Daily Mashriq

ای سی سی کی صوبوں کو گندم کے ذخائر کا جائزہ لینے کی ہدایت

ای سی سی کی صوبوں کو گندم کے ذخائر کا جائزہ لینے کی ہدایت

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی سی) نے اشیائے خورو نوش بالخصوص آٹے کی قیمتوں میں ’مصنوعی اضافے‘ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبوں کے نمائندے کے ساتھ فوری اجلاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ای سی سی اجلاس کی سربراہی وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کی اور آٹے کی برآمدات پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ اور صوبوں کو گندم کے ذخیرے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے وزارت خوراک و تحقیق کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کو کابینہ کے 2 سینئر اراکین ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے چیلنج کیا۔

اس ضمن میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ ’ہم اپنے آپ کو بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن عوام کو ان اعداد وشمار سے مطمئن نہیں کرسکتے‘۔

وزیر ریلوے نے اس نقطہ نظر سے بھی اختلاف کیا کہ بازاروں میں آٹے کی قیمتیں مستحکم ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں گندم کے آٹے کی قیمت میں 70 سے 100 روپے فی من کا اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے خود 20 کلو آٹے کا تھیلا 900 روپے کا خریدا جبکہ اس پر دکاندار نے کوئی منافع بھی نہیں لیا تھا۔

اس موقع پر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ انہیں دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف حصوں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ آٹے کے ساتھ ساتھ دیگر اشیائے خورو نوش مثلاً گھی، چینی اور چائے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس اضافے کا کوئی جواز نہیں۔

اجلاس میں شیخ رشید احمد نے ہی تجویز پیش کی کہ صوبوں میں موجود گندم کے ذخائر کا جائزہ لیا جائے تا کہ پتا لگ سکے کہ گوداموں میں کتنی مقدار موجود ہے اور ’چوہے کتنی گندم کھاچکے‘۔

اس موقع پر ایک اور وزیر نے لقمہ دیا کہ کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر نے کہا تھا کہ 4 لاکھ ٹن گندم خراب ہونے کی وجہ سے ضائع ہوگئی۔

متعلقہ خبریں