Daily Mashriq

معرکہ تمام شدیا نئے باب کھلیں گے ؟

معرکہ تمام شدیا نئے باب کھلیں گے ؟

گوکہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو عدالت کی جانب سے نااہلی کی سزادینے کے بعد خالی شدہ نشست این اے 120کا ضمنی انتخاب ایک اہم حلقے کا ضمنی انتخاب تھا لیکن اسے سیاسی جماعتوں کی جانب سے ضرورت سے زائد اہمیت دی گئی ۔ مسلم لیگ (ن) کیلئے اس نشست کی کامیابی اس لئے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا کہ اگر اس نشست پر اس کو کامیابی نہ ملتی تو مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیرا عظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز دونوں کا مستقبل او رسیاست دائو پر لگتا۔ اس نشست پر کامیابی مسلم لیگ (ن) کیلئے پانا مہ دستاویزات کے مقدمے کے فیصلے کے بعد بڑا ریلیف ہے ۔ اس ضمنی انتخاب کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمران جماعت کو اپنے حامیوں کو اغواء کئے جانے کی شکایت ہے اور کامیابی کے باوجود وہ اس امر کا تاثر دے رہے ہیں کہ ان کی کامیابی کی راہ میںروڑے اٹکائے گئے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اگر چہ و ہ انتخاب تو ہار گئیں لیکن انہوں نے دوسری مرتبہ بھی یہ ثابت کر دیا کہ لاہور این اے 120اب صرف مسلم لیگ (ن) کا حلقہ نہیں رہا بلکہ اس حلقے میں اس کیلئے چیلنجز بڑھ رہے ہیں اور مقابلہ سخت ہورہا ہے ۔ یاسمین راشد نے گھر گھر جا کرووٹ مانگنے اور رابطہ عوام مہم کا احسن طریقہ اختیار کیا اس سے ان کو حلقے کے ووٹروں سے زیادہ واقفیت اور تجربہ حاصل ہوا ہوگا جس کی روشنی میں وہ چند ہی ماہ بعد ہونے والے عام انتخابا ت میں فائدہ اٹھا سکیں گی جبکہ لیگ کی امیدوار علیل اور بیرون ملک ہونے کی بناء پر اپنے حلقہ انتخاب میں جانا تو درکنار وہ اپنے آپ کوووٹ ڈالنے بھی نہ آسکیں اپنی غیر موجودگی میںان کی کامیابی حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے گڑھ ہونے کا اعادہ ہے ۔ صرف کلثوم نواز ہی نہیں بلکہ اس حلقے سے سابق وزیراعظم نواز شریف جو اس حلقے سے بار بار کامیابی کے بعد ناقابل شکست سمجھے جاتے ہیں وہ بھی کسی الیکشن کمپین میں حصہ دار نہ تھے ۔ مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز بھی اس حلقے میں اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود جوہ انتخابی عمل سے یکسر باہر رہے مریم نواز نے حلقے کی امید وار اپنی والدہ کلثوم نواز کی انتخابی مہم تن تنہا چلائی جن کو جغادری مسلم لیگی رہنمائوں اور کارکنوں کی پوری تائید روز اول سے انتخابی نتائج آنے تک رہی انہوں نے پی ٹی آئی کی امید وار کے برعکس انتخابی جلسوں کا طریقہ کار چنا بہر حال اس ضمنی انتخاب میں مریم نواز شریف کو در کار تجربہ اعتماد او رجو شہر ت حاصل ہوئی وہ ان کی سیاست میںآمد کیلئے کار آمد ہوگا ۔ ممکن ہے اگلی مرتبہ اس حلقے سے مریم نواز اور پی ٹی آئی کی یاسمین راشد ہی کا مقابلہ ہو ۔ مریم نواز شریف اس سیاسی خلاء کو تو پر نہیں کر سکیںگی جوان کے والد گرامی کی سیاسی میدان سے الگ ہونے کی بناء پر پیدا ہوا ہے لیکن ان کی نشست پر کامیاب ہو کر اپنے خاندانی سیٹ کو محفوظ ضرور کر پائیں گی بہر حال یہ تو موقع اور حالات پر منحصر ہوگا ۔ پی ٹی آئی کی راہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کو دوران ضمنی انتخاب شروع سے لیکر آخر تک 29ہزار ووٹوں پر شک و شبہ اور اعتراض رہا لیکن اس ضمن میں انہوں نے کسی فورم سے باضابطہ رجوع نہ کرکے اپنا دعویٰ خود ہی کمزور کیا شکست تسلیم نہ کرنے کی پی ٹی آئی کی روایت کا اعادہ پی ٹی آئی کیلئے اچھے تاثر کا باعث نہ ہوگا اگر 29ہزار ووٹوں کا معاملہ اتنا سنجیدہ تھا تو پی ٹی آئی اپنے امید وار سے احتجاجاً ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کر کے ایک سنجیدہ قدم اٹھا سکتیں تھیں ناکامی کے بعد کسی قسم کا سخت ردعمل کھسیانی بلی کھمبا نو چے کے مصداق ٹھہرے گا اور پی ٹی آئی کے حوالے سے یہ منفی تاثر پھیلے گا کہ وہ خلاف مرضی نتائج اور فیصلوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی ۔ ہمارے تئیں پی ٹی آئی کو مزید کسی ایسی سرگرمی کا حصہ بننے کی بجائے جس کا انجام حسب دستور لاحاصل ٹھہرے اس حلقے میں عام انتخابات تک رابطہ عوام مہم کے ذریعے اپنی پوز یشن کو مستحکم کرنے پر توجہ دینی چاہیئے ۔ جہاں تک اس ضمن انتخاب کے نتائج کا ملکی سیاست اور ملکی سطح پر اثرات کا سوال ہے گو کہ ایک ضمنی انتخاب کے نتیجے سے ملکی حالات اور سیاست پر اثرات مرتب ہونے کا امکان نہیں ہوا کرتا لیکن مریم نواز نے یہ ذومعنی بات کرکے کہ اس انتخاب میں ان قوتوں کا بھی مقابلہ کیا جو غیر مرئی ہیں جبکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے کارکنوں کے غائب کئے جانے اور انتخابی عمل میں مداخلت کا کہہ کر کشیدگی کو بڑھانے کا حامل قدم اٹھا یا ہے جبکہ مریم نواز شریف کا'' عوام نے عدالتی فیصلہ اور اس کے ترجمانوں کو مسترد کیا'' کہہ کر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے جس سے بجا طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ بظاہر کی لڑائی کی جو بھی صورت ہو بباطن کی چومکھی لڑائی نہ صرف جاری رہے گی بلکہ شدت بھی اختیار کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں بعید نہیں کہ کچھ ڈرامائی موڑ بھی آجائیں۔ ہمارے تئیں سیاست اور عدالت کے میدان الگ الگ ہی ہوتے ہیں اور غیرمرئی قو توتوں کی مداخلت کا الزام ملکی سیاست میں نئی بات نہیں۔ اگر سیاست کو سیاست اور عدالت کو عدالت کی جگہ رکھا جائے اور بلا جواز ان کو ملانے اور پراگندہ کرنے کی سعی نہ کی جائے تو بہتر ہوگا۔ عدالتی لڑائی عدالت میں لڑی جائے اور سیاسی لڑائی سیاست کے میدان تک رہنے دی جائے تو بہتر ہوگا۔ مسلم لیگ(ن) کی این اے 120 میں اپنی ہی نشست پر کامیابی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے لئے این اے چار پشاور کے ضمنی انتخاب پر اپنی نشست میں کامیابی کا چیلنج بڑھ گیا ہے۔ اس نشست پر کامیابی تحریک انصاف کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح لاہور کی نشست کا دفاع مسلم لیگ(ن) کے لئے اہم تھا۔اطمینان کی بات یہ ہے کہ این اے 120 کا انتخاب پر امن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ قبل ازیں آزادی کرکٹ کپ کے پر امن انعقاد سے امن و استحکام کا جو باب کھلا تھا ضمنی انتخاب کے پر امن کامیاب انعقاد سے اعتماد اور بڑھا ۔ضمنی انتخاب میں ملی مسلم لیگ کے امیدوار کا تیسرے نمبر پر آنا اور پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے امیدواروں کی بد ترین شکست اس انتخاب کا ایک اور اہم باب تھا جس سے بعض سیاسی جماعتوں کو خجالت ہوئی تو ایک نوزائیدہ جماعت کا پہلے ہی ضمنی انتخاب میں تیسرے نمبر پر آنا حیران کن تھا۔ پی پی پی اور جماعت اسلامی دونوں اس حلقے میں ماضی میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعتیں تھیں۔

اداریہ