Daily Mashriq

مہنگائی میں اضافہ

مہنگائی میں اضافہ

حکومت نے 2017-18ء کے بجٹ میں 565 درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا تھا۔ یہ بجٹ پارلیمنٹ نے پاس کیا تھا۔ لیکن اس مالی سال کی پہلی سہ ماہی گزرتے ہی کل 731اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ احکام ایس آر اوز کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ سے منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ اٹھتے بیٹھتے جمہوریت کے تحفظ کے حوالے سے رطب اللسان حکومت نے 731اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی لگاتے/بڑھاتے وقت پارلیمنٹ کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا، یہ سوال ممکن ہے ارکان پارلیمان کی طرف سے آئے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس اقدام سے غریب آدمی متاثرنہیں ہو گا۔ حالانکہ مہنگائی ایسی چیز ہے جو چھوت کی بیماری کی طرح کسی کا لحاظ نہیں کرتی۔ حکومت نے پارلیمنٹ سے بالابالا جو منی بجٹ نافذ کر دیا ہے اس میں سبزیاں ' پھل' گندم' دہی بھی شامل ہیں۔ یقینا غریب آدمی ایسی درآمدشدہ اشیاء بالعموم نہیں خریدتے۔ لیکن جن اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے ان میں ٹوتھ پیسٹ ، موبائل فون بھی شامل ہیں جو آج غریب امیر سب کی زندگی میں داخل ہیں۔ بچوں کے ڈائپر اور نیپکن بھی شامل ہیں جو نچلے یا عام طبقے کی مائیں بھی خریدتی ہیں۔ اور کبھی کبھار غریب باپ بھی ان کی خرید کا حوصلہ نکال لیتے ہیں۔ دہی اور ڈیری کی اشیاء پر بھی ڈیوٹی لگائی گئی ہے ۔ تازہ اور برفا ئی گئی مچھلی کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جنہیں حکومت نے غریب آدمی کے لیے ممنوعہ سمجھا ہے۔ خشک دودھ کی قیمت میں بھی اضافہ ہو گا جو امیر غریب ہر شخص کی ضرورت ہے۔ پہلے ہی پاکستانی بچوں کو ضرورت سے بہت کم دودھ میسر آتا ہے۔ خشک دودھ کی قیمت میں اضافے سے یہ غریب آدمی کی پہنچ سے اور بھی دور ہو جائے گا۔ اس اقدام سے بازار میں تازہ دودھ کے نام سے جو کھلا دودھ فروخت ہوتا ہے اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہو گا کیونکہ اس کھلے دودھ کی تیاری میں بھی خشک دودھ ایک اہم عنصر ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی مقدار کم کرکے اور سفید کرنے والے (Whitener)اجزاء شامل کر دیے جائیں گے اور دودھ مزید ناخالص ہو جائے گا۔ پہلے ہی فوڈ اتھارٹی والے روزانہ دودھ سے تیار کی ہوئی متعدد اشیاء کی بھاری مقدار تلف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خواتین کے میک اپ کے سامان ، صابن اور دیگر ایسی اشیاء پر پچاس فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ ہمارے ملک میں کھانے پینے کی صاف اور صحت بخش اشیاء کی اس قدر کمی ہے کہ عام آدمی کے چہرے پر بھی نظر آتی ہے۔ ایسے میں اگر کہیں آنے جانے کے وقت خواتین میک اپ استعمال کرتی ہیں تو یہ ان کی ضرورت ہے۔ کون ایسی خاتون ہے جو اپنے وسائل کے مطابق سجنا سنورنا نہیں چاہتی۔اس طرح یہ اشیاء محض امیروں کے لیے مخصوص نہیں بلکہ عام آدمی کی بھی ضرورت بن چکی ہیں۔ ڈیوٹی میں اضافہ چمڑے' کپڑے کی مصنوعات ' ماربل سکریپ' سٹیل ، لوہے کی مصنوعات اور بجلی کے سامان پر بھی کیاگیا ہے۔ ان میں سے اکثر اشیاء آخری صارف کی اشیاء نہیں ہیں۔ انہیں دیگر مصنوعات میں استعمال کیا جائے گا تو تاجر اس اضافے کی قیمت بھی وصول کریں گے۔ اس طرح یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے کہ غریب آدمی ان ساڑھے سات سو اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر نہیں ہوگا۔ بازار میں جب درآمد شدہ اشیاء صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا تو ملک میں تیار ہونے والی اشیاء کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگا۔ جوازیہ پیش کیاجائے گا کہ یہ قیمت اب بھی درآمد شدہ اشیاء کی قیمت سے کم ہے۔ جب فریزر کی درآمد پر ڈیوٹی عائد کی گئی تو دکاندار اس میں ٹھنڈی رکھی جانے والی اشیاء کی قیمت میں بھی اضافہ کرے گا۔ ایک اخبار کے مطابق حکومت کو اس اقدام سے توقع ہے کہ 25ارب روپے کا ریونیو حاصل ہو جائے گا۔ ایک انگریزی معاصر نے حکومت کی اس متوقع آمدنی کو 2ارب روپے قرار دیا ہے۔ لیکن حکومت نے خود اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ اس اقدام سے کتنا اضافہ متوقع ہے اور ادائیگیوں کے توازن کو درست کرنے میں یہ اضافہ کس حد تک کام آ سکتا ہے۔ لیکن جو بھی تخمینہ اب پیش کیا جائے گا وہ ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ سے پہلے کے درآمدی حجم پر شمار کیا جائے گا۔ ایک طرف یہ کہا جارہا ہے کہ اس اقدام سے درآمدات میں کمی ہو گی ۔ اگر درآمدات میں کمی ہو گی تو ریونیو میں بھی کمی ہو گی۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس اقدام سے حکومت کو کتنا ریونیو حاصل ہو گا۔ درآمدات کے حجم کا تعین اب درآمدکنندگان کریں گے اور اس بنیاد پر کریں گے کہ بازار میں اضافی بھاؤ کے باوجود یہ اشیاء درآمد نہ کی جائیں یا کتنی درآمد کی جائیں۔ اس کے بعد یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بازار نے اس اضافے پر کس ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نئے اقدام سے کتنا ریونیو حاصل ہو سکے گا اور یہ حکومت کی اس توقع پر پورا اُتر سکے گا یا نہیں کہ اس رقم سے برآمدکنندگان کے عرصے سے رکے ہوئے واجبات ادا کیے جا سکیں گے۔ اس اقدام سے ہزاروں درآمدکنندگان کا کاروبار متاثرہوگا' ہزاروں خاندان پریشان ہوں گے ' نہ صرف یہ بلکہ جن روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے ان کی سمگلنگ میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس سے پہلے بھی ملک کی پوش مارکیٹوں ' پوش کالونیوں اور ہاؤسنگ سکیموں کی دکانوں میں بے شمار سمگل شدہ غیر ملکی سامان فروخت ہوتا ہے۔ سمگلنگ میں اضافہ اگر انتظامی طریقے سے مؤثر طور پر نہ روکا جا سکا (اور حکومت کی مشینری اس میں کامیاب نظر نہیں آتی) تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ درآمد شدہ اشیاء جو طبقہ بالعموم خریدتا ہے وہ ذرا مہنگے داموں سمگل شدہ سامان خرید لے گا ۔ حکومت کے لیے متوقع ریونیو حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ پہلے سے بھی کم ہو جائے۔ ہزاروں درآمدکنندگان کو نقصان الگ پہنچے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان 736اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کے رجحان میں اضافہ ہو گا اور نتیجہ غریب آدمی کے لیے عمومی مہنگائی کی صورت میں برآمدہو سکتا ہے۔

اداریہ