Daily Mashriq


وی آئی پی اور پروٹوکول کلچر کی توسیع

وی آئی پی اور پروٹوکول کلچر کی توسیع

وہ جو انگریزوں نے غلام قوم کو اپنی حد میں رکھنے کیلئے ''ہٹو ، بچو ، ہٹو ، بچو''کے نعرے لگوانے والوں کو اپنی سواری باد بہادری کے آگے دوڑاتے ہوئے ہندوستان کے غلام باشندوں کی خبرداری کا اہتمام کر رکھا تھا وہ کسی نہ کسی شکل میں اب ابھی جاری و ساری ہے ، کیونکہ پاکستان کے عوام حکمرانوں کیلئے اب بھی غلاموں سے زیادہ کی حقیقت تو نہیں رکھتے ، ہو تا یہ تھا کہ جب کوئی انگریز افسر پالکی میں جسے غلام ہندوستانی قوم کے سرکاری اہلکار اٹھا کر کہیں سے گزرتے تو عام لوگوں کوخبر دار کرنے کیلئے سرکار والا تبار کی پالکی کے آگے دوڑتا ہوا جاتا اور لوگوں کو اطلاع دیتا رہتا کہ راستے سے ہٹو ،خود کو بچائو کیونکہ صاحب بہادر کی سواری رکنے والی نہیں اور اگر کوئی غلطی سے پھر بھی نہ ہٹ سکتا تو پالکی کے ساتھ چلنے والے سرکاری اہلکار اسے دھکا دے کر دور جا گراتے، اب وہ زخمی ہوتا ہے یا چوٹ کھاتا ہے ، صاحب بہادر کی بلا سے کیونکہ اسے خبر داری تو دی جا چکی ہوتی ، پھر خوش قسمتی اور بد قسمتی سے ہندوستان آزاد ہوگیا ، جی ہاں خوش قسمتی ان کی جو بد یسی حکمرانوں کے رخصت ہونے کے بعد یہاں مختلف ادوار میں بر سر اقتدار آکر حکومتیں کرتے رہے ، اور بد قسمتی ہم جیسے کمی کمین عوام کی جو تب بھی غلام تھے اور آج بھی غلام ہیں ، کیونکہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزرجانے کے باوجود غلام عوام کی قسمت میں آج بھی ہٹو ، بچو، ہٹو بچو کی صدائیں لکھی گئی ہیں البتہ ترقی کرتے ہوئے اتنا ضرور ہوا ہے کہ اب ہٹو ، بچوکی صدائوں کی جگہ ہوٹر والی گاڑیوں نے لے لی ہے ، اور اگر چہ ابتداء میںیہ مراعات انگریز صاحب بہادروں کی طرح صرف صد ر یا وزیر اعظم کو حاصل تھیں اور ان کی گاڑیوں کے آگے چلنے والی پائلٹ کار میں ہوٹر لگے ہوتے مگر بعد میں ایک وزیر داخلہ نے بھی اپنے لئے یہ سہولت اپنے ہی حکم سے حاصل کر لی ، اس کے بعد تو صورتحال چل سو چل والی ہوگئی ، صوبوں کے گورنر ، وزرائے اعلیٰ بھی اس سہولت کے حقدار قرار پائے ، ساتھ ہی جس طرح دنیا بھر میں ایمبو لینس گاڑیوں کیلئے بھی ہوٹر کو لازمی قرار دیا گیا کیونکہ خصوصاً دوسری جنگ عظیم کے دوران میدان جنگ سے زخمیوں کو سرعت کے ساتھ ہسپتالوں تک پہنچا نا لازمی ہوتا تھا اس لئے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ ٹریفک کے نظام میں ہوٹر والی ایمبولینس کو ترجیحی بنیا د پر راستہ دینا ضروری قرار دیا گیا ، تب سے اب تک ایمبولینس کیلئے تو یہ اصول طے شدہ ہے تاہم ''حاکموں '' کیلئے بھی خصوصی طور پر اسے سٹیٹس سمبل کے طور پر اختیار کیا گیا ہے ، اور اس کا دائرہ وسیع کر کے چیف منسٹر ز ، اور بعض دوسرے ''اہم عہدیداروں '' کا حق مانا گیا ہے ، مگر اب تو غلام عوام کیلئے ان ''حاکموں '' کی تعداد میں مزید اضافہ کر کے صوبائی وزیر بلدیات نے گزشتہ روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں واضح کر دیا ہے کہ یہ سہولت (بہ وزن رعونت ) نہ صرف وزراء ، مشیروں بلکہ ''اقتدار کو نچلی سطح ''تک لاتے ہوئے ناظمین تک وسیع کی جارہی ہے ، کیونکہ بقول اسلام کو رول ماڈل بنا نے پر تلی ہوئی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینئر صوبائی وزیر ، ایسا کوئی قانون نہیں جس میں ناظمین پر اپنی گاڑیوں پر ہوٹر لگانے کی پابندی ہو ، ایک خاتون ممبر کے سوال کے جواب میں کہ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ صوبے میں وی آئی پی کلچر اور پروٹوکول کا خاتمہ کر دیا ہے ، اس کے باوجود ضلع ناظمین اور تحصیل ناظمین کے پاس سائرن والی گاڑیاں ہیں ، حکومت پروٹوکول ختم کرنے کی بجائے اسے فروغ دے رہی ہے ، وزیر موصوف نے فرمایا کہ حکومت نے سرکاری سطح پر وی آئی پی کلچر اور پروٹوکول کا خاتمہ نہیں کیا ، پروٹوکول کلچر کا خاتمہ ہم اخلاقی سطح پر کر سکتے ہیں ، اس پر محولہ رکن اسمبلی نے کہا کہ اس کے بعد تو 124اراکین اسمبلی کو سائرن والی گاڑیوں کی اجازت ہونی چاہیئے ۔ خاتون رکن اسمبلی کے اس مطالبے سے ہم مکمل طور پر متفق ہیں کیونکہ وہ جو پشتوزبان کا محاورہ ہے کہ'' خرچہ دخرہ کم وی نو غوگ یے د پریکولووی'' یعنی اگر ایک گدھا دوسرے گدھے سے کسی بھی طور کمتر ہو تو اس کے کان کترنے کے لائق ہوتے ہیں اور جہاں تک ہمارے ہاں رائج جمہوریت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مصور پاکستان علامہ اقبال نے بالکل درست فرمایا تھا کہ 

گریزاز طرز جمہوری غلام پختہ کا ر شو

کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئی

دن رات اسلامی نظام کے قیام کی مالا جپنے والی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینئر صوبائی وزیر سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ وی آئی پی کلچر اور پروٹوکول کو توسیع دینے کیلئے غلط استدلال سے کام لیتے ہوئے غلامانہ دور کے ''ہٹو ۔ بچو '' والا قانون یہ کہہ کر قوم پر مسلط کرنے میں اہم کردار اد ا کریں گے کہ قانون میں ناظمین کے سائرن والی کار کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے ، یوں انہوں نے ایک قانونی موشگافی کے ذریعے کہ شک کا فائدہ ملزم کو ملتا ہے ، ناظمین کو ہوٹرز والی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دیدی ہے ، حالانکہ قانون میں یہ بھی کہیں نہیں لکھا کہ ہر کہہ وہ مہ جب چاہے اس قانون کا غلط استعمال کر سکتا ہے ، اگر کسی اور بات سے نہیں تو کم از کم گزشتہ روز دنیا بھر میں نشر اور چھپنے والی اس خبر سے عبرت پکڑنے کی ضرورت ہے کہ ہالینڈ کے وزیر اعظم بادشاہ سے ملاقات کیلئے صدارتی محل جانے کیلئے اپنی سائیکل پر گئے ، ان کے آگے پیچھے نہ تو کوئی ہوٹر والی گاڑی تھی ، نہ سیکورٹی اداروں نے ان کی ''حفاظت '' کا اہتمام کر رکھا تھا ، بلکہ وزیر اعظم بے دھڑک اور بنا کسی ادارے کی امداد کے خود ہی سائیکل چلاتے ہوئے بے خوف و خطر صدارتی محل جا پہنچے ، ملکی مسائل پر بات کی اور واپس چلے گئے ، یعنی بقول علامہ اقبال

بے خطر کو دپڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تما شا ئے لب بام ابھی

اس واقعے سے پروٹوکول کلچر کے زعم میں مبتلا ہونے والوں کو کچھ تو شرم آنی چاہیئے ، کچھ تو حیا کرنی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں