Daily Mashriq

کچھ تو خیال کیجئے

کچھ تو خیال کیجئے

مجھے سمجھ ہی نہیں آتیں کہ وہ کون سی وفاداریاں ہیں جو سرکاری افسران کے دلوں میں سیاسی لیڈران کے لئے پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس ملک میں رہنے والے ہر شخص کی محض ایک ہی وفاداری ہونی چاہئے جس کا واسطہ محض اس ملک سے ہونا چاہئے۔ اس ملک سے وابستہ ہمارے مشترکہ مستقبل سے ہونا چاہئے کیونکہ اسی میں ہمارا فائدہ ہے، ہمارے بچوں کا فائدہ ہے، ہمارے مستقبل کا فائدہ ہے۔ ذاتی مفادات کے کروفر میں اُلجھے، کتنے ہی لوگ میرے جیسے عام لوگوں کے لئے حیرانی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن میں سے کئی لوگوں کو میرے جیسے لوگوں نے قریب سے دیکھا ہے۔ یہ اس خیال میں غلطاں ہیں کہ شاید کسی بھی حکومت کے سدھار یا بگاڑ میں یہ بہت اہم ہیں۔ اس ملک کے مستقبل اور تقدیر کے ہی لوگ مالک ہیں۔ یہ جو سوچیں گے اور جیسے چاہیں گے ویسا ہی ہوگا۔ اپنے اپنے کمروں میں اونچی کرسیوں پر بیٹھے یہ لوگ خود کو کتنا طاقتور سمجھتے ہیں اس کا احساس شاید دیکھنے اور سُننے والوں کو پورے طور نہیںہو پاتا۔ میں اور میرے جیسے عام لوگ۔ وہ لوگ جو اپنے ہی جیسے لوگوں سے محبت کر سکتے ہیں محض اس لئے کہ وہ اس ملک سے محبت کرتے ہیں، اس ملک کے لئیے کام کرنا چاہتے ہیں، جنہیں محض اس لئے اچھی زندگی کی خواہش ہے کہ ان کے بچے پرسکون رہ سکیں۔ جن کا کام کچھ بڑا، کچھ عظیم کرنا نہیں ہے، جن کے ہاتھ میں کوئی اور طاقت نہیں، جو عام سے لوگ ہیں، عام زندگیاں گزارتے، ان کے بچے بھی عام بچے ہیں، ان کے مسئلے عام سے مسئلے ہیں، انہیں بجلی کی قیمت بڑھ جانے سے مسئلہ ہوتا ہے۔ انہیں پٹرول کی قیمت میں بڑھوتری پریشانی میں مبتلا کرتی ہے۔ بچہ اچھا پڑھتا نہ ہو تو انہیں رات کو نیند میں مسئلہ ہونے لگتا ہے۔ ان کے بچوں کو منشیات فراہم ہونے کا خطرہ بڑھنے لگے تو انہیں چین سے بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ عام لوگ کبھی نیب کے خوف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ انہوں نے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہوتا کہ انہیں کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ سیدھی سادی زندگیاں گزارتے ہیں اور اپنی ان زندگیوں میں بے وجہ پریشانیاں نہیں چاہتے۔ ان لوگوں نے اس حکومت کو اس لئے ووٹ دیئے ہیں کہ یہ انہیں بے وجہ کسی پریشانی میں مبتلا نہ کرنے کا وعدہ کررہے تھے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس وعدے کی اُمید کے ساتھ وقت گزاریں گے کہ یہ حکومت انہیں لوٹنے کیلئے دانت نہیں تیز کر رہی۔ اگر اس حکومت کی سمت درست ہوئی تو وہ کبھی نہ کبھی اس منزل تک پہنچ ہی جائیںگے۔ کم ازکم یہ تو یقین رہے گا کہ ان کا مقصد ہی بدعنوانی نہیں۔

حیرت مگر اپنی جگہ ان لوگوں کو دیکھ کر برقرار ہے کہ ان لوگوں نے ہر ایک بات کو فراموش کر کے، اپنے ہی نفع یا نقصان کی سوچ کو فراموش کرکے، اپنے مستقبل کی تباہی کا فیصلہ خود اپنے ہاتھوں سے کیونکر کیا۔ میں ایک صاحب کو جانتی ہوں جنہوں نے بڑے غرور سے نخوت بھرے لہجے میں کہا، فلاں شخص کی ٹرانسفر سے کیا ہوگا میں اس کی جگہ اس سے بھی برا آدمی بھیجوں گا، پھر دیکھتا ہوں کوئی کیا کرتا ہے، کتنے بندوں کو ٹرانسفر کریںگے۔ میں حیرت سے ان کا منہ تکتی رہی۔ یہ کیسا عزم صمیم تھا جس میں کچھ بھی مثبت نہیں تھا۔ کوئی مثبت جذبہ دکھائی نہ دیتا تھا۔ اگر کسی کی بدعنوانی کے حوالے سے کوئی شکایت کی گئی اور اسے ٹرانسفر کرنے کا کہا گیا تو اس میں آخر برائی ہی کیا تھی۔ افسوسناک ہیں یہ باتیں، یہ جذبے اور یہ وفاداریاں جو ان لوگوں کو اپنی ناک سے آگے دیکھنے نہیں دیتیں۔ افسوسناک ہے ان لوگوں کے ذہنوں کا یہ چھوٹا پن اور ان کے ارادوں کا یوں منفی ہونا، نفرت سے ناک سکوڑتے جذبے اور ان کے لہجوں میں مچلتی پستی۔ یہ کس کے دشمن ہیں؟ کیا یہ کسی کو فائدہ پہنچانے والے ہیں اور تب میرے دل سے آواز آئی کہ یہ لوگ عام آدمی کے دشمن ہیں، میرے اور آپ کے دشمن ہیں۔ یہ سب نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ یہ حکومت ناکام ہوگئی تو عمران خان کو ذاتی طور پر کیا نقصان ہوگا۔ اچھے جذبے لئے ایک نوآموز شخص ہماری ہی مدد کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ لوگ شامل ہیں جن کے ارادوں میں کجی ہے لیکن صرف ایسے ہی لوگ نہیں۔ اچھے لوگ بھی شامل ہیں، وہ لوگ جو واقعی اس ملک کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ جو واقعی پاکستان کو یورپ کے مقابلے کا ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے ہی جیسے ہیں۔ اس ملک کے وفادار۔ عام لوگ، آنکھوں میں جذبے سموئے، اپنے مستقبل، اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ لوگ۔ ان لوگوں کی پریشانیاں ہم سے الگ نہیں۔ ان لوگوں کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے محض اتنا ہی نہیں، وہ لوگ جو گزشتہ حکومتوں سے اپنی وابستگیوں کی وفاداری نبھا رہے ہیں، انہیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ انہیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ یہ وفاداریاں ان کے ملک کو، ان کے اپنے بچوں کے مستقبل کو مہنگی پڑ سکتی ہیں۔ کچھ تو خیال کیجئے، اپنا نہیں تو اس ملک کے عام لوگوں کا ہی خیال کریں۔ جنہوں نے آپ سے کبھی کوئی دشمنی نہیں کی، آپ بھلا ان سے دشمنی کیوں نبھا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں