Daily Mashriq


انگریزوں کی ناپاک سازش

انگریزوں کی ناپاک سازش

رات کے تین بجے جس وقت یہ کالم تحریر کر رہا ہوں ، اللہ گواہ ہے کہ میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم اتنے گر گئے کہ نعو ذ باللہ جوکام ہمارے دشمن نہیں کر سکے وہ ہمارے وفاقی اور صوبائی کابینہ کے دو وزراء کرام زاہد حامد اور رانا ثنا اللہ ، اور دوسری اتحاد ی پا رٹیاں کر رہے ہیں۔پھر احمدی چینل سے جب میں نے رانا ثنا ء اللہ کا انٹر ویو سُنا تو خدا کی قسم ،میں زار و قطار رویااور اللہ تعالیٰ کے غضب اور قہر سے بچنے کی دعائیں ما نگتا رہا اور سو چتا رہا کہ ہمارے حکمران ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین اتنے گرسکتے ہیں جن کو یہ بھی پتہ نہیں کہ قادیانی مسلمان ہے کہ نہیں۔گزشتہ دنوں وفاقی وزیر برائے قانون زاہد حامد نے قومی اسمبلی، سینیٹ کے ممبران کے حلف والے خانے میں I Swearکی جگہ I Declare یعنی حلفیہ اقرار کرتا ہوں کے بجائے جب صرف اقرارکرتا ہوں کی تبدیلی کر کے قادیانیوں کو پاکستان کی سیاست میں ایک اہم مقام دینے اور انکو خوش کرنے کی کوشش کی تو میں ساری رات سو نہ سکا۔ اب دودن پہلے پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے مولوی حضرات قادیانیوں کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہم بھی نماز پڑھتے ہیں ،وہ بھی نماز پڑھتے ہیں۔ وہ ہماری طر ح روزہ رکھتے اور مساجد بھی تعمیر کرتے ہیں۔اُن پر کافر کے فتوے لگا نا ناجائز ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ہمیںیہ بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ قادیانی خود اپنے آپکو غیر مسلم نہیں کہتے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر علمائے کرام کہتے ہیں کہ یہ اذان نہیں دے سکتے ، مساجد تعمیر نہیں کر سکتے تو یہ غلط ہے۔ اُنہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر کہا کہ اس میں بُہت پیچیدگیاں ہیں اور اس پر مزید گُفت و شُنیدکی ضرورت ہے، حالانکہ رانا صاحب کو یہ پتہ نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی ایسی واحد قانون سازی ہے جس پر پاکستان کے ہر طبقہ فکر کے علماء جس میں سُنی ، شیعہ ، بریلوی ، اہل حدیث شامل ہیں متفق ہیں۔ رانا ثنا ء اللہ کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی لیڈر مو نس الٰہی نے ایک قرارداد جمع کرا ئی جس میں کہا گیا ہے کہ رانا ثنا اللہ نے قادیانیوں کے غیر مسلم ہو نے کے خلاف اور قادیانیوں کے حق میں جو انٹر ویو دیا ہے وہ انتہائی شرم ناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رانا ثنا اللہ کی کوشش ہے کہ قادیانیوں کو مسلمان ثابت کیا جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ را نا ثنا اللہ کے اس بیان سے نہ صرف عرش لرز رہا ہے بلکہ راناثناء اللہ نے حضرت محمد ۖ کی رُو ح مبارک کو کتنا ٹھیس اور دُکھ پہنچایا ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ حضرت محمدۖ کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں اور ہماری عزت و آبرو حضورۖ کی بدو لت ہے۔ علا وہ ازیںاس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملکی آئین کے مطابق ملک کے پہلے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قادیانی ١٩٧٤ میں غیر مسلم قرار دئے گئے تھے ا ور ١٩٨٤ میں ایک صدارتی آر ڈیننس کے مطابق صدر ضیاء الحق نے قادیانیوں کو اسلامی تعلیمات ادا کرنے سے منع کیا تھا۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو یہ سمجھ سے با ہر ہے کہ سیکولر مشرف جو کام نہ کر سکا وہ آج ان اراکین نے کیا ہے۔اگر ہم مزید غور کریں تو یہو دیوں، عیسائیوں ، ہندوئوں، سکھوں اور بُد ھ مت کے پیروکاروں کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی جھگڑا نہیں کیونکہ وہ دوسرے مذاہب کو چھیڑنے کے بجائے اپنے مذاہب کی وعظ اور تبلیغ کرتے ہیںاور وہ کسی کے مذہب میں مداخلت نہیں کرتے ، جبکہ اسکے بر عکس قادیانی اور احمدی اسلام کی اصلی شکل کو بگا ڑنے کی پوری کو شش کرتے ہیں۔ انگریزوں کے ہاتھ کے لگا ئے ہوئے اس بو ٹے قادیانیوں کی پو ری کو شش ہے کہ اسلام کی اصل شکل کو بگاڑا جائے۔ دنیا میں اسلام سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا دین ہے اور انکی یہ بھی کو شش ہے کہ نو مسلم مسلمانوں کو گمراہ کرکے اسلام کی شکل میں قادیانی بنایا جائے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قادیانیوں کے خودساختہ اور جھوٹے ملعون غلام احمد قادیانی نہ صرف نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا تھا بلکہ اس کی کتابوں اور لٹریچر کے مطابق نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ سے نا شائستہ اور ان سے غلط باتیں منسوب کی ہیں۔ قادیانیوں کے لٹریچر کے مطابق غلام احمد نہ صرف اپنے آپکو نبی سمجھتے ہیں بلکہ فر عون اور نمرود کی طرح خدائی کا بھی نعوذ باللہ دعویٰ کرتے ہیں۔ قادیانی جہاد اور دیگر اسلامی تعلیمات سے بھی مُنکر ہے۔ ویسے یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ نواز شریف کے دو چہیتے وزراء کو ابھی تک یہ نہیں پتہ کہ قادیانی کیا ہیں اور ان لوگوں کے عزائم کیا ہیں۔بہر حال پتہ تو ہوگا کیونکہ وہ بچے تو نہیں ۔بلکہ ان سیاست دانوں کو اقتدار کی ہوس چڑھی ہوئی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قادیانیوں سے متعلق پاکستان کے ٢٠ کروڑ عوام پاکستان کے قانون اور آئین کے پابند ہیں ۔ جہاں تک رانا ثنا اللہ کی اس بات کا تعلق ہے کہ قادیانیوں سے متعلق قوانین پر مزیدگفت و شنید ہونی چاہئے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ قادیا نیوں کو مسلمانوں کے زمرے میںلانے کے لئے سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔تاکہ دنیا کے وہ نو مسلم جو اسلام کو قبول کرنے کے لئے کو شاں ہیں انکو مسلمان بنانے کے بجائے قادیانی بنا یا جائے ۔ اے این پی اور پی پی پی تو اپنے آپکو سیکولر جماعتیں کہتی ہیں ۔ اسکے بر عکس مولانا فضل الرحمان جنکی پا رٹی اسلام اور مسلمان کے نام پر ووٹ لیتی ہیں وہ بھی خاموش رہے۔

متعلقہ خبریں