Daily Mashriq

ایران میں پرتشدد مظاہرے جاری، درجنوں افراد ہلاک

ایران میں پرتشدد مظاہرے جاری، درجنوں افراد ہلاک

ایران نے مظاہرین کی حمایت کرنے پر امریکا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے منافقانہ اقدام قرار دیا ہے۔

ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا ہے اور مظاہرین نے سیکڑوں سرکاری املاک کو جلاکر راکھ کردیا ہے۔

اس صورتحال پر گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کے ساتھ ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری سٹیفنی گرشم نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا ایرانی شہریوں کی جانب سے جاری پر امن حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرتا ہے اور مظاہرین پر تشدد کے خلاف ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اتوار کو غیر ملکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران میں ’شرپسندوں‘ کی حمایت قابل مذمت ہے اور امریکی وزیر خارجہ کا بیان ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی حکام کے بیانات کو منافقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف امریکا نے ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں جس کے باعث شہری دباؤ کا شکار ہیں اور دوسری جانب امریکا ان شہریوں کی حمایت میں بیانات دے رہا ہے۔ ایران کے شہری اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس قسم کے ’منافقانہ‘ بیان میں کوئی حقیقی ہمدردی نہیں ہے۔

ایران میں کیا ہو رہا ہے

ایرانی حکومت نے 15 نومبر کو پٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سبسڈیز واپس لینے کا اعلان کیا جس کے باعث قیمتیں بڑھ گئیں۔ اس کے خلاف ایران بھر میں پرتشدد مظاہرے بھڑک اٹھے۔ مظاہرین نے ملک گیر احتجاج میں شاہراہیں بند کر دیں جبکہ بینکوں اور سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق پرتشدد مظاہروں میں اب تک 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں مگر آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 36 تک ہے۔ مظاہروں کی ویڈیوز اور تصاویر لمحوں کے اندر دنیا بھر میں پھیل گئیں اور ایران پروٹسٹ 15 نومبر کی رات ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہوگیا جس کے باعث حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کردیا۔

ایرانی حکام نے اتوار تک دو سو سے زائد مظاہرین گرفتار کرلیا ہے جبکہ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث تازہ ترین صورتحال سے آگاہی میں دقت کا سامنا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت طویل عرصے سے پٹرولیم مصنوعات پر بھاری سبسڈی دے رہی ہے اور اس سبسڈی سے امیر اور غریب بلا تفریق مستفید ہورہے ہیں۔ اس لئے سبسڈی میں دی جانے والی رقم بچا کر مستحق شہریوں پر خرچ کی جائے گی۔

ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ضرورت مند افراد کی نقد مالی امداد ہے کیوں کہ سبسڈٰیز میں جانے والی رقم اب براہ راست ضرورت مند افراد کو دی جائے گی۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومتی اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے میں معاشیات کا ماہر نہیں ہوں۔ مگر حکومتی اداروں کے سربراہان نے ملکر اگر سبسڈی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے تو میں اس کی حمایت کرتا ہوں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سبسڈٰیز سے بچائی گئی چھ کروڑ رقم شہریوں کی فلاح وبہبود کے لیے استعمال کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں