برما۔۔۔ پونے دو ارب مسلمانوںکی بے حسی

برما۔۔۔ پونے دو ارب مسلمانوںکی بے حسی

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ بارہ سال سے مسلمانوں اور عالم اسلام کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے جسے اُس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دے رکھا ہے۔ کسی اسلامی ملک میں کسی غیر مسلم کے خلاف ہونے والامعمولی واقعہ بھی اس قدر اچھال دیا جاتا ہے کہ بات بہت آگے چلی جاتی ہے۔ دو تین سال پہلے یورپین آرگنا ئزیشن آف پاکستان مائنارٹیزنامی این جی او نے پاکستان کواقلیتوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا اوریہی شوشہ کسی بھی مسلمان ملک کے بارے میں کسی بھی وقت چھوڑ دیا جاتا ہے ۔لیکن اگر برما یا میانمار کے بارے میں انسانی حقوق کے کچھ ادارے بولے بھی ہیں تو ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے بعداور اس بولنے میں بھی وہ زور نہیں جو اتنا خون بہہ جانے کے بعد ہونا چاہیے تھا ۔برما اور بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع صوبہ رکھنی جو 36762مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے اور تاریخی طور پر اراکان کے نام سے جانا جاتا ہے یہاں رو ہنگیا مسلمان ساتویں صدی سے آباد ہیں لیکن حیرت ہے کہ میا نمار کی حکومت انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے پر تیار نہیں جبکہ ان مسلمانوں کے آباو اجداد بھی اسی زمین کی پیدا وار ہیں۔ ہاں ان کی ریاست کو انگریز نے دوسری جنگ عظیم میںعلاقے سے جاتے جاتے برما کے سپرد کر دیا اور یوں تب سے روئے زمین پر یہ انوکھی مثال قائم ہوئی کہ کچھ انسان کسی بھی ملک کے شہری تسلیم نہیں کیے جا رہے۔ اپنی زمین کے بھی نہیں ۔اگر چہ میانمار کسی بھی اقلیت کے لیے کوئی خوشگوار جگہ نہیں۔ یہاں کسی اقلیت کو مذہبی آزادی نہیں یہاں تک کہ انہیں اپنے مذہبی تہواروں کی چھٹی کے لیے بھی پہلے سے درخواست دینا اور اس کی منظوری کے لیے رشوت دینا پڑتی ہے جو کہ اکثر اوقات منظور نہیں ہوتی لیکن مسلمانوں کے لیے یہ سختی کچھ زیادہ ہی ہے اور روہنگیا مسلمانوں کے لیے تو یہ پابندیاں نہ صرف زیادہ بلکہ غیر انسانی ہیں۔ انہیں نہ تو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے نہ طبی سہولیات پر ان کا کوئی حق ہے نہ ایک سے دوسرے شہر جانے کی اجازت ہے یہاں تک کہ شادی کے لیے بھی ان مسلمانوں کو حکومت سے اجازت لینا پڑتی ہے اور وہی حکومت جو ان مسلمانوں کو اپنا شہری ہی تسلیم نہیں کرتی جب کبھی اجازت دے تب ہی شادی ہو سکتی ہے یوں کئی طریقوں سے ان کی نسل کشی جاری ہے۔ حکومت کی ایماء پر برمی بدھ برمی مسلمانوں کے قتل کو ثواب سمجھ کر کرتے ہیں ۔اکثر اوقات ان مسلمانوں کا قتل عام اس بات پر بھی ہو جاتا ہے کہ ا نہوں نے کوئی جانور کیوں مارا کیونکہ بدھ مذہبی طور پر جانور یا جاندار کی جان لینا گناہ سمجھتے ہیں اور مسلمان ذ بیحہ کی سزا میں قتل کر دیے جاتے ہیں اور حکومت اس سارے کھیل میں نہ صرف شریک بلکہ اس کی پشت پر ہوتی ہے ۔ موجودہ فسادات میں جس طرح ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ہے وہ سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار داد نمبر( I)96کے تحت جو گیارہ دسمبر 1946کو منظورہوئی نسل کشی چاہے جنگ کے دوران ہو یا امن کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق جرم ہے اور اس قرارداد کی رُو سے اقوام متحدہ کے اراکین اس کو روکنے اورنسل انسانی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ لیکن برما میںنسل کشی پر پوری دنیا خاموش ہے جس میں انسانوں کو زندہ جلایا گیاان کی عورتوں اور بچوں کوبے دریغ قتل کیا گیا ۔2012 کے بے دریغ قتلِ عام کے لیے جس واقعہ کو جواز بنایا گیا وہ ایک بدھ لڑکی کا قبول اسلام تھا جس کو بعد میں قتل کر دیا گیا اور اس کا الزام مسلمانوں کے سر ڈال دیا گیا۔ حالانکہ سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ اگر اس کو اسلام قبول کرنے کے بعد قتل کیا گیا تو مسلمان ایسا کیوں کرتے انہیں تو اس کی حفاظت کرنی چاہیے تھی لیکن دراصل مسلمانوں کو اس بات کی سزا دی گئی کہ کیوں ایک بدھ لڑکی نے ان کا مذہب قبول کیا اب یہ کہا جا رہا ہے ان بے آسرا و بے زمین لوگوں نے میانمار کی پولیس اور مقامی لوگوں پر حملے کر کے ان کو قتل کیا،یہ پھر ایسا جواز ہے جسے ماننا مشکل ہے یہ جانتے ہوئے کہ وہ دو چار کوقتل کریں گے تو ان کے سینکڑوں مارے جائیں گے اور ایسا ہی ہوا ، خود میانمار کی حکومت کے مطابق 399 افراد مارے گئے اصل تعداد کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں کیونکہ نہ تو کوئی میڈیا وہاں جا سکتا ہے اور نہ وہاں سے کوئی خبر باہر آسکتی ہے۔ یہ بھی سوشل میڈیا کی خبریں ہیں جو باہر نکلی ہیں حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی ٹیم کو بھی اراکان جا نے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہی اقوام متحدہ جو مسلمان ملکوں میں صلح صفائی کے نام پر دندناتا پھرتا ہے۔اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 1.56بلین ہے جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً23فیصد بنتا ہے تو کیا اتنی بڑی تعداد آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمانوں کوان کا حق نہیں دلا سکتی ۔اگر یہ سب اس کا انتظار کر رہے ہیںکہ دوسرے ان کی مدد کریں گے تو ایسا ہر گز نہیں ہے۔ غیر مسلم دنیا تو خود مسلمانوں کے در پے ہے۔ ہاں جب مسلمان حکمرانوں کو اپنے شوق حکمرانی سے فرصت ملے گی اور وہ اس مسئلے کو توجہ دیں گے تو یقینا اس کا حل نکل آئے گا۔حدیث شریف کے مطابق مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں کہ جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے تو ہمیں اس تکلیف کو محسوس کر لینا چاہیے اگر ہمارا میڈیا ان ز ندہ جلتے ہوئے مسلمانوں کے کلپس دکھاتا ان روتے بلکتے بچوںاور بے آبرو عورتوں کے کرب میں ڈوبے چہرے دکھاتا تو شاید عالمی ضمیر جاگ ہی اٹھتا اور میانمار کے مسلمانوں کو انسان سمجھتے ہوئے ان کی مدد کے لیے آگے بڑھتا تو ہزاروں مسلمان چند دنوں میں کاٹ نہ دیئے جاتے۔

اداریہ