Daily Mashriq


کچھ بھی تونہ بدلا

کچھ بھی تونہ بدلا

قائد حزب اختلا ف شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بہت دھو اںدھا ر اور شعلہ انگیز تقریر کر ڈالی ۔ تبصرہ نگارو ں نے کہا کہ شہباز شریف کی نیب کے بارے میں لفاظی نہیں بلکہ حقیقت تھی ، انہو ں نے اپنی تقریر کے دوران مطالبہ کیا کہ نیب کی کا رکر دگی کے متعلق ایک جوائنٹ پارلیما رنی کمیٹی تشکیل دی جائے مگر وزیر قانو ن فروغ نسیم نے اس تجو یز کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ پارلیمنٹ نیب کے معاملا ت کو پرکھ نہیں سکتا کیو ں کہ پارلیمنٹ کوئی عدالت نہیں ہے ، نیب خود مختار ادارہ ہے، اس کے معاملا ت میںمداخلت نہیں کی جا سکتی َ۔ فروغ نسیم ممتاز قانو ن دان بھی ہیں اور سنگین غداری کیس میں وہ فوجی آمر پر ویز مشرف کے وکیل ہیں۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں۔ عمر ان خان نے فروغ نسیم کو وہی محکمہ سونپ دیا ہے جو مشرف کے خلا ف سنگین غداری کیس میں استغاثہ کی حیثیت کا حامل ہے۔ اس طر ح فروغ نسیم کو اب اس سنگین غداری مقدمے کی ہر فائل تک رسائی حاصل ہو گئی ہے ۔ فروغ نسیم نے شہباز شریف کی جس تجو یز کو رد کیا ہے اس بارے میں پی پی کے رہنماء خورشید شا ہ نے بڑا مدلل جو اب دیا انہوں نے کہا کہ جس طر ح عام انتخابات میں مبینہ دھاند لی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اسی طر ح نیب کے معاملا ت کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے ۔وفاقی وزیر اطلا عات فواد چو دھری نے بھی شہباز شریف کی تقریر پر جو ابی تقریر کی ، جس میں مو صوف نے تجویز دی کہ پا رلیمانی کمیٹی نہیں بن سکتی تاہم اپو زیشن نے نیب قوانین میں ترمیم کرنے اور ان کا جائزہ لینے کی جو تجو یز دی ہے اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے ، حز ب اختلا ف اپنی تجویزیں حکومت کو دے ، یہ ایک اچھی پیش کش کی گئی ہے۔ اس مو قعہ سے حزب اختلا ف کو استفادہ کرلینا چاہیے کیو ںکہ نیب کا ادارہ آمر مشرف نے قائم کیا تھا جس کا مقصد اپنے مخالفین کا گھیر ا تنگ کر نا تھا ۔ کا فی عرصہ سے محسوس کیا جا رہا تھا کہ اس کے قوانین کا جا ئزہ لیا جا ئے ۔ جہا ں تک فروغ نسیم کی طر ف سے رد کی بات ہے تو پھر الیکشن میں مبینہ دھا ندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل نہیںدی جا سکتی کیو ں کہ الیکشن کمیشن بھی نیب کی طر ح خود مختار بلکہ اس سے زیا دہ خود مختار ادارہ ہے ،گویا جس طر ح الیکشن کمیشن کی کارکر دگی سے تعلق رکھنے والے معاملا ت کے لیے کمیٹی تشکیل ہو سکتی ہے تو نیب کے لیے بھی ایسا عمل کیا جا سکتا ہے۔ نیب ، الیکشن کمیشن ، پو لیس یا کوئی سرکا ری ادارے ہوں ان کو خود مختاری اس لیے دی جا تی ہے کہ وہ کسی بیر ونی یا کسی اثر انگیز قوت کی مداخلت کے بغیر اپنے فرائض آئین اور قانو ن کے دائر ے میں انجا م دے۔ خود مختاری کا مطلب یہ نہیںہے کہ یہ خود مختار ادارے کوئی متوازی حکو مت ہو تے ہیں اور ان سے ان کی غلطیو ں پر حکومت باز پرس نہیں کر سکتی ، ان کی کارکر دگی پر شکا یات کاجائزہ نہیں لیا جا سکتا اگر ایسی کوئی قانو نی روک ہے تو پارلیمان کو چاہیے کہ وہ اس سقم کو دو ر کر دے تاکہ ایسے ادارو ں کے بارے میں جو شکا یات پائی جا تی ہیں وہ دور ہو جائیں اور عوام کو بھی ان کی غیر قانو نی دست برد سے تحفظ حا صل ہو ۔ موجودہ حکومت کے قائد سیاسی پلیٹ فارم پر بھی طمطراق سے ادعا کیا کرتے تھے کہ وہ سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے ، اس بار ے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری بھی دعوے کر تے ہیں مثلا ًشہباز شریف کی قومی اسمبلی آمد پر بھی ان کے بدلاؤ کا دعویٰ ہے تاہم یا د رہے کہ اس سے پہلے تین دفع ایسا ہو چکا ہے۔ یو سف رضا گیلا نی اور شیخ رشید کو اسی طر ح پارلیمنٹ کے اجلا س میں شرکت کے لیے جیل سے لایاگیا ۔ شہباز شریف کا نیب کی حوالا ت سے لایا جا نا کوئی انو کھی بات نہیں ، حکومتیں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے یا کھوکلے دعوؤں سے نہیں چلا کرتیں ، اس کے لیے زمینی حقائق کا ادراک لازمی ہے ، چنانچہ اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ پی ٹی آئی کی پچاس روزہ حکمرانی میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کا گراف انہی حقائق سے آنکھ موندھ لینے کی وجہ سے نیچے آیا ہے۔ جس کا ثبوت ضمنی انتخابات کے نتائج ہیں چنا نچہ اب آنکھ کھول لیناچاہیے ۔ زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ 25؍جو لائی کو برسراقتدار پی ٹی آئی نے جنرل الیکشن میں جو نشستیں جیتیں تھیں اس میں سے تین قومی اسمبلی اور دو پنجا ب اسمبلی کی نشستیں ہا ردیں۔ان ضمنی انتخابات کے بارے میں دلچسپ حقائق بھی سامنے آئے ہیں جہاں پی ٹی آئی کا عوام میں گراف گرتے محسو س کیا گیا وہا ں 2013کے انتخابات کی بات بھی کھل گئی ، وزیر اعظم نے بے دھڑک فرمایا ہے کہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کوئی مداخلت نہیں کی نہ انتظامیہ اور نہ الیکشن کمیشن نے کسی بھی ادارے پر اثر انداز ہونے کی سعی کی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہوئے ہیں ، گویا اس سے پہلے کے تما م انتخابات شفاف اور غیر جانبدار نہ تھے ۔پی ٹی آئی کے وزراء بھی فرما رہے ہیں کہ حکومت نے مکمل ’’شرافت کا ثبوت دیا اور کسی قسم کی مداخلت کے بغیر ضمنی انتخابات منعقد کروائے ۔بہر حا ل جو بھی کوئی دعویٰ کر ے وہ اپنی جگہ البتہ حقیقت یہ ہی ہے کہ جن چار حلقوں کو لے کر عمر ان خان نے ایک سو چھبیس دن دھرنا دیا تھا و ہی حلقے آج بھی مسلم لیگ ن کے پا س ہیں ۔سابق وزیراعظم کے بھی ضمنی انتخابات کے بارے میں تبصرہ قابل توجہ ہے کہ ’’ضمنی انتخابات نے مستقبل کی منزل کی نشاند ہی کر دی ہے‘‘ ۔

متعلقہ خبریں