Daily Mashriq

جے یو آئی (ف) کا دھرنا 7 دن تک بھی جاری نہیں رہ سکے گا، وزیراعظم

جے یو آئی (ف) کا دھرنا 7 دن تک بھی جاری نہیں رہ سکے گا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ’ آزادی مارچ ‘ سے پریشان نہیں اور جے یو آئی (ف) ایک ہفتے کے لیے بھی دھرنا جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

حکومتی اداروں اور اعلیٰ عہدوں پر موجود علما و مشائخ سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے تجویز کردہ مارچ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں ہیں۔

وزیراعظم سے ملاقات کرنے والے علما میں اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی)، متحدہ علما بورڈ، پنجاب اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اراکین شامل تھے۔

اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ ’ یہ اجلاس مولانا فضل الرحمٰن کے احتجاجی مارچ سے متعلق حمایت کے لیے نہیں بلایا گیا، میں نے کئی احتجاج دیکھے ہیں اور یہاں تک کہ 126 روز تک جاری رہنے والے دھرنے کی قیادت بھی کی‘۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کا بنیادی مقصد کا ’ ریاست مدینہ کی اصل فطرت پر تبادلہ خیال ‘ کرنا تھا۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’ میں ریاست مدینہ کے ماڈل پر پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانا چاہتا ہوں اور یہی میری زندگی کا مقصد ہے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’ میں سابق حکمرانوں کی طرح سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان کا نام استعمال نہیں کررہا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ ملک میں اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں خاص طور پر جن مسائل کا قوم کو سامنا ہے اس میں علمائے کرام کا خاص کردار ہے‘۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ وہ مذہبی علما سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان سے تعاون طلب کیا کہ تاکہ حکومت اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔

عمران خان نے ملک کے دور دراز علاقوں اور معاشرے کے کمزور طبقوں میں تعلیم پھیلانے میں مدارس کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ’ نظام تعلیم اور نصاب میں اصلاحات کی ضرورت ہے جس میں مذہبی علما کا تعاون انتہائی ضروری ہے‘۔ وزیراعظم نے ایران اور سعودی عرب کے دوروں سے متعلق بھی علما کو اعتماد میں لیا۔

دورے کے مثبت نتائج سے متعلق اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم دد مسلمان ممالک کے دوران کشیدگی کا خاتمہ چاہتے ہیں‘۔

متعلقہ خبریں