Daily Mashriq


آئی ایم ایف کا محبوبانہ تغافل

آئی ایم ایف کا محبوبانہ تغافل

ملک کی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی معیشت کو کیسے چلانا ہے یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی حکومت کو آئے ہوئے تقریباً دو ماہ کے دوران نہیں ہو سکا۔ فیصلہ مشکل ہے۔ قرضہ بہت زیادہ ہے۔ وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ دوست ملکوں سے بات ہو رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ کی درخواست کی جا چکی ہے۔ اس لیے کسی نتیجے پر پہنچنے میں تاخیر ہوجانا سمجھ میں آتا ہے۔ تاہم دوست ملکوں سے مدد ملتی ہے تو ان کی رقوم کی ادائیگی بھی عوام کو کرنی ہے اور اگر آئی ایم ایف سے قرضہ لیا گیا تو بھی فنڈکی شرائط عوام ہی کو سہنی ہوں گی۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہے کہ ملک کی معیشت بدحال ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر پی ٹی آئی کی حکومت بننے سے قبل ہی کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑ سکتا ہے۔ دیگر ماہرین معیشت بھی یہی کہہ رہے تھے کہ معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے آئی ایم ایف کا پروگرام حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ آئی ایم ایف کا ایک وفد کچھ دن پہلے پاکستان آیا۔ اس وقت تک آئی ایم ایف سے باقاعدہ قرضہ لینے کی درخواست نہیں کی گئی تھی۔ انہی دنوں یہ خبریں آئیں کہ آئی ایم ایف کے قرضے کے ساتھ بجلی اور گیس مہنگی ہوگی۔ روپے کی قدر مزید کم ہو گی۔ مختلف شعبوں میں سبسڈی ختم کرنی پڑے گی اور قصہ مختصر یہ کہ مہنگائی کا طوفان آئے گا اور آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت اپنا اصلاحاتی ایجنڈا بروئے کار نہ لا سکے گی۔اس کے باوجود آئی ایم ایف سے قرضہ کے پروگرام کے لیے باقاعدہ درخواست کر دی گئی۔ اس درخواست گزاری کے دوران آئی ایم ایف نے شنید ہے کہ مطالبہ کیا کہ سی پیک کے معاہدوں سمیت پاکستان قرضوں اور ادائیگیوں کی ذمہ داری کے بارے میں تمام تر تفصیلات فنڈ کو فراہم کرے۔ یہ طے پایا کہ 7نومبر کو فنڈ کا وفد معاملت کے لیے پاکستان آئے گا اور اس سے ملاقاتوں میں یہ طے پائے گا کہ پاکستان کو کتنا قرضہ کیسی شرائط پر مل سکتا ہے۔ ان شرائط میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ روپے کی قدر منضبط کرنے پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کا کنٹرول بالکل ختم کر دیا جائے۔ شرح سودکتنی ہونی چاہیے اور کون سے منصوبے مؤخر کیے جائیں۔ مہنگائی کے طوفان کا ذکر سطور بالا میں کیا جا چکا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے جہاں یہ کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر ہو سکتا ہے وہاں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ متبادل ذرائع سے امداد حاصل کرنے کے بارے میں بھی کام ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا کام ہی ایسے ملکوں کی مالی امداد کرنا ہے جن کی معیشت ڈانواڈول ہو۔ لہٰذا اس میں شک نہیںہونا چاہیے کہ آئی ایم ایف کی نظر ایسی معیشتوں پر مسلسل ہوتی ہے۔ پاکستان اس سے پہلے بھی آئی ایم ایف کے پروگرام حاصل کر چکا ہے۔ لہٰذا آئی ایم ایف کے دانش مندوں کے لیے پاکستان کی معیشت کے ذرائع ‘ وسائل اور مشکلات نئی نہیںہیں۔ آئی ایم ایف کا ایک وفد چند ہفتے پہلے بھی پاکستان آ چکا ہے اور مختلف حکام سے مذاکرات کر چکا ہے۔ اس سے بھی ظاہر ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس پاکستان کی مشکلات کی مکمل تصویر موجود ہے۔ جب وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے امدادی پروگرام کی باقاعدہ درخواست کی تو توقع یہ ہونی چاہیے تھی کہ آئی ایم ایف اپنے پہلے سے موجو دمطالعات کی روشنی میں پاکستان کے ساتھ قرضے کی رقم اور اس کے لیے اپنی شرائط فوری طور پر پیش کر دیتا اور پاکستان کے قائدین اور ماہرین معاملات طے کر لیتے اور پاکستان کی معیشت کا رُخ متعین ہو جاتا۔ لیکن اس میں تاخیر سمجھ سے باہر ہے۔ اب جب 7نومبر کو آئی ایم ایف کا وفد آئے گا اور مہینے کے آخر تک مذاکرات جاری رہیں ۔ پھر وفد واپس جائے گا اور فنڈ کا مرکزی دفتر وفد کی سفارشات پر غور کرے گا تو اس میں کم ازکم دو مہینے لگ سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان میں عوام اورتاجر برادری کے اعتماد کا امتحان بھی جاری ہے سٹاک ایکس چینج میں مندی کا رجحان واضح ہے۔ عوام قائدین کے بیانات پڑھ کر منتظر ہیں کہ اب مزید مہنگائی کب ہوتی ہے۔ بجلی کا نرخ بڑھانے کا فیصلہ مؤخر کیا گیا ہے۔ لیکن بھاؤ بڑھنے کا انتظار بدستور موجو دہے۔ پاکستان کے باہر بھی پاکستان کی معیشت کی بدحالی پر یقینا از سر نوغور کیا جا رہا ہو گا۔ اوپر سے ادائیگیوں کی تلوار لٹک رہی ہے بلکہ دن بدن قریب آ رہی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے بلکہ کس سمت چلتا ہے یہ واضح نہیں ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اپنی جگہ لیکن قیاس غالب ہے کہ یہ صورت حال بڑی حد تک آئی ایم ایف کے محبوبانہ تغافل نے پیدا کی ہے۔ آئی ایم ایف کا پروگرام لینے کا اگر فیصلہ ہوا تو وہ ادائیگیوں کی قسط کے واجب الادا ہونے کے بہت قریب ہو گا اور اگر کوئی متبادل بھروسہ نہ ہوا تو متبادل شرائط بھی قبول کرنا ہوں گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ممکن ہے آئی ایم ایف کا پروگرام نہ لینا پڑے۔ دوست ممالک سے بھی مدد کی بات چیت جاری ہے ، اس سے آئی ایم ایف کو یہ پیغام ضرور جاتا ہے کہ ہم نے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھے لیکن عوام میں تذبذب اور گومگو کی کیفیت میں اضافہ ہوتاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چھ ماہ میں ملک تیزی سے بدلے گا۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو اپنا اصلاحاتی ایجنڈا بروئے کار لانے کے لیے گنجائش یا ’’سپیس‘‘ ملے ۔ جب کہ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ ملک کی معیشت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت چلے گی یا حکومت کا اس پر انحصار کم ہو گا۔ وزیر اعظم کا یہ اندازہ ہو سکتا ہے۔ یہ اندازہ صحیح بھی ہو سکتا ہے لیکن ابھی یہ پروگرام برسرزمین روبہ عمل نہیں آیا۔ چھ مہینے کا وعدہ کرنے والے سابقہ حکمرانوں کو جو کچھ سہنا پڑا اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ اس گومگو کی کیفیت میں عوام کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے لیکن بے قابو بھی ہو سکتی ہے۔ احتساب کے عمل سے اگر کچھ حاصل ہو گا تو اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں ‘ اس عمل پر بھی عوام کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ عوام کو اس گومگو کی کیفیت سے نکالنے اور آنے والے ’’سخت فیصلوں‘‘ کے کڑے انتظار سے نکالنا ضروری ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں