Daily Mashriq

کیا اداروں کو ٹھیک کرنے کاعزم کافی ہے

کیا اداروں کو ٹھیک کرنے کاعزم کافی ہے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کادعویٰ ہے کہ اگلا الیکشن جیت کرتمام اداروں کو ٹھیک کردیں گے۔ اسی تقریر میں خود ان کا اعتراف بھی ہے کہ ایک سال دھرنے میں اور ایک سال مجھے کیوں نکالا میں گزر گئے۔ تحریک انصاف کو اگلے الیکشن میں کامیابی کتنی ملتی ہے اور ناکامی کتنی ملتی ہے اس کادرست اندازہ لگانا ممکن نہیں لیکن یہ بات بہر حال مشکل لگتی ہے کہ تحریک انصاف آئندہ انتخابات میں اس پوزیشن میں آجائے کہ وہ حکومت بنا سکے۔ پی ٹی آئی اگر کسی اتحادی حکومت کا حصہ بنتی ہے تو اس کے لئے حکومت چلانا آسان نہ ہوگا۔ اگر بالفرض محال تحریک انصاف واحد اکثریتی جماعت کے طورپر بھی آتی ہے تو تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں کئے گئے اقدامات کامیابی و ناکامی کے تناسب کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ وہ کوئی ایسی تصوراتی تبدیلی لانے کی حامل جماعت ہے جس کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور دی جائے تو سارا نظام ہی بدل کر رکھ دے۔ کسی نظام کی تبدیلی کے لئے سالہا سال کی ذہن سازی اور جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرے کی تشکیل کرنی پڑتی ہے تکلیفیں اور مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے پھر کہیں جاکے کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یہ طریقہ سیاست اور سیاسی جماعتوں میںر ائج ہی نہیں جن جماعتوں میں اس طرز کی محنت رائج تھی اب ان جماعتوں میں بھی یہ رواج نہیں رہا۔ دوسرا طریقہ انقلاب کا ہے یا پھر مارشل لاء جس میں ساری چیزوں کوایک طرف رکھ کر کوئی نئی راہ دکھائی دی جاتی ہے۔ انقلاب کی اگر عمران خان بات بھی کریں تو بھی ایسا ہونا ممکن نہیں اور نہ یہ یہ پی ٹی آئی کا ایجنڈا اور منشور ہے۔ تبدیلی کی بات تو ہوتی ہے مگر تبدیلی کا کامیاب طریقہ کیا اختیار کیاجائے اس سوال کاجواب ان کے پاس نہیں۔ مارشل لاء کی کسی سیاسی جماعت کے قائد کی حمایت کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں ملنے والی حکومت اس کے استعداد کا وہ امتحان تھا جس میں اس کو کامیابی نہ مل سکی۔ اگر تحریک انصاف کے قائد دھرنے اور مجھے کیوں نکالا میں وقت ضائع نہ کرتے اور سیاسی اہداف سوچ سمجھ کر مقرر کرتے اور ان کو پانے کی سعی کرتے تو ملکی سطح پر ان کو تائید ملنے کا امکان تھا۔ سیاست کی دنیا میں اہداف کا تعین سوچ سمجھ کر کرنا ہوتا ہے جہاں فائدے کے ساتھ ساتھ اسی شرح سے نقصان کے خطرات بھی لگے ہوتے ہیں ۔ اگر کسی سیاسی اقدام سے فائدہ نہ ملے تو پھر نقصان لازم ٹھہرتا ہے۔ تحریک انصاف اب تک اپنے سیاسی اہداف کے تعین میں اور ان کی کامیابی میں کس حد تک کامیاب ٹھہری ہے اس کا عوامی جواب 2018ء کے عام انتخابات میں ملے گا۔دیکھا جائے تو عوام ملک کی کسی سیاسی جماعت سے اب خیر کی توقع رکھنے کا تیور نہیں رکھتے سیاسی جماعتوں اور سیاسی نظام نے ملک کے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا۔ اس فضا کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو اہداف کا تعین کرنے کی ضرورت ہے اور دعوے اور وعدے کرنے کے۔
بے جا الزام تراشی مناسب نہیں
پاکستان تحریک انصاف کی منحرف خاتون رکن قومی اسمبلی کی جانب سے تحریک انصاف کے قائد عمران خان پر تیزاب پھینکنے کا حکم دینے کا الزام افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ نا قابل یقین بھی ہے۔ کسی خاتون رکن اسمبلی اور پارٹی قائد کے درمیان کشیدگی اور سخت اختلافات ہونا اچھنبے کی بات نہیں ہرساں کرنے کے الزام کی حقیقت اور خلاف حقیقت ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا لیکن ایک ایسا الزام جس کو ماننا مشکل ہو خود الزام لگانے والی کے حق میں اچھا نہیں۔ ایک پختون معاشرے کی خاتون کو تو اور بھی محتاط ہونا چاہئے کہ جگ ہنسائی کے ساتھ پیغور سے بھی دامن بچارہے۔ خواہ مخواہ کی الزام تراشی کسی کو زیب نہیں دیتی اور نہ ہی کوئی اس پر یقین کرنے کو تیار ہوگا۔ محولہ خاتون رکن اسمبلی سے چند ماہ قبل ہی کراچی سے اسی جماعت کی سر گرم رکن نے پی ٹی آئی سے اپنی راہیں جدا کرلیں چونکہ ان کاانداز سیاسی تھا اور انہوں نے لغویات کا سہارا نہیں لیا اس لئے ان کا نام احترام سے لیا جانا فطری امر ہے۔ بہتر ہوگا کہ اس باب کو اب بند کردیا جائے اور کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو دنیا اور آخرت دونوں میں گلے پڑنے کا باعث ہو۔

اداریہ