Daily Mashriq


آہ !افتخار قیصر

آہ !افتخار قیصر

پاکستان ٹیلی ویژن پر چھیالیس سال تک اداکاری کے جوہر دکھانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار افتخار قیصر کی رحلت سے خیبر پختونخوا کا صوبہ ایک کثیر الجہت اداکار سے محروم ہوگیا۔ افتخار قیصر اگر اپنی حرفیوں' مکالموں اور جاندار اداکاری کامظاہرہ کسی اور جگہ جا کرتے تو ان کو سخت علالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخلے کی مشکلات کا تو سامنا کیا ہوتا وہ اتنے متمول اور ثروت مند ہوتے کہ ان کا علاج کسی بھی بڑے ہسپتال میں باآسانی ممکن ہوتا۔ یہ اس مردم خیز خطے کا بنجر پن ہے کہ جو بھی اس مٹی کے پیار میں بندھا رہا اس مٹی میں مٹی ہو کر مل گیا مگر جو لوگ یہاں سے چلے گئے انہوں نے فن کی دنیا پر حکمرانی کی۔ افتخار قیصر وہ فرزند زمین تھے جو اسی زمین کے اندر جا بسنے تک یہیں سے جڑے رہے۔ ان کے فن و کردار پر تو مختلف کالموں اور تبصروں میں روشنی ڈالی جاتی رہے گی لیکن مرنے کے بعد ہیرو بنانے کی ہماری اس روایت کاحاصل کیا؟ ہم نے جیتے جی کسی کی قدردانی کا سلیقہ تو سیکھا ہی نہیں جیسے ہم ہیں اسی طرح ہماری حکومت اور ہمارے ادارے۔ افتخار قیصر زندگی بھر جن اداروں سے وابستہ رہے ان اداروں نے ان کی اداکاری پر ان کی بیماری اور ضعف کے اثرات پڑتے ہی منہ موڑ لیا۔ صوبائی حکومت اور خاص طور پر محکمہ ثقافت کو تو ایسے مشاہیر و مقبول عام فنکاروں سے کوئی علاقہ ہی نہیں اس طرح کے افراد جب ہسپتالوں میں بے رحموں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور میڈیا چیخ اٹھتا ہے تب اس کے سرہانے تصویر کھینچوانے لوگ آتے ہیں۔ ان کے لئے اس وقت چند روپوں کااعلان کردیا جاتا ہے جب ان کو ہوش نہیں رہتا۔ افتخار قیصر کے ساتھ بھی ایسا ہی ناروا سلوک روا رکھا گیا۔ کتنوں کو ہنسانے والا یہ زندہ دل فنکار کس کسمپرسی کا شکار ہوا۔ اس کا اب ماتم کرنے کا کیا فائدہ؟ بے دردوں کے اس معاشرے میں ان کی ظرافت اور لوگوں کو خوش کرنے کی کامیاب کوشش بھی ان کے کیسے کام آسکتی تھی۔ مالک حقیقی ان کی بشری خطائوں کو درگزر کرے اور ان کو اپنے ہاں آرام و سکون عطا کرے۔ آمین۔

خونی کھیل کے متاثرہ بچوں کی مددکی ضرورت

خیبرپختونخوا میں بھی آئے روز خونی گیم بلیو وہیل کھیلنے کے باعث اقدام خودکشی اور دھمکیوں کی وجہ سے بچے ، بچیوں کے خوفزدہ ہو کر گھر سے بھاگ جانے اور ہراساں و خوفزدہ ہونے کے واقعات کا سامنے آنا افسوسناک و تشویشناک امر ہے ۔ اس خونی گیم کی روک تھام کیلئے ماہرین کو طریقہ کار دریافت کرنے اوراس کے انسداد پر توجہ دینی چاہیئے ۔ بچوں کو اس کھیل سے باز رکھنے کی حتی المقدور سعی ہونی چاہیئے لیکن اس کے باوجودبچوں کے اس طرف متوجہ ہونے کے امکانات کو معدوم نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان کی رغبت کا خطرہ ہر وقت موجود ہونا فطری امر ہوگا کیونکہ تجسس کے مارے بچوں کا اس خونی گیم کے چکر بازوں کے چکر میں آنے کے امکانات سعی بسیار کے باوجود کم کرنا شاید ہی ممکن ہو ۔ اس کھیل کے خونی ہونے کا علم ہونے کے باوجود بچوں کا اس میں حصہ لینا خطرناک اور مہلک ہے جس کی روک تھا م کیلئے ماہرین نفسیات کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسی بھی بچے سے خونی گیم کے بارے پوچھا جائے تو اسے خاصی تفصیلات کا علم ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس گیم کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بھی اس کو معلوم ہوتی ہے ایسے میں والدین کی احتیاط اور اپنے بچوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے معمولات اور خاص طور پر ان کی پریشانی کو نوٹ کرکے اس کی مدد کرنی پر خاص توجہ ہونی چاہئے۔ سکولوں میں اساتذہ کو اس ضمن میں بچوں کی ذہنی تربیت میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مل جل کر بچوں کو اس خونی کھیل کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ بچوں کو اس کھیل میں ملوث ہونے کے بعد ملنے والی دھمکیوں میں ان کی مدد اور ان کو اس مرحلے سے نکالنے کی یقین دہانی اور اعتماد دے کر ان کو محفوظ بنانے کی سعی ممکن ہے۔ ان کو ان دھمکیوں کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہی ان کی صحیح مدد ہوگی۔

متعلقہ خبریں