Daily Mashriq

پردے میں رہنے دو

پردے میں رہنے دو

سماجی کارکن محترمہ گلالئی اسماعیل ایک ٹی وی انٹر ویو میں کہا کہ ثقافت، مذہب اور عورتوں کا پردہ کرنا حقوق نسواں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ مذہب ، ثقافت اور پر دے کو عورتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔وہ یہ بات بھول جاتی ہے کہ اسلام کے ہر کام میں ایک عقلی دلیل ہوتی ہے اور عقلی دلیل کے بغیر کوئی حکم اللہ صادر نہیں فرماتا۔ یمن کی کم عمر نوبل انعام یافتہ توکل کرمان سے جب ایک صحافی نے پو چھا آپ حجاب کیوں پہنتی ہیں جبکہ آپ نوبل انعام یافتہ ، پڑھی لکھی ا ور با شعور ہیں۔ تو اس پر یمن کی نوبل انعام یا فتہ توکل کرمان نے بڑے شائستہ اور بر جستہ انداز میں کہا آغاز کائنات میں انسان کے جسم پر لباس نہیں تھا ا ور جب اسے شعور ملا تو اس نے لباس پہننا شروع کیا۔ میں آج جس مقام پر ہوں اور جو پہنتی ہوں وہ انسانی سوچ اور انسانی تہذیب کاا علیٰ مقام ہے یہ کوئی قدامت پسندی اور انتہا پسندی نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں پر دہ عورتوں کو اُس ممکنہ نظر بد سے دور رکھنے اور بچانے کے خلاف ایک ڈھال ہے جس پر اسلام زور دیتا ہے ۔اسلام دین فطرت ہے اور انسا نی فطرت یہ ہے کہ جب بھی کوئی کسی عورت کو بغیر پر دے کے نمود ونمائش کے ساتھ دیکھے گا تو اُسکی جسمانی نمائش سے اُسکے جذبات برنگیختہ ہو جاتے ہیں ، جو بعد میں جنسی تشدد جیسے مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ لہٰذا اس قسم کی تمام قبا حتوں سے بچنے کے لئے اور عورت کو کسی ممکنہ تشدد سے بچانے اور حفاظت دینے کے لئے اسلام پردے کی بار بار تاکید کر تا ہے۔ آج کل ہم عورتوں کو جنسی طور پرہراساں کرنے کی اور جنسی تشدد کی مختلف خبریںپڑھتے ہیں، اُ س میں دوسرے مسائل کے علاوہ سب سے بڑی وجہ عورت کے جسم کی نمائش اور بے پر دگی بھی ہے۔ایک مشہور ماہر نفسیات کہتا ہے کہ ایک عو رت اگر با پر دہ ہو تو اُس کے خلاف جنسی تشدد میں 50 سے60فی صد تک کمی آسکتی ہے۔ امریکہ کے ایک رسالے نے معاشرتی بگاڑ کے تین بڑے محرکات بتائے ہیں جس میں پہلافحش لٹریچر، دوسرامتحرک تصویریں اور تیسرا عورتوں کی بے پر دگی شا مل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اور مومن مرد اورعورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں۔ جدید تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عورتوں کا بے پر دہ ہونا اُنکی تباہی ہے۔ جو عورتیں پر دے میں نہیں ہو تیں اُن میں کینسر کے زیادہ مواقع پائے جاتے ہیں۔ برٹش میڈیکل میگزین میں یہ بات شائع کی گئی ہے کہ میلا مینا کینسر جو یو رپ میں پہلے بُہت کم تھا اب وہاں کی عورتوں میںبڑی عام ہو گئی ہے جس سے عورتوں کے جسم کے دوسرے بر ہنہ اعضا ء کے علاوہ ٹانگیں متاثر ہو تی ہیںاور اسکی اصل وجہ مختصر کپڑے پہننا ہے۔ امریکہ کے ایک سکالر جارج بلو شی نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ امریکہ کے سابق صدر جان کینیڈی نے 1962 میں کہا تھا کہ امریکہ کا مستقبل خطرے میں ہے کیونکہ امریکہ کے نو جوانوں میں اخلاقی گراوٹ اور جانوروں کی خصوصیات بدر جہ اُتم پائی جاتی ہیں۔ اور وہ ذمہ داری سنبھالنے کے قابل نہیں جس کی ایک وجہ ایک تحقیق کے مطابق بے پر دگی تھی۔

امریکی جوانوں کی بیراہ روی میں دوسرے عوامل کے علاوہ بے پر دگی اور آوارگی اہم عنا صر ہیں۔ لبنان کے اخبار نے لکھا کہ مخلو ط نظام تعلیم میں جوان بچے اور بچیاں اپنی پڑھائی سے زیادہ جنسیات کی طرف زور دیتی ہیں۔ ڈا کٹر کا رلل کہتے ہیں کہ جوان لڑکے اور لڑکیاں آپس میں ملتے ہیں تو ان کے خون سے ایک خا ص قسم کے ہا رمون نکلتے ہیں اوریہ ہا رمون جب دماغ میں جاتے ہیں تو وہ ذہن کو مفلوج کرتے ہیں ۔ لہٰذا اُنہوں نے نو جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو آپس میں زیادہ ملنے جُلنے سے منع کیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق جنسیات کی وبا امریکہ میں سب سے زیادہ پھیلنی والی وبا ہے۔ انسانی اعصابی نظام 100 ارب نیو رون پر مشتمل ہو تا ہے اور اب تک سائنس دان اِس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ ان میں ایک نیو رون کی سٹوریج کی کیا استطا عت ہوتی ہے۔ عام طو ر پر دماغ مختلف قسم کے پیغا مات دیکھنے ، سننے اور چکھنے، سو نگھنے اور ایک چیز کو چھونے سے حا صل کرتا ہے۔ اور اس میں سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ ان پیغامات میں 80فی صد پیغامات یا انفا رمیشن آنکھوں کے ذریعے حا صل کی جاتی ہیں۔ کوئی بھی عورت اُس وقت تک کسی غیر مر د کی نظر بد سے محفو ظ اور بچ سکتی ہے جب تک وہ شائستہ لباس میں ہو۔ سائنسی اعداد و شمار کے مطابق یو رپ اور مغربی ممالک میں 21 سال کی عمر تک 98 فی صد لڑکیاں تشدد کا شکار ہو تی ہیں جس میں سب سے بڑی وجہ عورتوں کی بے پر دگی ہے۔مختلف میڈیکل ٹسٹوں سے یہ بات وا ضح ہے کہ 50 سے 60 فی صد تک انسانی جسم کی ہیٹ سر کے ذریعے خا رج ہو تی ہے ۔ ڈا کٹر کہتے ہیں کہ وہ لوگ جو سر کو ڈھانپا رکھتے ہیں وہ نزلہ ، زکام ، گلے کے انفیکشن اور دوسری بیماریوں کا کم شکار ہو تے ہیں۔وی جی رو کینا جو ماہر امراض دماغ ہے کاکہنا ہے کہ انسانی سر میں مو جودفا سفورس 108 ڈگری پر پگھلتا ہے اور اس درجہ حرات سے انسان اُس وقت زیادہ متاثر ہو تاہے جب اُسکا سر دھوپ سے بچا ہوا نہ ہو۔ ایک ماہر کا کہنا ہے کہ امریکہ میں عورتوں کی بے حُر متی کرنا سگریٹ پینے سے آسان ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جن جن ممالک اور علاقوں میں پر دے کا رواج عام نہیں ان جگہوں اور ملکوں میں عورتوں کی بے حرمتی زیادہ عام ہے۔

متعلقہ خبریں