یادش بخیر

یادش بخیر

ادھر روزنامہ انجام پشاور کُلُ عَلَیہَا مِن فَان کے مصداق بہت ساری یادیں اور بے شمار کہانیاں چھوڑ کر اپنے انجام تک پہنچا اور ادھر روزنامہ مشرق پشاور 

کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ ، فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
کی شرح بن کر طلوع ہوا اور تا دم تحریر اپنی کامران و کامگار زندگی کی بہت سی منزلیں طے کرتا ارتقاء کے سفر پر رواں دواں اور کشاں کشاں
بر تو بر ہیں بحر بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
کے مصداق پیش قدمی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔روزنامہ انجام پشاور کے دم آخریں اور روزنامہ مشرق پشاور کے دم آفریں کے دوران جناب مسعود انور شفقی مرحوم اس تاریخ ساز روزنامہ کے کرتا دھرتا تھے۔ آپ کو اس صوبے کے ممتازاور کہنہ مشق مزاح نگار شاعر اور شعبہ صحافت سے وابستہ مرزا محمودسرحدی کی نہ صرف صحبت کا شرف حاصل رہا بلکہ وہ مرزا محمود سرحدی کو اپنا استاد بھی کہتے تھے اور ان کی تقلید میں مزاحیہ شاعری بھی کرتے تھے چنانچہ انہوں نے علامہ 'پاکٹ مار' کے قلمی نام سے اپنی کتاب'' قینچیاں '' شائع کرنے کے علاوہ ''میں رات اور الو'' جیسی کتابیں لکھ کر مزاح نگاری کے شعبہ میں نام اور مقام کمایا۔ ستر کی دہائی میں ان سے اوپر تلے اور بلا ناغہ ملاقاتوں کا سلسلہ صدر روڈ پشاور کے ایک ریسٹورنٹ میں شروع ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب صابر حسین امداد راقم السطور کے گھر آکر اسے ہندکو آرٹس کونسل پشاور کی میٹنگوں میں جانے کی بجائے صدر روڈ کے اس ریسٹورنٹ میں لے جاتے جہاں مسعود انور شفقی کے علاوہ ان کے جگری دوست اور اپنے وقت کے نامور شاعر روشن نگینوی اور قلم قبیلہ سے تعلق رکھنے والے دیگر احباب موجود ہوتے ۔ پشاور صدر کے اس ریسٹورنٹ کا ماحول لاہور کے کافی ہاؤس جیسا تھا۔ پشاور صدر کے اس کافی ہاؤس میں ریڈیو پاکستان پشاور کے سید عبدالجبار ، اور باسط سلیم جیسے کہنہ مشق پروڈیوسروں کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن پشاور کے چیدہ چیدہ پروڈیوسر ، قلم کار اور عہد رفتہ کے آسمان پر دمکنے والے فن کار اور گلو کار بھی آتے ، یہاں جو کوئی بھی آتا اساتذہ علم وا ادب کی گفتگو سے فیض یاب ہونے کے علاوہ نت نئے جنم لینے والے لطیفوں کی بوچھاڑ سے لطف اندوز بھی ہوتا۔ آپ یقین جانئے کہ راقم السطور کو روشن نگینوی اور مسعود انور شفقی کی ان محفلوں میں حاضری دیتے رہنے کا ایسا چسکا پڑا کہ وہ اس بات کو یکسر بھول ہی گیا کہ وہ ہندکو آرٹس کونسل کا بانی صدربھی ہے۔ ہندکو آرٹس کونسل سے وابستہ دوست جن میں زیڈ آئی اطہر ، جمیل صدیقی اور بشیر عامر جیسے احباب شامل تھے کونسل کے جلسوں میں راقم السطور کی مسلسل غیر حاضری اور صابر حسین امداد کے ہمراہ روشن وشفقی کی محفلوں میں شرکت کا برا منانے لگے اور یوں انہوں نے ایک اجلاس بلا کر اسے صدارت کی عہدہ ہی سے کیا کونسل کی رکنیت سے بھی برطرف کردیا اور اس کی جگہ پروفیسر ناصر علی سیدکو کونسل کو کونسل کا صدر بنا کر بقول ناصر ہندکو کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ۔ ایک دن روزنامہ مشرق پشاور کے چیف ایڈیٹر مسعود انور شفقی کو راقم السطور نے ان کے اخبار میں کالم لکھنے کی خواہش کا دبے لفظوں میں اظہار کیاتو انہوں نے اپنی تجربہ کار نظریں اس کے چہرے پر گاڑتے ہوئے کالم کا عنوان پوچھا ۔ جس کے جواب میں 'شین کی ڈائری' کے الفاظ اس کی زبان پر آگئے ۔ کس موضوع پر لکھو گے۔ انہوں نے ایک اور سوال پوچھا۔'' جی یہی معاشرتی ناہمواریاں ، ادبی سرگرمیاں اور حالات حاضرہ ، وغیرہ '' میں نے ان کی بات کا سیدھا سا جواب دیا۔ ''اچھا اچھا ۔ تم لکھ کر لے آنا ۔ میں دیکھ کر کچھ کہہ سکوں گا''۔ شفقی صاحب کا لب ولہجہ اور ان کی زبان سے ادا ہونے والے یہ جملے سن کر میں نہ صرف چکرا سا گیا ۔بلکہ جب گھر پہنچ کر' شین کی ڈائری ' لکھنے بیٹھا ۔تو ٹھیک طرح سے ایک سطر بھی لکھنے کی جرات نہ کرسکا اور یوں کالم لکھنے کی بجائے سر کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔دوسرے دن جب صابر حسین امداد اساتذہ کی محفل میں شرکت کی غرض سے مجھے لینے آئے تو میں نے وہاں جانے سے انکار کردیا ۔ کتنے اچھے تھے وہ لوگ انہوں نے میری غیر حاضری کو محسوس کیا۔ صابر سے میرے نہ آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے اس کی وجہ 'شین کی ڈائیری ' لکھنے کی حسرت بتائی ۔ اور یوں پشاور کا کافی ہاؤس ایک بار پھر قہقہوں شور میں ڈوب ڈوب کر نت نئے لطیفے ایجاد کرنے لگا۔ محفل والے میری رنجش پر قہقہے لگا کر اپنے اپنے رین بسیروں کو چل دئیے ۔اور میں اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کر سو گیا لیکن دوسرے روز صبح سویرے ہم نے جب مشرق اخبار دیکھا تو اس میں ' شین کی ڈائری' کے عنوان سے ایک کالم لگا ہوا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ' شین کی ڈائیری' ایک تسلسل سے روزنامہ مشرق پشاور میں چھپتی رہی۔ مگر لکھتا کون تھا ۔ اس کے بارے میں مجھے کچھ بھی معلوم نہ ہوسکا۔
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
کے مصداق لکھنا اور لکھتے رہنا اپنی مستعارزندگی کا حاصل رہا ہے ۔ میں نے متعدد اخبارات میں کالم لکھے۔ قطعات بھی چھپتے رہے ، مگر مشرق کے لئے لکھنے کی دل میں حسرت تھی جو دل ہی کے کسی نہاں خانے میں کہیں چھپا کر ہم بھول بیٹھے تھے کہ ایسے میں روزنامہ مشرق کے ایک ذہین و فطین قدر دان نے کہا۔ تم کالم کیوں نہیں لکھتے روزنامہ مشرق پشاور کے لئے ۔'' جی ۔ از کجا می آید این آواز دوست''۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا اور میں اس مہربان آواز کو سن کر چونک اٹھا ۔ اور پھر دوسرے ہی لمحے حکایات خوں چکاں لکھنے کی غرض سے شین کی ڈائری لکھنے بیٹھ گیا۔

اداریہ