاکستانی ریاست کی بنیادوں کو اس طرح استوار کرنا چاہتے ہیں کہ عوام کی فلاح اور بہبود ریاست کی اولین ترجیح بنے اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کی ریاست ہمدرد اور نگہبان بن جائے۔ ان کا تصور ریاست نبی کریمۖ کی قائم کردہ ریاست مدینہ کے خطوط پر ہے جس کا مخالفین مذاق اُڑاتے ہیں کیونکہ اُن کی سوچ لوگوں کو محکوم اورغلام بنا کر رکھنے کی ہے۔ کیا آج سے پہلے کسی حکمران کے منہ سے عوام نے سنا ہے کہ ریاست کا نظام رحمدلی' ہمدردی اور ایثار کی بنیاد پر چلایا جائے گا۔ 70برس سے جاری طرز حکمرانی کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہے مگر عمران خان ریاستی نظام کو بدلنے کے لیے پرعزم ہے اور قوم پر یقین ہے کہ ان کا منتخب کردہ وزیر اعظم یہ کام کر کے رہے گا۔ اگرچہ وقتی مشکلات ضرور ہیں مگر قوم کے دل نااُمید نہیں ہیں۔ ظہیر کاشمیری نے کہا تھا:

ہمیں خبرہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

جمود توڑنا آسان نہیں' برسوں سے جاری نظام کے بینی فشری راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں' ٹھٹھا کرتے ہیں اور یہ کہہ کر آس و امید کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے مگر پاکستان کی تقدیر کو بدلنا ہے اور اس کام کے لیے قدرت عمران خان کا انتخاب کر بیٹھی ہے۔

متعلقہ خبریں