اب میں بولوں کہ نہ بولوں

اب میں بولوں کہ نہ بولوں

2010تک ٹی وی ڈرامہ پہلے کبھی لکھانہ تھاریڈیو پر کافی لکھ چکے تھے ۔ پی ٹی وی سے کسی سیداسد نقوی نے فون کیا کہ ڈرامہ لکھوانا ہے۔ انہیں میرا نام استادمحترم ڈاکٹر نذیر تبسم (ستارہ امتیاز)نے دیا تھا ۔ افسانہ تو 94سے لکھ رہے تھے اوراحمد ندیم قاسمی کے رسالے '' فنون'' اورڈاکٹر وزیر آغاکے رسالے'' اوراق ''میں چھپ چکے تھے، لیکن ڈرامہ چیزے دیگر است والی بات ہے ، دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔ اسد نقوی سے ملاقات پر جانا کہ وہ تو اپنے کالج فیلو رہ چکے ہیں ۔ کالج کے زمانے کے اچھے خاصے مقرر تھے ۔ ان کی بھی پہلی سیریز تھی ۔ اس پروہ رائٹر بھی نیا لینا چاہتے تھے ۔ بڑے دل گردے کی بات ہے ۔ کئی ہفتے تو اس میں لگ گئے کہ کیا لکھیں ۔آخر مرحلہ طے پاگیا ۔ ہندکو مزاحیہ ڈرامہ سیریز کرنی ہے ۔ نام بھی ''ویہڑا''تجویز ہوگیا ۔ کرداروں پر بحث شروع ہوگئی کہ کون سا کردار کس نے کرنا ہے ۔ اسد نے اداکاری کے پہلوانوں کو اکٹھا کردیا ۔ نجیب اللہ انجم ، صلاح الدین ، افتخار قیصر اور ثمینہ سحر ۔ ان میں سے تین تو پرائیڈ آف پرفارمنس تھے ۔ میرے تو اوسان ہی خطا تھے کہ انہیں سنبھالے گاکون اوپر سے ہم نے لوکیشن بھی آؤٹ ڈور کرلی ۔قاضی خیلاں میں اہل سادات کا گھر، جو روایتی پشاوری آرکیٹکچر کا شاندار نمونہ تھا ۔ ریکارڈنگ بھی رمضان میں آگئی تھی ۔ پہلاسین ہی افتخار قیصر کاتھا ۔ریکارڈ ہوگیا ۔ مگر مجھے لگا کہ جو کردار میں نے لکھا ہے وہ اسد اور افتخار قیصر کو میں سمجھا نہیںپایالیکن شرم کے مارے کچھ کہہ نہ پایا ۔ سحری کے وقت میں نے اسد نقوی کو کال کی تو اس نے بتایا کہ وہ مجھے کال کرنے والے تھے ۔ بات بھی ایک ہی تھی کہ ہم افتخار قیصر کو کردار سمجھا نہ سکے ۔ اب کیا ہو گا۔ افتخار جیسے بڑے فنکار سے کون کہے کہ اس کردارکودوبارہ سمجھا جائے ۔ خیر اگلے دن ہم دونوں نے افتخار قیصر سے ساری بات کہہ دی ۔ وہ ہنسے اور کہنے لگے لگتا ہے میں بوڑھا ہوگیا ہوں چلو ایک سین ہی ہوا ہے اسے دوبارہ کرلیتے ہیں ۔ میں ان کے اس پروفیشنل برتاؤ سے بہت خوش اور متاثر ہوا۔ انہی بڑے فنکاروں کاکمال تھا کہ اس سیریز پر مجھے پی ٹی وی کی جانب سے بیسٹ ریجنل ڈرامہ رائٹر کاایوارڈ ملاجو واقعی ایک خوشگوار احساس تھا۔بات افتخار قیصر کی ہورہی تھی گرچہ افتخار بڑے زود رنج تھے ۔ چھوٹی سی بات پر ناراض ہوجاتے تھے ۔دل کے صاف تھے جلدی مان بھی جایا کرتے تھے ۔ میں نے ٹی وی کے تین سیریلز اور سیریز لکھی ہیں ۔ تینوں میں افتخار قیصر موجود تھے ۔اداکاری ان کا شوق بھی تھا اور انہیں آتی بھی تھی ۔میں نے انہیں بڑی آسانی سے کردار کو خود پر طاری کرتے دیکھا ہے ۔ کیمرے کے آگے انہیں بلا کا اعتماد حاصل تھا ۔