Daily Mashriq

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

آج صبح سویرے اخبار کی سنہرے خواب ، سبز باغ، دھونس دھمکیوں ، خوف یا سراسیمگی پھیلانے والی سرخیوں کا ناشتہ کرنے سے پہلے برطانیہ کے شہزادے ولیم اور شہزادی کیٹ مڈلٹن کی اس دل ربا تصویر پر نظر پڑی جس میں وہ شاہی مسجد لاہور میں آلتی پالتی مارے یا زانوئے احترام طے کئے نہایت ادب و احترم سے سر جھکائے اور ہاتھ بانڈھے بیٹھے تلاوت کلام مجید فرقان حمید سننے کی سعادت حاصل کر رہے تھے ،

اگر تو می خواہی مسلمان زیستن

نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن

یہ شعر ہمیںاکثر اس وقت سننے کو ملتا ہے جب کسی تقریب کے شروع ہونے سے پہلے تلاوت کلام مجید فرقان حمید کے لئے کسی قاری کو بلانے اور سامعین کو تلاوت کلام مجید سننے کی سعادت حاصل کرنے کی دعوت دی جاتی ہے ، اک سکوت چھاجاتا ہے ساری محفل پر ،رس گھولنے لگتا ہے کلام مجید کا تقدس ہمارے ذہن و شعور میں ، نس نس سربسجود ہوجاتی ہے تلاوت کلام پاک سننے کی سعادت حاصل کرتے وقت

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے

وہبت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

یہی عالم شوق کا ہمیں برطانیہ سے پاکستان آنے والے شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی تصویر میں نظر آرہا تھا، ہمیں لگا جیسے ان کی یہ تصویر بول بول کر کہہ رہی ہو کہ ہم کلمہ گو مسلمانوں سے بڑھ کر مسلمان ہیں ، کلمہ گو مسلمان ہونے اور پکے مسلمان ہونے میں بڑا فرق ہے ، مسلمان بننے سے پہلے اگر آپ کے دل میں انسانیت کا درد جاگ اٹھے، اگر آپ رحمت اللعالمین اور محسن انسانیت ۖکی سنت ادا کرتے ہوئے مسلمانی کا دعویٰ کرنے سے پہلے اپنے اندر انسانیت کا درد جگا لیں ، انسانیت کی محبت اپنے دلوں میں جگا لیں تو آپ مسلمان تو مسلمان، مومن کے درجہ پر بھی فائز ہوسکتے ہیں ، برطانوی شاہی خاندان کے یہ دو بچے جو ہمارے ملک کی سیر کرنے آئے ہیں ، ان لوگوں کی اولاد جو ہم پر کم و بیش ایک صدی حکومت کرکے ہم کو ہمارے حال پر چھوڑ کر چلے گئے ، ان کی یہ تصویر پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ وہ کون سی حکمت عملی تھی جس نے ہم کو انکا غلام اور ان کو اپنا حکمران بنا دیا ، یہ تصویر بتا رہی ہے کہ وہ ہماری دینی اقدار کا احترام کرنا جانتے تھے ، وہ حکومت پر قبضہ جمانے سے پہلے دلوں کو اپنے قبضہ میں لینے کی حکمت عملی کو اپنائے ہوئے تھے ، بہت کم تھے ہم میں حیدر علی اور شیر میسور ٹیپو سلطان ، لیکن جس وقت وہ غلامی کا توک اتار پھینکنے کو اٹھے تو اس وقت تک میر جعفر اور میر صادق اپنا کام دکھاچکے تھے ، برطانوی تخت و تاج کے یہ وارث بچے اپنی تصویر میں دیکھنے والوں کو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

جو لوگ محبتوں کی زبان جانتے ہیں ، وہ اس تصویر کو پہلی ہی نظر میں دیکھ کردل ہی دل میں جی آیاں نوں ، ہرکلہ راشہ، خیر نال آیو، پخیر راغلے ، جم جم آؤ ، 'خوش آمدی اے باعث آبادی ما' کے خیر سگالی جملے دہرانے لگے ہوں گے اور نصیب دشمناں جو لوگ نفرتوں کے پر وردہ ہیں ، بم پھوڑنے ، ڈنڈے لہرانے اور حکومت گرانے کو جز و ایمان سمجھتے ہیں زہر لگ رہی ہوگی ان کو یہ تصویر، یہ تصویر ثابت کر رہی ہے کہ پاکستان نام نہاد دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد ہوچکا ہے ، ملک کی آزادی اور اس کے امن و کو گزند پہنچانے والی طاغوتی قوتیں اپنے منہ کی کھا کر خاموش ہو چکی ہیںاور اگر خاموش نہیں ہوئیں تو پاکستان کے بائیس کروڑ آبادی کی خاموش اکثریت انہیں خاموش کرادے گی ، لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ معاشرتی ناہمواریوں کو ختم کرکے ، مہنگائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر، حق اور انصاف کا بول بالا کرکے عوام کے دل جیتنے کی کوشش کی جائے ، کتنی محبت کرنے والے ہیں ہمارے پاک وطن کے پروردہ لوگ، اس کا اندازہ صبح نور کے طلوع ہونے سے پہلے یا اس کے فوراً بعد اس وقت ہوجاتا ہے جب ہمیں اوپر تلے درجنوں کی تعداد' صبح بخیر' کے دعائیہ اور خیر سگالی کے کلمات موصول ہونے لگتے ہیں ، مجھے اپنے کالموں کی ایک ذہین و فطین قاریہ کا ایسا ہی پیغام ملا تو میں نے اسے مصروف ہوں ، برطانوی شاہی خاندان کے مہمانوں کی تصویر دیکھ کرکالم لکھ رہا ہوں ، کہہ کر جواب دینے سے معذرت کی ، میں نے یہ بات کرنی تھی تو وہ اوپر تلے ایس ایم ایس کر تے ہوئے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے لگیں ، '' برطانیہ کے مہمانوں کی آمد سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا، یہ لوگ ہمارے لباس کو اپنے فیشن کے طور پراستعمال کرکے ہمارے کلچر کو فروغ دیں گے اور پینٹ شرٹ کی دلدادہ نسل کی غیرت کو جگا سکیں گے ، ہمارے یہ مہمان پاکستانی سفیر بن کر دنیا والوں کو پاکستانیت کا درس دیں گے ،'' میں نے سلمیٰ بی بی کو کہا کہ میں تمہاری باتوں کا جواب نہیں دے سکتا، البتہ اتنا عرض کئے دیتا ہوں کہ آج میں شین کی ڈائری کی بجائے ''سین شین کی ڈائری'' لکھ کر منصہ شہود پر لانے کیلئے بھیج دوں گا ، جس وقت برطانیہ کے شاہی خاندان کے مہمان پھول کی پتیوں کا پیکر بن کر ہیرے کاجگر کاٹنے ہمارے ملک تشریف لائے تو ہم نے انہیں دلہن کی طرح سجائے گئے پاکستانی رکشہ میںبٹھا کر وفاقی دارالحکومت کے پر منظر مقامات دکھا تے ہوئے محبت فاتح عالم کے ترانے گائے ، انہیں پیار کرنے والے چترالیوں کے جھرمٹ میں لے گئے اورمبہوت ہوکر تکتے رہ گئے اس امن نگر میں بارود کی فصل اگاکر انگارے برسانے والے ، اور ہم پکار پکار کر کہنے لگے

وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقیں ہے پانی یہیں سے نکلے گا

متعلقہ خبریں