Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمروبن زبیرؓ فرماتے ہیں، تم تواضع کو لازم پکڑو،کیونکہ یہ ایک عظیم نعمت ہے اور اس پر کوئی حسد نہیں کرے گا، حضرت ابن عمرؓ اپنے دسترخوان سے جزامی، ابرص وغیرہ مریضوں کو نہ ہٹاتے، بلکہ ان کیساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے اور فرماتے: اصل تواضع یہ ہے کہ حقیروں کے پاس بیٹھیں، مگر یہ کام کسی حظ نفسانی کیلئے نہ ہو۔

(اولیاء کے اخلاق ، ص،152)

غلام نے عرض کی حضرت! آپ کا اس مال کو قبول کرنا میری آزادی کا باعث ہوگا، حضرت ابوذرؓ نے فرمایا: اگر اس میں تیری آزادی ہے تو میری غلامی بھی ہے۔

(اولیاء کے اخلاق)

ایک مرتبہ ہارون رشید کے زمانہ میں رومیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور خواتین کو قید کر لیا تو لوگوں نے منصور ابن عمار سے کہا کہ آپ لوگوں کو رومیوں کیخلاف آمادہ کیجئے، چنانچہ ایک روز وہ لوگوں کے مجمع میں تقریر کر رہے تھے تو ان کو ایک بند لفافہ لاکر دیا گیا۔ جب لفافہ کھولا گیا تو اس میں ایک خط اس مضمون میں تھا: ’’میں ایک پردہ نشین خاتون ہوں۔ رومیوں نے جو کچھ مسلمان خواتین کیساتھ کیا ہے، اس کی بھی اطلاع ہے، میں اور تو کچھ نہیں کر سکتی ہوں، لیکن اپنے سر کے بال آپ کی خدمت میں پیش کر رہی ہوں کہ شاید کوئی غازی اپنا گھوڑا باندھنے کے کام میں لے آئے اور اسی وجہ سے رب العالمین میری مغفرت فرمائے‘‘۔

جس وقت یہ خط پڑھا جارہا تھا، پورا مجمع زاروقطار رو رہا تھا۔

(صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی4ص،7)

خلیفہ منصور اور اس کی اہلیہ کے درمیان کچھ رنجش ہوگئی تھی، خاتون کو شکایت تھی کہ خلیفہ عدل نہیں کرتا، منصور نے کہا کہ کسی کو منصف قرار دو، اس نے امام ابوحنیفہؒ کا نام لیا، اسی وقت یہ دونوں امام صاحب کی مجلس میں حاضر ہوگئے اور خاتون پردے کے پیچھے بیٹھ گئی تاکہ باتیں سن سکے۔ منصور نے امام صاحب سے پوچھا: شرع رو سے مرد کتنے نکاح کر سکتا ہے؟ امام صاحب نے جواب میں فرمایا چار، منصور خاتون (اپنی اہلیہ) کی طرف مخاطب ہوا کہ سنا آپ نے؟ پردے کے پیچھے سے آواز آئی، جی ہاں! امام صاحب نے منصور کو مخاطب کر کے کہا، مگر یہ اجازت اس شخص کیلئے خاص ہے جو عدل پر قادر بھی ہو، ورنہ ایک سے زیادہ نکاح کرنا جائز نہیں اور پھرآیت پڑھی، جس کا ترجمہ ہے: اگر تم کو ڈر ہو کہ عدل نہیں کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے‘‘۔یہ سن کر منصور چپ ہوگیا۔ امام صاحب گھر آئے تو ایک خادم پچاس ہزار درہم لیکر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس خاتون نے یہ رقم بھیجی ہے، سلام بھی کہا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ میں آپ کی حق گوئی کی مشکور ہوں، امام صاحب نے خادم سے فرمایا کہ خاتون سے کہنا کہ میں نے جو کچھ کہا ہے، وہ کسی غرض سے نہیں کہا بلکہ یہ میرا فرض منصبی تھا۔

(سیرت ائمہ اربعہ)

متعلقہ خبریں