Daily Mashriq

ایف بی آر کا ٹیکس ایپلکیشن کی کامیابی کا دعویٰ

ایف بی آر کا ٹیکس ایپلکیشن کی کامیابی کا دعویٰ

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹرن کو آسان بنانے کے لیے متعارف کروائی گئی موبائل ایپلیکیشن متعارف کروائے جانے کے 2 روز کے اندر ہی ہزاروں ڈاؤنلوڈز اور ڈیجیٹلی 98 سیلری ریٹرنز اس کی کامیبی کو ظاہر کرتے ہیں۔

’ٹیکس آسان‘ نامی ایپ 16 ستمبر بروز پیر کو فعال ہوئی جس کا دائرہ کار صرف تنخواہ سے ہونے والی آمدنی تک محدود ہے۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ ادارے نے صرف تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لیے ایپلکیشن اپڈیٹ کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے ٹیکس دہندگان کو اپنے ٹیکس ریٹرن بغیر کسی پریشانی کے جمع کروانے میں بہت مدد ملے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بروقت ٹیکس جمع کروانے کے لیے ہم ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان پر زور دیا کہ اس ایپلکیشن کا ستعمال کریں اور واجب ادا ٹیکس کی ادائیگی کر کے ملک کو مضبوط بنائیں۔

شبر زیدی کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ یہ ایپ ابھی ٹرائل بیسز پر ہے اس کے باوجود ہمیں اس کا حوصلہ افزا ردِ عمل ملا۔

خیال رہے کہ بدھ کے روز تک گوگل کے آفیشل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ میں مذکورہ ایپلیکیشن 20 ہزار مرتبہ ڈاؤن لوڈ کی جاچکی ہے جبکہ ایپل کمپنی کے آئی اوز موبائل اپریٹنگ سسٹم میں 6 ہزار سے زائد مختلف صارفین نے اس ایپلکیشن کو ڈاؤن لوڈ کیا۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر:سیلز ٹیکس ریٹرنز کی نگرانی کیلئے سوفٹ ویئر کا افتتاح

تنخواہوں کا ریٹرن جمع کروانے کے اعداد و شمار کے مطابق اس ایپلکیشن کے ذریعے آن لائن ایک ہزار 753 ریٹرنز ڈرافٹ کیے گئے جبکہ 98 ریٹرنز جمع کروادیے گئے ہیں جو چیئرمین ایف بی آر کے مطابق اس کی کامیابی کا مظہر ہے۔

اس کے علاوہ ایف بی آر نے مختلف اشخاص، تنخواہ دار طبقے اور مختلف اداروں کے سال 2019 کے ٹیکس کے لیے ضروری ترامیم کے بعد ریٹرن کے نئے الیکٹرونک فارم بھی اپ لوڈ کردیے ہیں ۔

خیال رہے کہ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی حتمی تاریخ 30 ستمبر ہے۔

دوسری جانب ایک سینئر ٹیکس عہدیدار کے مطابق مذکورہ ایپ محض چند تبدیلیوں کے ساتھ صرف تنخواہ سے حاصل ہونے والی آمدنی کے لیے ہے جبکہ اس میں آمدنی کے نئے اسٹیٹمنٹ دینے کا کوئی آپشن نہیں۔

اس کے علاوہ بھی ’ٹیکس آسان‘ نامی اس ایپلکیشن میں متعدد خامیاں موجود ہیں جن میں ایک یہ کہ اگر کسی شخص کو کرایے، کاروبار اور املاک سے کوئی آمدنی ہو تو اس کا حساب کتاب نہیں لگایا جاسکتا۔

دوسری جانب ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اس ایپ کا استعمال کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے کوئی طریقہ کار بھی موجود نہیں۔

متعلقہ خبریں