Daily Mashriq


مرے کو مارے شاہ مدار

مرے کو مارے شاہ مدار

حکومت نے 731اشیا ء کی درآمد پر10سے80فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔حکومت کا موقف ہے کہ تجارتی خسارے کو کم کرنے اور درآمدی اشیا ء کی حوصلہ شکنی کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے اور اس سے غریب آدمی متاثر نہیں ہوگا۔درآمدی ڈیوٹی کا فوری نفاذ کر دیا گیا ہے اورجن اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ان میں موبائل فونز، کاریں، کھیلوں کا سامان، بچوں کے ڈائپرز، کھانے پینے کی اشیا اور میک اپ کا سامان شامل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز پر خواہ وہ عوام کے عام استعمال کی نہ بھی ہو تب بھی اس کی قیمتوں میں اضافے کا کسی نہ کسی طور اثر منتقل ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تب بھی وہ چیز مہنگی تو ہوتی ہے۔ بہر حال اس بحث سے قطع نظر ہمارے تئیں جن اشیاء پر بجٹ کے بعد مزید ڈیوٹی عائد کی گئی ہے اس سے تو یہ لگتا ہے کہ جون سے قبل حکومت نے ایک اور بجٹ پیش کیا ہے۔ باقی اشیاء کو چھوڑ کر جن دیگر اشیاء پر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے ان میں پولٹری کی درآمد پر 10 فیصد جبکہ مچھلی اور مچھلی سے متعلق دیگر اشیا کی درآمد پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔دودھ، کریم، دہی، مکھن، ڈیری اسپریڈ، پنیر اور دیگر اشیا کی درآمد پر بھی 20 سے 25 فیصد جبکہ شہد، آلو، آم، کینو اور دیگر پھلوں کی درآمد پر بھی 20 سے 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔اس کے علاوہ روز مرہ استعمال کی گھریلو اشیاء اور اشیاء خورد و نوش پر مختلف شرح سے ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ٹیکس ماہرین کے مطابق ڈیوٹی کے نفاذ کا مقصد پرتعیش اشیا ء کی درآمدات کو کم کرنا ہے، اس طرح سے روپے کی قدر پر بڑھتا دبا ئواور بجٹ خسارہ بھی کم ہو گا۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بازار میں بلا وجہ پھلوں سمیت اضافی سامان درآمد کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے درآمدات میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں دبائو دیکھا جا رہا تھا اس لئے حکومت کی جانب سے بلا وجہ درآمدات کو کم کرنے کے لئے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ٹیکس ماہرین کا نقطہ نظر اور تجزیہ اپنی جگہ لیکن اگر ایک عام آدمی کی نظر سے دیکھا جائے تو جن اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ وہ اشیاء بڑی حد تک عوام کے روز مرہ استعمال کی اشیاء ہیں۔ اگر نئی گاڑیوں اور سپورٹس کاروں کو سامان تعیش گردانا جائے تو کیا پرانی گاڑیوں کو بھی اسی زمرے میں شمار کیا جائے گا'ایسا ہر گز نہیں بلکہ نئی گاڑیاں بھی ضرورت ہی کے زمرے میں آتی ہیں۔ نئی پرانی ہو کر عوام ہی تک آجاتی ہیں۔ جب نئی مہنگی ہوں گی اور پرانی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی عائد کی جائے گی تو اس کا لامحالہ اثر عوام پر پڑے گا۔ خاص طور پر چھوٹی گاڑیوں کا جو ٹیکسی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں دودھ ' کریم' دہی' مکھن' ڈیری ' سپریڈ' مچھلی اور مچھلی سے بنی مصنوعات ' شہد' آلو' سبزیاں اور پھل حکام کی نظروں میں تو اشیائے غیر ضروریہ ہوں گی مگر ہمارے تئیں یہ بنیادی خوراک کی اشیاء ہیں جو عوام کی دسترس سے پہلے ہی باہر ہیں اب مزید مہنگی ہونے کے باعث عوام کے لئے ان کی خریداری محال ہوگی۔ اسے بد قسمتی ہی قراردیا جائے گا کہ ملک میں سیاسی حالات کے تناظر میں معیشت کے بگڑتے توازن کے باعث مہنگائی کا ایک بڑا ریلا پہلے ہی آچکا ہے۔ محولہ اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کے بعد اب مہنگائی کاایک اور ریلا متوقع ہے۔ جن ماہرین کے خیال میں محولہ اشیاء کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے قیام سے زر مبادلہ کی بچت ہوگی ان ماہرین سے استفسار کیاجانا چاہئے کہ وہ ملک کے اندر طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے کیا تجویز کرتے ہیں۔ جب طلب و رسد کا توازن نہیں رہتا تو کیا اشیاء کی قیمتوں کے تعین میں ساہوکار اور بیو پاریوں کو من مانی کرنے کا موقع میسر نہیں آتا۔ علاوہ ازیں ان اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ سے قیمتوں میں اضافے سے کیا مقامی مصنوعات بھی مہنگی نہیں ہوں گی۔ کیا حکومت کے پاس اتنی قوت نافذہ ہے کہ وہ درآمدی اشیاء اور ملکی مصنوعات میں امتیاز کے ساتھ ان کی علیحدہ علیحدہ قیمتوں کا تعین کرکے اس پر عملدرآمد کروانے کی پوزیشن میں ہوگی مستزاد ریگولیٹری ڈیوٹی کے لاگو ہونے پر کیا ان مصنوعات اور اشیاء کو مہنگا ہونے سے روکا جاسکے گا جن پر کوئی ڈیوٹی عائد نہیں کی گئی۔ ہمارے تئیں ایسا کرنا ممکن نہیں کسی بھی چیز پر ڈیوٹی عائد کرنے کی مثال تالاب میں پتھر پھینکنے جیسی ہے جس میں پتھر تو ایک جگہ گرتاہے مگر اس سے تالاب میں چاروں طرف لہریں ابھر کر پھیلنے لگتی ہیں۔ ایک سوال بار بار یہ ذہن میں اٹھتا ہے کہ عدالتی فیصلے سے ایک وزیر اعظم کے ہٹ جانے کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ملکی معیشت بھونچال کا شکار ہوگئی۔ کوئی حکومت نہیں بدلی' کوئی سیاسی بحران نہیں آیا تو یہ معاشی و اقتصادی بحران اس شدت سے کیوں آیا۔ اس بحران کی شدت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ سٹاک مارکیٹ روز بروز گر رہی ہے۔ بنکوں میں رقم میں کمی آرہی ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ گزشتہ دنوں صوبائی دارالحکومت پشاور کی سب سے بڑی منی ایکسچینج کمپنی میں لوگوں کو دینے کے لئے پاکستانی کرنسی دستیاب نہ تھی جو غیر معمولی نوعیت کا واقعہ ہے کیونکہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں پراپرٹی کی قیمتوں میں کبھی اضافہ نہیں دیکھا گیا یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساتھ منسوب ایک عمل تھا مگر پہلی بار اس مرتبہ وزیر اعظم نواز شریف کی رخصتی کے بعد پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے۔ حالانکہ پشاور میں افغان انوسٹروں کی جانب سے اپنا سرمایہ منتقل کرنے کے بعد صوبے میں جائیدادوں کی قیمتوں میں کمی آئی تھی مگر اب یہاں کی مارکیٹ میں تیزی آگئی ہے ممکن ہے اس طرح کی صورتحال نہ ہو لیکن بہر حال ملکی معیشت کا روبہ زوال تاثر اور مہنگائی میں اضافہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وجوہات سیاسی ہوں یا غیر سیاسی اس سے قطع نظر حکمرانوں کو اس امر پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر کب تک بھاری قرضے لے کر عوام کا بوجھ بھاری کیا جاتا رہے گا۔ عوام آخر کب تک یہ بوجھ سہار سکیں گے اور ملک کب تک اس طرح کے اقدامات کا متحمل ہوگا کہ وہ معاشی ابتری سے بہتری کی طرف آئے۔

متعلقہ خبریں