Daily Mashriq


کمائی والا ڈاکٹر اور پڑھائی والا ڈاکٹر

کمائی والا ڈاکٹر اور پڑھائی والا ڈاکٹر

اگر ارض و سماء کی وسعتیں دیکھیں سوچیں اور کھوجیں تو انسان کو دنگ کردیتی ہیں۔ بلندی اور وسعتیں مالک کائنات کی تخلیق کی بڑی صفت اور ہمارے لئے مقام غور و فکر ہیں۔ انسان کبھی خلا میں راکٹ بھیجتا ہے تو کبھی کوہ پیمائی کرکے پہاڑ سر کرتا ہے۔ مگر وسعتوں اور بلندیوں کو زیر نہیں کرپاتا۔ قدرت کا منشاء شاید یہ ہو کہ انسان ہر وقت جدجہد میں رہے اور ہر کسی کو اس کی جدوجہد کے بقدر حصہ ملتا رہے۔ جس شعبے میں جائیں کھوج' جستجو اور دریافت کا در کھلا ملتا ہے جو جس قدر کھوجتا ہے اسے اسی قدر کامیابی ملتی ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کو اگر وسعتوں اور بلندیوں کا کھوجی شاعر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا جن کے تخیل کی پرواز کو اس جدید دور میں بھی ناپا نہیں جا سکا ہے۔ جس شعبے میں جائیں فضاء اور زمین ایک جیسی ملتی ہے مگر ہر کسی کے کھوجنے اور پانے کی شرح میں زمین و آسمان کا فرق نکلتا ہے۔ بقول شاعر مشرق علامہ اقبال

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضاء میں

کرگس کا جہاں اور ہے' شاہیں کا جہاں اور

طب کی دنیا لیں یا زبان و ادب کی ایک ہی سکول' کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم مشترکہ معلمین سے درس لیتے ہیں مگر نتیجے اور کامیابی کی شرح میں نمایاں فرق کے ساتھ۔ اس کی وجہ صرف ذہانت و فطانت نہیں کہ یہ ایک عنصر ہے اصل بات جہد مسلسل کی ہے کہ وسعتوں اور بلندیوں کے سفر کے لئے تسلسل اور عزم و حوصلہ شرط ہے۔ بچپن میں ہمارے پڑوس میں دو انکل رہتے تھے۔ دونوں کو لوگ ڈاکٹر صاحب' ڈاکٹر صاحب کہہ کر بڑی عزت دیتے تھے۔ مگر میری حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہتی جب ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس بیماروں کی قطار لگی رہتی مگر دوسرے ڈاکٹر کے پاس چند طالب علم ہی پڑھنے آتے۔ میں بار بار سوچتا کہ ایسا کیوں ہے۔ اگر دوسرے ڈاکٹر صاحب نالائق ہیں تو ان کے پاس بڑے بڑے لڑکے پڑھنے کیوں آتے ہیں۔ پھر میں نے دادا جان سے پوچھا تو انہوں نے ایک لمبا لیکچر دیا مگر میری سمجھ میں بات پھر بھی نہ آئی۔ تب پاس بیٹھی دادی جان نے سمجھایا کہ بیٹا بس تم یہ سمجھ لو کہ ایک کمائی والا ڈاکٹر ہے اور دوسرا پڑھائی والا۔ ہم لوگ کمائی والے ڈاکٹر ہی سے متاثر ہوتے ہیں اس لئے ہر دوسرا بلکہ ہر طالب علم طب کا علم حاصل کرکے کمائی والا ڈاکٹر بننا چاہتا ہے اور پڑھائی والا ڈاکٹر کون بنتا ہے جسے میڈیکل میں داخلہ نہ ملے۔ ویسے آج کل پڑھائی والے ڈاکٹر بھی کمائی والے ڈاکٹر بن گئے ہیں۔ پی ایچ ڈی کرنے پر اچھی ملازمت ملتی ہے۔ اگر کمائی والے ڈاکٹر بننے والے طالب علم پڑھائی والا ڈاکٹر بننے کی راہ اپنائیں تو مزہ آجائے مگر پڑھائی والے ڈاکٹروں کو کمائی والا ڈاکٹر نہیں بننا چاہئے۔ وجہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں اور نوجوان اگر سیاست کرنے لگیں تو بھی بزرگ کہتے ہیں کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے بچے بڑے ہو کر جو سیاسی بنتے ہیں ان کو شکوہ رہتا ہے کہ پارلیمنٹ مدر آف انسٹی ٹیوشنز ہے۔ تمام اداروں کی ماں کی حیثیت رکھنے والے ادارے کو اس کا جائز مقام اور عزت ملنی چاہئے۔ گوکہ پاکستانی سیاست نوجوانوں کے لئے ساز گار نہیں کہ اس میں حصہ لینے کے لئے کسی قابلیت' سوچ' ذہانت اور قیادت کی اہلیت کی ضرورت نہیں ہوتی بس خاندان پیسہ اور غیر حقیقی وعدے کرنے کے لئے لمبی زبان کے ساتھ ضمیر ذرا کمزور ہونا چاہئے۔ مگر اس کے باوجود میں نوجوانوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو جو پلیٹ فارم مہیا کیاجاتا ہے ان ہم نصابی سر گرمیوں میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے آپ کو ملکی قیادت اور اداروں کی باگ ڈور احسن طریقے سے سنبھالنے کے لئے تیار کریں۔ نصابی اور ہم نصابی سرگرمیاں یکساں اہمیت کی حامل ہیں۔ پڑھائی' لکھائی اور کمائی تینوں کوئی آسان کام نہیں کہ پتہ پانی کرنا پڑتا ہے۔ مگر بعض کو پڑھائی بالکل ہی آسان نظر آتی ہے ایک خر کار کی کہاوت ہے کہ ''خر کاری ہنر دارد سبق نیست کہ پر پرمی خوانی''۔ واقعی دیکھا جائے تو پڑھائی خر کاری جتنا دقت طلب کام نہیں بس بیٹھ کے یکسوئی کے ساتھ پڑھتے جانا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر خر کاری کرنا پڑتی ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ لہٰذا اے میرے مخاطب نوجوان طالب علم خرکار کے طنز بھرے جملے کی حقیقت کو سمجھ اور سوچ کہ اگر آج اگر تم پڑھائی پر توجہ نہیں دوگے تو کل روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر والی صورتحال پیش آسکتی ہے۔ آج کے آرام کی قربانی دینے ہی سے کل کا آرام ملے گا۔ گوکہ یہ کوئی اچھی بات نہیں لیکن ہمارے کچھ نوجوان شیشہ اور سگریٹ بھی پیتے ہیں ان کو لاکھ نصیحت کرو سمجھائو مگر دھواں اور نکوٹین ان میں رچ بس گیا ہوتا ہے سو وہ باز نہیں آتے۔ کسی نے ایک دیہاتی دادی سے کہا کہ ماں جی سگریٹ نوشی بندے کو آہستہ آہستہ موت کی دہلیز پر لے جاتی ہے۔ ماں جی نے حقے کا ایک اور لمبا کش لگا کر دھوئیں کے مرغولے چھوڑتے ہوئے کہا :پُتر ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں۔

متعلقہ خبریں