Daily Mashriq

نوجوانوں کیلئے احسن موقع

نوجوانوں کیلئے احسن موقع

وزیراعظم عمران خان نے جن دعوئوں کے ساتھ نوجوانوں کوبلا سود قرضے بلا امتیاز اور میرٹ پر دینے کا اعلان کیا ہے اس طرح کے اقدامات اور اطلاعات سابقہ وزرائے اعظم بھی کرچکے ہیں قرضے بھی دیئے گئے لیکن کم ہی نوجوانوں کو میرٹ پر ملے اور خود روزگار میں کامیابی ہوئی بہرحال یہ ایک اچھا حکومتی اقدام ہے ملکی معاشرے کے تناظر میں اس کا میرٹ پر ملنا اور حکمران جماعت کے کارکنوں سمیت بیوروکریسی کے منظور نظر افراد کو قرضے ملنے کا زیادہ امکان بہر حال حقیقت ہے حصول قرض کا پیچیدہ نظام اور لوازمات سے اکثر نوجوان شاکی رہتے ہیں اس کو سہل وسادہ بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اس قسم کے قرضوں کا مقصد نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار اور خود روزگار میں مدد ہے حکومت سے قرض حاصل کرنے کے بعد اس کی نگرانی کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے بہرحال حصول قرض کے بعد یہ متعلقہ افراد پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع کرنے کی بجائے دن رات محنت کر کے اپنی سرمایہ کاری کو بچائیں اور منافع بخش بنائیں۔ پسماندہ اضلاع کے نوجوانوں کو پہلے فیز میں قرضوں کا اجراء احسن فیصلہ ہے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ وزیراعظم نے جس جذبے کے تحت ان قرضوں کا اجراء کیا ہے اس کے خاطر خواہ فوائد سامنے آئیں گے اور نوجوان اس سرمائے کو اپنی صلاحیت ومحنت کے ساتھ بروئے کار لا کر مطلوبہ مقصد کے حصول میں کامیاب ہوسکیں گے۔

پولیو کے خلاف پروپیگنڈا کابار بار تذکرہ کیوں؟

پولیو مہم کے خلاف منفی پروپیگنڈا اب تقریباً قصہ پارینہ ہے جبکہ پشاور میں حال ہی میں منفی کردار ادا کرنے والے عناصر نے اگلی پولیو مہم میں اس غلطی کا عملی طور پر ازالہ کر کے اس کا اعتراف کیا کہ وہ غلطی پر تھے یا پھر ان کو غلط فہمی ہوئی تھی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہر پولیو مہم شروع ہونے سے قبل پولیو مہم کے منتظمین کی جانب سے اس مہم کے خلاف ماضی کے رویوں کا بار بار حوالہ اس مہم کے حوالے سے منفی تاثرات کو زائل کرنے کی بجائے ان تاثرات کو تازہ کرنے کا باعث بن رہا ہے جس کا پولیو مہم پر منفی اثر پڑنا فطری امر ہے پولیو مہم کی ناکامی کی واحد وجہ اس کے خلاف پراپیگنڈہ پر گردانا جاتا ہے جو خلاف حقیقت ہے پولیو کے انتظامات اور اس کے رضا کاروں وکارکنوں کی جانب سے ہونے والی کوتاہی وغفلت دور کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔پولیو قطرے پلانے کے حوالے سے بار بار فتویٰ لینے اور اس کا تذکرہ کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں جید علمائے کرام بالا اتفاق ان قطروں کو مباح اور انسانی ضرورت، بچوں کو معذوری سے بچائو کیلئے مناسب اور کارآمد احتیاطی تدبیر قرار دے چکے ہیں اس لئے اب ابہام باقی نہیں اس کے باوجود مخالفت کرنے والوں کو قائل کرنا مشکل ہے۔بہتر ہوگا کہ پولیو مہم کے منتظمین بار بار ایک ہی رٹ لگانے کے اپنے اصل کام کو کامیاب بنانے پر توجہ دیں اورزیادہ سے زیادہ بچوں کو پولیس قطرے پلانے کی مہم کو کامیاب بنائیں۔

نامناسب مقام پر جلسہ

جس طرح وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا جے یو آئی(ف) کی آزادی مارچ کے شرکاء کو صوبے سے نہ گزرنے دینے کا بیان مناسب نہ تھا اسی طرح جے یو آئی(ف) کے کارکنوں کا وزیراعلیٰ کے آبائی علاقے اور گھر کے قریب اجتماع کا انعقاد مناسب نہیں وزیراعلیٰ کے بیان کے جواب میں بیان ہی مناسب ردعمل تھا اور اگر اس کے باوجود وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیرائو ہی مسکت جواب تھا تو ان کی سرکاری رہائش گاہ کا گھیرائو کیا جاتا اور اس کے ارد گرد جلسہ کیا جاتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی کے آبائی گھر کا گھیرائو کرے جہاں ان کے عزیزواقارب رہتے ہوں جن کا سیاست وحکومت سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہوتا۔اس طرح کے اجتماعات سے ضعفاء خواتین اور بچوں کا بے آرام اور ہراساں ہونا فطری امر ہے جس طرح جے یو آئی(ف)کے کارکنوں کو اس کا حق نہیں دیا جا سکتا اسی طرح پی ٹی آئی کے کارکن اگر جوابی طور پر جے یو آئی(ف) کے آبائی گھر کا گھیرائو کرنے کی غلطی کرنا چاہیں تو وہ بھی قابل مذمت بات ہوگی۔خوش آئند امر یہ ہے کہ جے یو آئی کا اجتماع پر امن اور منظم طریقے سے منعقد ہوا اور کسی نا خوشگوار واقعے کی نوبت نہ آئی یہ ایک مثبت بات ہے لیکن اصولی طور پر سیاست کو آبائی گھروں کے گھیرائو یا وہاں جا کر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیںدی جا سکتی جے یو آئی کے کارکنوں کے پاس زوربازو آزمانے کے ابھی بہت سے مواقع آنے ہیں جبکہ حکمرانوں کے بھی امتحان کے دن آرہے ہیں۔خیبرپختونخوا کی اپنی روایات ہیں احترام اور شائستگی کی روایات ہمارے معاشرے کا خاصہ ہیں جن کو سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیئے جے یو آئی(ف) نے وزیراعلیٰ کے آبائی گھر کے پاس طاقت کا مظاہرہ کر کے جو روایت قائم کی ہے توقع کی جانی چاہیئے کہ اس کا اعادہ نہیں ہوگا۔

مداخلت بے جا اور تصادم کا نامناسب رویہ

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہڑتالی ڈاکٹروں کی طرف سے او پی ڈی زبردستی بند کرنے کی کوشش پر سیکورٹی اہلکاروں کے تصادم اور ایک سینئر ڈاکٹر وینگ ڈاکٹرز کی راستے میں ہاتھا پائی اور فائرنگ جیسے واقعات معزز پیشے سے تعلق رکھنے والے قابل وذہین شخصیات کا مناسب رویہ نہیں۔ڈاکٹروں کو اپنا احتجاج اور ہڑتال کا حق استعمال کرتے ہوئے مداخلت بے جا سے پرہیز کرنا چاہیئے سینئر ڈاکٹر اور جونیئر ڈاکٹروں میں تصادم تو باعث افسوس امر ہے ہم سمجھتے ہیں کہ معاملات اور اختلافات کو ذاتی حملوں اور تشدد تک نہ بڑھا یا جائے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ ڈاکٹر برادری اس حد تک نہیں جائے گی جس سے اُن کے پیشے کا وقار متاثر ہو اور وہ معاشرے میں عزت واحترام کا مقام کھو دیں۔

متعلقہ خبریں