Daily Mashriq

ریٹائرمنٹ کے بعد کی کہانی

ریٹائرمنٹ کے بعد کی کہانی

ہم آہستہ آہستہ ریٹائرمنٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں اگرچہ حکومت نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں تین برس کا اضافہ کردیا ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ وقت پر ملازمت سے سبکدوش ہوکر ریٹائرڈ لائف سے بھی لطف اندوز ہوںکام کام اور بس کام !اب دل آزاد پنچھی کی طرح کھلی فضائوں میں اڑنا چاہتا ہے زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب پابندیوں سے دل اکتا جاتا ہے لیکن ہم اس حوالے سے اچھے خاصے محتاط واقع ہوئے ہیں خیال آتا ہے کہ کہیں جلد بازی میں بنا بنایا کھیل ہی نہ بگاڑ دیں اس لیے ہم آج کل تحقیق کر رہے ہیں ریٹائرڈ لوگوں سے مل کر ان سے معلومات حاصل کر رہے ہیںان کی زندگی کے حوالے سے جاننے کی کوششوں میں مصروف ہیں آج ویسے ہی خیال آیا کہ آج اپنی تحقیق اپنے قارئین کے ساتھ بھی شیئر کروں شاید کسی کا بھلا ہوجائے !اب مختلف لوگوں کی سنائی ہوئی کہانیاں آپ کو کسی کا نام لیے بغیر سناتے ہیں کلیجہ مضبوطی سے تھام لیجیے !یار بس کیا بتائوں؟بیوی بچے اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں بیوی زیادہ پرواہ اس لیے بھی نہیں کرتی کہ وہ ہر مہینے پنشن وصول کرلیتی ہے ساتھ ہی یہ طعنے بھی دیے جاتے ہیں کہ تمہاری پنشن تو چار دن بھی نہیں چلتی مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے تمہیں کیا پتہ گھر چلانا آج کے دور میں کتنا مشکل ہوگیا ہے! کل اس گھر میں میری کتنی عزت تھی سب میرے نام کا کلمہ پڑھا کرتے تھے لیکن اب ایسا کیا ہواہے کہ کوئی میری شکل تک دیکھنے کا روادار نہیں ہے میں نے ساری زندگی بچوں کی خدمت کی رات دن ایک کرکے محنت کرتا رہا جو کمایا لاکر بیوی کے ہاتھ پر رکھ دیا کبھی یہ نہیں پوچھا کہ کتنا خرچہ ہوا اگر کچھ بچا ہے تو واپس کردو بس ساری عمر بیوی کو مختار بنائے رکھا آج جب نوکری سے فارغ ہو چکا ہوں معمولی سی پنشن پر گزارا ہے تو میرے ساتھ کوئی بات کرنا بھی پسند نہیں کرتاا س طرح کی یا اس سے ملتی جلتی کہانی ہر پنشن یافتہ شخص سناتا ہے دراصل گھر آکر بیٹھ جانا بہت سے مسائل کو جنم دیتا ہے جو لوگ اپنے آپ کو ہر وقت مصروف رکھتے ہیں وہ پریشانیوں سے دور ہی رہتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ ان کے پاس پریشان ہونے کا وقت ہی نہیں ہوتاریٹائرڈ حضرات کی باتیں سن کر پتہ چلتا ہے کہ کام کتنی بڑی نعمت ہے ہر ریٹائرڈ بندہ اپنے دفتر کے زمانے کو یاد کرتا ہے ٹھنڈی آہیں بھرتا ہے اپنے کارناموں کا تذکر ہ کرتا ہے اسے وہ لوگ یاد آتے ہیں جن کی رفاقت میں اس نے اپنے فرائض منصبی سرانجام دیے ہوتے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی رنجشیں ،دوستیاں ،پیار محبت ،نادانیاں ،حماقتیں ،ہلکے پھلکے لطیفے، اپنی غلطیا ں، دوستوں کی حماقتیں یہ سب کچھ اسے ریٹائرمنٹ کے بعد یاد آتا ہے وہ لوگ بڑے ہوشیار ہوتے ہیں جو ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی اپنے لیے کوئی متبادل کام دریافت کرلیتے ہیں ایسے لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تنہائی کا شکار نہیں ہوتے انہیں بیوی بچوں کی تندو تیز باتوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ جس طرح وہ پہلے کما رہے ہوتے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کماتے رہتے ہیں ایسے کمائو والدین کے بچے زندگی کے آخری لمحات تک ان کی عزت کرتے رہتے ہیں ریٹائرمنٹ سے پہلے اگر آنے والے وقت کے حوالے سے منصوبہ بندی کر لی جائے تو بہتر ہوتا ہے ہمارے یہاں عام طور پر ریٹائرڈ حضرات یہ ذہن بنالیتے ہیں کہ بس انہوں نے بہت کام کر لیا اب ملازمت سے فراغت کے بعد آرام کرنا ہے دفتروں کے جھمیلوں سے جان چھوٹی ہے تو پھر اپنے آپ کو نئی ذمہ داریوں میں ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ اب کچھ وقت گھر والوں کے ساتھ بھی گزارنا چاہیے ہمیشہ اہل خانہ کی یہی شکایت رہی ہے کہ آپ ہمیں وقت نہیں دیتے! کتنی مصروف زندگی گزاری ہے ہم نے ! اب گھروالوں کو وقت دینا ہے! بس یہیں سے کھیل بگڑ جاتا ہے دو چار ہفتے تو بڑے اچھے گزر جاتے ہیں لیکن پھر آہستہ آہستہ گھر والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ صاحب جی تو ہر کام میں مداخلت کرنے لگے ہیں خاتون خانہ کا یہ خیال ہوتا ہے کہ سالہا سال سے ہم گھر کا نظام چلا رہے ہیں کسی بھی جگہ کوئی خرابی نہیں ہے اب آپ نے نت نئے مشورے دینے شروع کردیے ہیں آپ اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھیئے ہمارے کاموں میں مداخلت مت کیجیے ورنہ گھر کا سارا نظام ہی چوپٹ ہو کر رہ جائے گا ریٹائرڈ حضرات کی ایک قسم وہ بھی ہے جس نے اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے کوئی نہ کوئی مشغلہ اپنا رکھا ہوتا ہے اس مشغلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا اپنا وقت بھی اچھا گزرتا ہے اور وہ گھر والوں پر بوجھ بھی نہیں بنتے کچھ لوگ اپنے آپ کو مطالعے میں مصروف رکھتے ہیں گھر کے کسی گوشے میں آرام سے بیٹھ کر کسی کتاب کے مطالعے میں مگن رہتے ہیں اگرچہ اس گوشہ سکون میں بھی ان پرمیزائل برابر برستے رہتے ہیں حوا کی بیٹی آتے جاتے ان پر جملے کستی رہتی ہے بس آپ تو جب دیکھئے کتا ب کے مطالعے میں ڈوبے رہتے ہیں کبھی کتاب کی دنیا سے باہر نکل کر، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں