Daily Mashriq

ٹانک میں خونریز تصادم اور پولیس کی کارکردگی

ٹانک میں خونریز تصادم اور پولیس کی کارکردگی

ایک ایسے وقت میں جب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان پولیس کی ایک تقریب میں اس کی کارکردگی بارے رطب السان تھے ٹانک میں متحارب گروپوں کے درمیان فائرنگ میں پندرہ افراد قتل اور چھ شدید زخمی ہوگئے جس میں پولیس کی ناکامی یہ ہے کہ دو مختلف جگہوں پر فائرنگ کے واقعات کے ملزمان کا نہ تو پیچھا کیا گیا اور نہ ہی پولیس موقع پر پہنچ سکی پولیس کی اس سے بھی بڑی ناکامی طویل عرصے سے مخاصمت جاری رکھنے والے گروپوں کو غیر مسلح نہ کرنا ہے اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ بھی حال ہی میں پیش آیا تھا ٹانک پولیس نے واقعے کے مرکزی ملزم کا گھر کس قانون کے تحت جلایا اور ان درودیوار کی کیا تقصیر تھی اس کا بہتر جواب پولیس حکام ہی دے سکتے ہیں پولیس اگر واقعے کے بعد ملزم کا گھر جلانے کے گھر میں رکھے گئے اسلحہ کو قبضے میں لیتی اور مفرور ملزم کی گرفتاری کیلئے تگ ودو کرتی وقوعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لیکر ملزمان کو بآسانی نکلنے نہ دیتی تو کم از کم اس بات کا ثبوت تو مل جاتا کہ علاقے میں پولیس موجود ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعین واقع کے روز جس پولیس کو مثالی اور صوبے میں پولیس اصلاحات کی دوسرے صوبوں میں تقلید کا مژدہ دے رہے تھے اگر وہ خیبر پختونخوا پولیس ہوتی تو یہ واقعہ اس شدت سے رونما نہ ہوتا یا پھر ملزمان کا تعاقب کر کے گرفتاری ہوچکی ہوتی وزیراعلیٰ کا خیبر پختونخوا پولیس میں سیاسی مداخلت نہ کرنے کا دعویٰ کس حد تک درست ہے یا کس حد تک فسانہ اور اس عدم مداخلت کے نتیجے میں خیبرپختونخوا پولیس کس حد تک بہتر اور فعال ہوئی ہے اس سے قطع نظر بعض سینئر پولیس افسران کی تقرری وتبادلے کے اختیارات وزیراعلیٰ کو دینے کی اطلاعات ہیں اور اگر ایسا نہ بھی ہوتو حکومتی ایما پر ہی پولیس افسران کی تقرری وتبادلے کوئی راز کی بات نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ تمام تر دعوئوں کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی قابل غور ہے تھانوں میں حوالاتیوں کی اموات ،ایف آئی آرز کے اندراج سے انکار چوری کے سامان کی برآمدگی میں ناکامی اور متاثرین سے عدم تعاون کی شکایات جوں کی توں ہیں ہمارے تئیں پولیس میں اصلاحات کی جن مساعی کی حکومت دعویدار ہے ان سے عوام کو متعارف کرانے کا سہل طریقہ یہ ہے کہ عوام کو نظر آنے والے اقدامات کے ذریعے یہ باور کرادیا جائے کہ پولیس کے نظام اور کام میں بہتری آئی ہے۔ٹانک میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس کے عوام کی جان ومال کے تحفظ میں ناکامی کا تاثر اور عوام میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ فطری امر ہے۔اگر سڑک پر چلتی گاڑیوں میں بیٹھے مسافر بھی محفوظ نہیں اور دن دیہاڑے کوچ پر فائرنگ کر کے بیگناہ افراد کو صرف مخالف فریق کے ہم قبیلہ ہونے پر موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے تو پولیس اور حکومت کی عملداری کہاں باقی رہے گی۔ٹانک میں مسلح گروپوں کے درمیان فائرنگ کے ذمہ دارہر دو گروہوں کے اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو جب تک گرفتار کر کے عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا پولیس کو ایک لمحہ بھی آرام نہیں کرنا چاہیئے۔آئی جی خیبرپختونخوا ٹانک پولیس کی غفلت وناکامی کی باقاعدہ تحقیقات کروائیں اور اس واقعے کے بعد پولیس کی کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری کے تمام معاملات کی اس وقت تک ذاتی طور پر نگرانی کریں جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوتے۔اس بڑے واقعہ کے بعد متحارب گروہوں اور قبیلوں کے درمیان مخاصمت میں اضافہ اور مزید جانی نقصانات کے امکان کو بھی کم سے کم کرنے کی سعی کی جائے ہر دو فریق کے ملوث افراد کی گرفتاری اور متحارب فریقوں اور ان کے حامیوں کو غیر مسلح کرنے کیلئے آپریشن کیا جائے اور علاقے میں کسی کو اسلحہ لیکر چلنے اور اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ دی جائے پولیس کو متحرک کیا جائے پولیس کو تھانوں میں نہیں علاقے کی سڑکوں اور اہم مقامات پر نظر آنا چاہیئے ملزمان کی گرفتاری تک خصوصی حفاظتی اقدامات کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں