Daily Mashriq


نیوزپرنٹ پر ڈیوٹی ختم کرنے کا مستحسن فیصلہ

نیوزپرنٹ پر ڈیوٹی ختم کرنے کا مستحسن فیصلہ

عمران خان نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے مالکان کی تنظیموں اے پی این ایس ، سی پی این ایس اور پی بی اے کے مشترکہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے اخبارات کے نیوز پرنٹ پر عائد 5فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملکی اقتصادی مسائل کی وجہ سے میڈیا کو بھی مشکلات درپیش ہیں ہم تنقید کاخیر مقدم کرتے ہیں تاہم میڈیا بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے ۔ نیوز پرنٹ پر عائد پانچ فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان خوش آئند ہے ہم توقع کرتے ہیں میڈیا کو درپیش دوسرے مسائل کے حل کیلئے بھی جناب وزیراعظم ذاتی طور پر دلچسپی لیں گے ۔ ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا بہت ضروری ہے کہ حکومت کی حالیہ پالیسیوں سے صرف نیوز پرنٹ مہنگا نہیں ہوا طباعت واشاعت کے دوسرے امور پھر بھی مہنگائی کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ میڈیا کے لئے بجلی کے رعایتی نرخوں پر بھی غور کیا جانا چاہیئے اس طرح پرنٹ میڈیا کی طباعت و اشاعت کے لئے ضروری اشیاء کی قیمتوں میں حالیہ ٹیکسوں کی وجہ سے اضافہ ہواہے ۔ اگر اس پر بھی نظر ثانی کر لی جائے تو اس سے پرنٹ میڈیا کو اجتماعی فائدہ ہوگا۔ جہاں تک تنقید میں ذمہ داری کے مظاہرے کی توقع کا تعلق ہے تو ان کی خدمت میں یہ عرض کیا جانا بہتر ہوگا کہ اخبارات والیکٹرانک میڈیاکی اپنی حدود ہیں ان سے تجاوزکا کسی کو شوق ہے نہ میڈیا او رموجودہ حکومت یا میڈیا اور پچھلی حکومتوں کے درمیان کوئی معرکہ حق وباطل تھا یا ہے ۔ منتخب حکومت کا کام عوام کی خدمت کرنا دستور کی بالادستی کو یقینی بنانا اور انصاف و مساوات کو قائم کرنا ہے ۔ میڈیا کا کام یہ ہے کہ وہ مسائل کی طرف حکومت کی توجہ دلائے اور اپنے وقت کی منتخب حکومت کو اس منشور پر عمل کے لئے دعوت دے جس پر ووٹ لے کر حکومت تشکیل پائی ہو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم اخباری صنعت اور الیکٹرانک میڈیا کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ذاتی دلچسپی لیتے رہیں گے تاکہ مہنگائی کا سیلاب بلا میڈیا خصوصاً اخباری صنعت کے لئے ناقابل برداشت بوجھ نہ بننے پائے ۔

نیب قوانین میں اصلاحات، بسم اللہ کیجئے

قومی اسمبلی کے اسپیکر جناب اسد قیصر کا کہنا ہے کہ نیب قوانین میں اصلاحات کے لئے حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوگیا ہے ۔ ایسا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔ نیب قوانین میں اصلاحات اور احتساب کا دائرہ وسیع کر کے بلا امتیاز احتساب بارے دو آراء نہیں ہیں۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہیئے کہ نیب کا سربراہ اپنے ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے صرف پارلیمان کو جوابدہ ہو۔ اس کے لئے قانون سازی کی جاسکتی ہے مثلاً پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مساوی ارکان پر مشتمل کمیٹی جس میں حکومت اور حزب اختلاف کو برابر کی نمائندگی حاصل ہو نیب کی سربراہی کے لئے ایک سے زائد ناموں پر غور کرے اور سفارشات کی منظوری دونوں ایوان دیں ۔ نیب کو قانونی طور پر ایسا خود مختار ادارہ بنادیا جائے جو بلا امتیاز احتساب کر سکے ۔ نیب میں ایف آئی اے یا دوسرے محکموں سے عارضی طور پر تعیناتیاں نہ کی جائیں ۔ ہر سطح پر بھرتی کے لئے اہلیت کو مد نظر رکھا جائے پبلک پراسیکوٹرز کی تقرری حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے وکلاء میں نہیں بلکہ ماہرین قانون کی اہلیت پر ہو ۔ ان سب باتوں کے لئے جس بنیادی چیز کی ضرورت ہے وہ قانون بنانے والوں کا ذاتی گروہی اور جماعتی وفاداریوں سے بلند ہو کر ملک وقوم اور مستقبل کی ضرورتوں اور مفادات کو مد نظر رکھنا ہے ۔ موجودہ دور میں ہی اگر ایک آزادو خود مختار احتساب کے ادارے کے لئے قانون سازی کر کے پہلا قدم اٹھالیا جاتا ہے تو یہ خوش آئند ہوگا ۔تحریک انصاف کی قیادت بلا امتیاز احتساب اور ون ونڈو آپریشن کی باتیں کرتی ہی ہے اب اس کے پاس موقع ہے کہ وہ احتساب کے قوانین میں مزید بہتری لانے اور نیب کو غیر جانبدار بنانے کے لئے قانون سازی کرے۔ قانون سازی کے عمل میں اگر کوئی مانع ہوا تو عوام ان چہروں سے واقف ہو جائیں گے جو بلا امتیاز اور شفاف احتساب نہیں چاہتے بلکہ نیب کو سیاسی آلہ کار کے طور پر اپنے اپنے دور میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں