اب ہوگا سفر آسان ؟

اب ہوگا سفر آسان ؟

ماضی میں زندگی بھی سادہ تھی ،آبادی بھی کم تھی ، اسی تناسب سے گاڑیاں بھی کم تھیں ، سڑکوں پر اکا دکا گاڑی دکھائی دیتی تھی ۔کہیں شاذونادر ہی ٹریفک جام دیکھنے کا تجربہ ہوتا ۔ میں اَسی کی دہائی کے اوائل کی بات کررہا ہوں اور وہ بھی پشاور شہر کی ۔جب زندگی پرُ شور اور پرُ آشوب نہ تھی۔ افغان وار کے بعد افغان مہاجرین کی بڑی تعداد میں بالخصوص پشاور آمد کے بعد آبادی کا تناسب شدید مسائل کا شکار ہوا ۔جہاں اس کے اثرات مقامی کاروبار، رئیل سٹیٹ کی مہنگائی پر پڑے وہیں ٹریفک پر بھی اس کے برے اثرات مرتب ہوئے ۔اس وقت پشاور شہر میں ٹریفک کا مسلہ لاینحل ہی تصور کیا جارہا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پشاور شہر کی آبادی بھی زیادہ ہے اور میٹروپولیٹن شہر ہونے کی نسبت مختلف کاموں کے سلسلے میں باہر سے بھی لوگوںکی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ ساتھ ہی پشاور ایک کاروباری حب بھی ہے سو کاروبار کے سلسلے میں باہر کے لوگوں کو اس شہر میں آنا ہوتا ہے ۔ جبکہ پشاور شہر میں صرف ایک ہی سڑک ہے جو چغل پورہ کے انٹری پوائنٹ سے لے کر حیات آباد تک جاتی ہے ۔اگر چہ رنگ روڈ بھی موجود ہے لیکن جی ٹی روڈ کا لوڈ روز بہ روز بڑھتا ہی جارہا ہے ۔ جی ٹی ایس کی صوبائی بس سروس کے بعد پشاور شہر کے لیے کوئی مربوط سروس بنانے کا کسی بھی حکومت نے نہیں سوچا ۔اس کی وجہ سے یہاں کے عوام مجبور ہیں کہ لوکل ٹرانسپورٹ پر ہی اکتفا کریں ۔ ویگن مزدے اور پرائیویٹ ٹیکسیاں اس لوڈ کو اٹھا رہی ہیں ۔ لیکن عوام کسی طور بھی خوش نہیں ہیں۔ ایک تو یہ لوکل ٹرانسپورٹ ناکافی ہے دوسرا اس ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ اگر حکومتی سطح پر کسی اچھی ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا گیا ہوتا تو ایک بس میں چالیس پچاس لوگ بیٹھ کر سفر کرتے اب انہی چالیس پچاس لوگوں کو سفر کروانے کے لیے درجنوں گاڑیاں سڑک پر دوڑ رہی ہوتی ہیں ۔ ظاہر ہے ٹریفک میں تو اضافہ ہونا لازمی ہے ۔ کوئی ٹیکسی تو کوئی رکشہ میں اپنی منزل مقصود کو جارہاہے ۔ اوپر سے پاکستانی موٹر سائیکلوں کی ارزانی اور فراوانی کی وجہ سے موٹرسائیکلیں بھی اتنی ہوگئی ہیں کہ اللہ کی پناہ ۔ٹریفک کیا ہے بس ایک بے ہنگم شور ہے اور ایک طوفان بدتمیزی ہے ۔میں بہت عرصے سے عرض کررہا ہوں کہ پشاور کے جی ٹی روڈ پر ایک لنٹر باندھ کر ہی مسئلے کوکم کیا جاسکتا ہے۔ پچھلی حکومتوں میں بھی ٹریفک کے مسئلے کے حوالے سے کسی نہ کسی منصوبے کی شنید اخبار کی زینت بنتی رہتی تھی ہم اس خبر کو فالو کرتے لیکن بعد میں پہاڑ میں سے چوہا بھی نہ نکلتا تھا ۔تبدیلی والی حکومت نے بھی جب ٹرانزٹ بس منصوبے کا اعلان کیا تو ہم اسے ماضی جیسا مذاق ہی سمجھے ۔ لیکن اب جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے اس کے افتتاح کا اشتہار دیکھا تو اپنی آنکھوں پر یقین سا آنے لگا ہے ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں حکومت کی جانب سے ان مسمار شدہ عمارتوں کو دیکھ کر بھی یقین کرنا پڑتا ہے کہ جو اس منصوبے کے راستے میں آنے کی پادا ش میں گرائی گئی ہیں ۔ہفتے میں دو تین دن صبح سے بجلی چلی جاتی ہے معلوم ہوا کہ بس منصوبے کے راستے میں کھڑے بجلی کے کھمبوں کو ہٹانے کے لیے بجلی جاتی ہے ۔اوپر سے ٹریفک والوں کی جانب سے متبادل روڈ پلان پر نظر پڑی تو کچھ کچھ یقین سا ہونے لگا ہے کہ بھئی معاملہ سنجیدہ ہے ۔ وزیر اعلیٰ اس منصوبے کا افتتاح کررہے ہیں ۔ اس منصوبے پر سیاسی تبصرے بھی ہورہے ہیں لیکن مجھے ان سے سروکار نہیں کوئی کچھ بھی کہے لیکن پشاوری ہونے کے ناطے میں نے ا ن تمام طعنوں اور سیاسی اعتراضات پر کان اور آنکھیں بند کرلی ہیں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میرا شہر جو کہ لوگوں کے بوجھ کو اٹھا اٹھا کر ہلکان ہوچکا ہے کچھ تو سکھ کا سانس لے ۔میں پھر دس منٹ کا سفر دس منٹوں میں ہی کرنے کے قابل ہوجاؤں ۔ میری بہنیں بچیاں کالج یونیورسٹی کو جاتے ہوئے ایک معززاور باعزت سفر کے قابل ہوسکیں ۔ میرا بچہ گھرسے نکلے تو اسے پتہ ہوکہ وہ کتنی دیر میں اپنے کالج یا دفتر پہنچ سکتا ہے ۔ بھلے سے ہمارا صوبہ غریب ہے ۔ دوسرے علاقوں میں بھی بہت سے مسائل تشنہ لب ہیں لیکن پشاور تو صوبے کا مرکز ہے چترال سے لے کر وزیرستان تک اور کوہستان سے لے کر جمرود تک سبھی علاقوں کے لوگ یہاں بستے ہیں ۔گویا پشاور صرف ایک شہر نہیں پورا صوبہ ہے ۔ اس کے مسائل حل ہوں گے تو دوسرے علاقوں کا نمبر بھی آجائے گا۔ میں اس معاملے میں وزیر اعلیٰ کا حامی ہوں کہ وہ پشاورکو ترجیح دے رہے ہیں ۔ یادرہے کہ صوبے کاسب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والا پشاور ہمیشہ ترقیاتی سطح پر نظرانداز رہا ہے ۔اب اس کی حالت کو بدلنے کا کسی کو خیال آہی گیا ہے تو اس کی ستائش کی بجائے اس پرتنقید نہ کی جائے ۔اس منصوبے کے تحت 300بسیں چلیں گی تو سوچئے یہ 300بسیں کتنے لوگوں کو چمکنی سے حیات آباد اور حیات آباد سے چمکنی واپس لائیں گی اور وہ بھی جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کی ٹریفک کومتاثر کیے بغیر ۔ بلکہ جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ پر نجی اور لوڈنگ کی گاڑیاں ہی رہ جائیں گی ۔ مجھے کیا پڑی ہے تین چار سو کا پٹرول ڈلواکر اپنے کسی کام کے لیے حیات آباد تک جاؤں اور ساتھ ٹریفک اور ڈرائیونگ کی چخ چخ کا بھی شکار رہوں ۔ آرام سے بس ٹرمینل تک پہنچو، ٹکٹ لو، دو منٹ بعد آنے والی بس میں بیٹھو اورمطلوبہ قریبی سٹاپ پر اتر جاؤ۔اگرچہ یہ جو میں کہہ رہا ہوں ابھی معرض وجود میں نہیں آیا لیکن سی ایم صاحب اسے چھ ماہ میں بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے تو ہماری دعا ہے کہ اپریل 2018میں ہم بھی اسی بس میں سفر کررہے ہوں گے ۔

اداریہ