اپنی والدہ کی انہوں نے بہت زیادہ خدمت کی تھی ۔ چند برس قبل ان کا انتقال ہوا تھا ۔ وہ والدہ کے علاج کے لیے کام کرتے تھے لیکن خود دار ی پھر بھی ان کے ساتھ رہتی تھی ۔ ہمارے سماج میں فن شوق تو ہوسکتا ہے لیکن روزگار نہیں ہوسکتا ۔ میں اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں کوئی بھی فل ٹائم آرٹسٹ صرف فن کے بل بوتے پر گھر کا چولہا نہیں جلا سکتا ۔ پی ٹی وی کے سرکاری ادارے سے جو چیک ملتا ہے وہ شرم کے مارے کسی کو دکھایا بھی نہیں جاسکتا ۔ اگر شوق نہ ہوتو ہمارے یہاں شاید ہی کوئی آرٹسٹ بننا پسند کرے ۔ اس سے قبل صلاح الدین بھی مالی طور پر بہت پریشان تھے ۔قرض میں بال بال ڈوبا ہوا تھا ۔بہت پریشانی کی حالت میں رہتے تھے لیکن چہرے پر مسکراہٹ سجائے رہتے ۔بالآخر اپنی پریشانیاں یہیں چھوڑ کر اس دنیا سے سدھار گئے ۔ عمر دراز خلیل جو پاکستان کے بہت بڑے آرٹسٹ گزرے ہیں ۔سینکڑو ں فلموں میں کام کرچکے ہیں ۔ زندگی کے آخری برسوں میں تنگدستی کا شکار تھے ۔ میرے لکھے ہوئے ایک ڈرامہ سیریل میں ایک چھوٹا سا رول کرنے پر بھی آمادہ ہوگئے تھے ۔ایک بار ایک نشست میں بہت سی باتیں انہوں نے مجھ سے کی تھیں لیکن وہ درج کرکے ان کی روح کو دکھی نہیں کرنا چاہتا۔ہمارے ہاں حاضر میلہ والی بات ہے ۔ شہرت ملے تو چائے والا فیم کو بھی آسمان پر بٹھادیا جاتا ہے لیکن وہی مشہور شخص جب حالات سے لڑ رہا ہوتو کوئی نہیں پوچھتا ۔ نہ ہی ادارے ایسے ہیں کہ خیر خواہی کا کام کرسکیں ۔ جس معاشرے کی جانی پہچانی شخصیات کا یہ حال ہو تو عام آدمی کی کیا کیفیت ہوگی ۔جس پی ٹی وی کو افتخار نے اپنی زندگی دے دی ، جس کے جی ایم سے لے کر گارڈ تک کو سرکاری تنخواہ پنشن اور مراعات میسر ہیں لیکن کسی فنکار کی کوئی تنخواہ ، کوئی پنشن نہیں ، وہ ایک ٹیلنٹ ہے اس کا نصیب بس وہ تین کاپیوں والا کنٹریکٹ ہے جو ریکارڈنگ سے پہلے بھر دیا جاتا ہے ۔ جسے بعد میں چند سو روپوں کے چیک میں تبدیل کرکے فنکار کو تھما دیا جاتا ہے ۔ پورا پی ٹی وی ان فنکاروں کے بغیر کچھ بھی نہیں مزا وہی لے سکتے ہیں کہ جن کی نوکری پکی ہے ۔ ہمارے ہاں اور کون سا سسٹم ٹھیک ہے کہ ہم پی ٹی وی سے گلہ کریں ۔بہرحال افتخا ر قیصر ان فنکاروں میں سے ہے کہ جس نے پشاور ٹیلی وژن مرکز سے اپنی قومی پہچان بنائی ۔ وہ بے پناہ عظیم فنکار تھا ۔ اسے آپ مائیک پکڑا دیتے وہ بغیر اسکرپٹ کے ہال کو قابوکرلینے کا ہنر رکھتا تھا۔ وہ ون مین شو کا ماسٹر تھا ۔ اس کی عام گفتگو بھی اداکاری سے عاری نہ تھی ۔ وہ بہت اچھا شاعر بھی تھا لیکن اداکاری کا شوق اس کی شاعری پر حاوی تھا۔ افتخار قیصر دوستیاں پالتا تھا ۔ درددل رکنے والا انسان تھا ۔ ماں کی بیماری کو دیکھتا رہا لیکن اپناخیال نہ رکھ پایا۔ اللہ اس کی مغفرت فرمائے آمین ۔

اداریہ