این اے 120 کا انتخابی نتیجہ

این اے 120 کا انتخابی نتیجہ

این اے 120لاہور کے ضمنی انتخابات میں نون لیگ نے کامیابی حاصل کرلی۔ تحریک انصاف نے 2013ء کے مقابلہ میں 6ہزار ووٹ کم لئے تو نو ن لیگ کے ووٹوں میں بھی 30ہزار کے قریب کمی ہوئی۔ جناب عمران خان اس انتخابی معرکے کو نون لیگ اور سپریم کورٹ کے درمیان مقابلے کے طور پر پیش کرتے رہے۔ حد ادب مانع ہے ورنہ ان سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ '' اب کون ہارا؟'' ملی مسلم لیگ چار ہزار ووٹ لے گئی۔ پیپلز پارٹی 1400 سو سے کچھ اوپر ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر آئی۔ انتخابات سے چند روز قبل اپنے دوست لالہ ارشاد اقبال سے دریافت کیا تھا پیپلز پارٹی کتنے ووٹ لے سکے گی؟ ان کا جواب تھا دس سے پندرہ ہزار۔ عرض کیا پانچ سے سات ہزار ووٹ لے جائے پیپلز پارٹی تو سمجھیں وسطی پنجاب کی سیاست میں واپسی کے امکانات موجود ہیں۔ عالمگیر انقلاب اسلامی کی داعی جماعت اسلامی شاندار انتخابی مہم کے باوجود چند سو ووٹ لے پائی ہے۔ ضمنی انتخابات کا نتیجہ غیر متوقع ہر گز نہیں ان کالموں میں متعدد بار عرض کرچکا تھا کہ فاتح نون لیگ ہی ٹھہرے گی۔ سو شریف خاندان کو مبارک ہو۔ بنیادی بات یہی ہے کہ نواز مخالف ووٹر تحریک انصاف کے پلڑے میں ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ بھی عرض کردوں کہ نون لیگ کی حکمت عملی نسبتاً بہتر تھی۔ انہوں نے برادریوں اور فرقوں کے عمائدین سے فرداً فرداً رابطہ کیا۔ جوڑ توڑ میں سبقت لے گئے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ این اے 120 کا انتخابی معرکہ سیاسی نظریات پر نہیں شخصی پسند و نا پسند پر ہوا۔ نون لیگ وفاق اور پنجاب میں حکومت کے باوجود پوری انتخابی مہم می یہ تاثر دیتی رہی کہ اس کا مقابلہ ریاست کے ساتھ ہے۔ انتخابات سے ایک دن قبل وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال نے جو پریس کانفرس کی اس کا متن بغور پڑھ لیجئے۔ سادہ سا مطلب نکلتا ہے کہ '' ملٹری اشرافیہ سے مقابلہ تھا''۔

انتخابی سیاست کے تقاضوں کو قدم قدم پر نون لیگ نے بہر طور پر مد نظر رکھا وفاقی اور پنجاب کی حکومت اپنے امیدوار کے ساتھ کھڑی رہیں۔ ملازمتیں ریوڑیوں کی طرح تقسیم ہوئیں۔ ترقیاتی کام اللہ دین کے چراغ نے کروائے۔ 30برسوں سے یہ حلقہ شریف خاندان کے پاس ہے اس کے لئے بھی زندگی موت کا مسئلہ تھا۔ پیپلز پارٹی کو تیسرے نمبر پر آنے کی امید تھی مگر امید بر نہ آئی تیسرے نمبر پر مسلم لیگ آگئی اس کا ووٹ روایتی طور پر ہمیشہ نون لیگ کو ملا اب کی بار وہ خود سیاسی عمل کے میدان میں اترے۔ مولوی خادم کا کہیں ذکر نہیں انتظار کیجئے کہ وہ اگلے جمعہ کو کیا خطبہ دیتے ہیں۔ پی پی پی کے امیدوار فیصل میر معروف ٹی وی اینکر کے برادر خورد ہیں۔ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن سے پیپلز پارٹی تک 30سال پر پھیلا تعلق ہے۔ انہوں نے اپنی بساط کے مطابق محنت کی مگر پیپلز پارٹی کے بڑے مالکان اور اس کی وجہ سے ارب پتی ہوئے قائدین کہاں تھے؟ حلقہ میں بد قسمتی سے یہ تاثر بھی دیا کہ پی پی پی کا امیدوار اس لئے کھڑا ہے کہ اس کے ووٹ پی ٹی آئی کو نہ پڑیں۔ اس تاثر کو تقویت تب ملی جب بلاول اور ان کے والد نے اس حلقہ انتخاب میں قدم رنجہ فرمانا بھی گوارا نہ کیا۔ کیا وہ (باپ بیٹا) اس حقیقت کو جان چکے کہ وسطی پنجاب میں نواز لیگ کا متبادل پیپلز پارٹی نہیں رہی' پشاور اور دادو میں سیاسی جگتیں مارنے والے لاہور میں ایک جلسہ بھی نہ کر پائے۔ ابھی پچھلے مہینے پیپلز پارٹی نے چنیوٹ اور فتح جنگ اٹک میں دو بڑے جلسے کئے تھے۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ وہ دونوں جلسے مقامی طور پر فعال رہنمائوں کی کارکردگی تھی؟ سوال اور بھی بہت ہیں۔ پی پی پی کے امیدوار کو انتخابی مہم چلانے کے لئے جو وسائل درکار تھے وہ اس کے پاس تھے ہی نہیں۔ یوں 2013ء کے مقابلہ میں اس کے بھی 300 ووٹ کم ہوئے۔ این اے 120 کے انتخابی نتائج نے اس امر کو دو چند کردیا کہ پنجاب کی مروجہ معروضی سیاست میں پیپلز پارٹی کا موثر کردار نہیں رہا۔ نواز حامی اور نواز مخالف ووٹ اپنی صف بندی کرچکے۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی کے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ اپنے اساسی نظریات سے رجوع کرے۔ لاہور پیپلز پارٹی کا جنم شہر ہے۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی قیام گاہ پر بھٹو صاحب نے اپنے عہد کے اہل دانش اور فہمیدہ لوگوں کے ساتھ مل کر پارٹی بنائی تھی۔ اپنے جنم شہر کے ایک حلقہ میں 14 سو 14 ووٹ۔ لمحہ فکریہ ہے۔ لیکن فکر کرنے والا کون ہے۔ چند فیس بکی مجاہدین جو نتیجہ آنے کے بعد تحریک انصاف کی بھد اڑاتے ہوئے 6ہزار ووٹوں کی کمی کا طعنہ مار رہے ہیں؟ معاف کیجئے گا پیپلز پارٹی کے پاس سیاست اور نشاط ثانیہ کا واحد راستہ یہی ہے کہ عوام د وست اور سامراج دشمن سیاست کا احیا کرے۔ پارٹی میں سماج کے عام طبقات کے لوگوں کو آگے لائے اور اس تاثر کو زائل کرے کہ عہدے دولت مندوں کے لئے ہیں ۔سیاست پیسے سے ہوتی ہے خود پارٹی کے اندر جمہوری عوامی کلچر کو واپس لائے بغیربڑھکیں جتنی مرضی مار لیجئے دعوے کیجئے ہوگا کچھ نہیں۔ لوگوں کو صرف یہ کہہ کر نہیں بہلایا جاسکتا کہ پوری ریاست پیپلز پارٹی کی دشمن ہے۔ دشمن گھر کے اندر بھی ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد پیپلز پارٹی کے چند سنجیدہ کارکنان سوال اٹھا رہے ہیں اور کچھ نام بھی لے رہے ہیں۔ گو ان کے شور شرابے کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلنے والا۔ امام سیاست کے نعروں پر مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے بوسے اچھالنے والے آصف علی زرداری بھٹو صاحب کی جماعت کے اس طور لاہور میں کریا کرم پر غور کریں گے؟ یہاں چند تلخ وجوہات کا ذکر مناسب نہیں خود پیپلز پارٹی کو سوچنا ہوگا کہ این اے 120میں روایتی طور پر 1970ء سے 2008ء تک جو برادریاں اسے سیکولر جماعت سمجھ کر اس کے ساتھ کھڑی رہیں وہ دورکیوں ہوئیں۔ بہر طور انتخابی نتائج کی فتح مند نون لیگ کو یہ فتح ہضم کرنا ہوگی۔ اس فتح کو لے کر اگر اس نے تصادم کا راستہ اختیار کیا تو 2018ء کے عام انتخابات کسی ویران گلی میں گم ہوسکتے ہیں۔

اداریہ