Daily Mashriq

محکمہ تعلیم کا نرالا فیصلہ

محکمہ تعلیم کا نرالا فیصلہ

ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواکی جانب سے ایس ایس ٹیز کی بھرتی کے لئے ٹیسٹنگ ایجنسی کی نگرانی میں ہونے والے تمام ٹیسٹ منسوخ کر کے مذکورہ ٹیسٹنگ ایجنسی کو 15دنوں میں دوبارہ ٹیسٹ لینے کیلئے انتظامات کی ہدایت امیدواروں کیلئے شاید ہی قابل قبول اس لئے ہونا فطری امر ہے کہ یہ ٹیسٹنگ ایجنسی امیدواروں کا اعتماد کھو چکی ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت اس ٹیسٹ ایجنسی کے پہلے لئے گئے ٹیسٹ کے نتائج کی منسوخی ہے ۔امیدواروں کی عدم شفافیت کے الزامات اور وزیراعلیٰ کے احکامات ہوا میں چلائے گئے تیر نہیں تھے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کا فیصلہ کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری کا حقیقی مصداق ہے کہ ہزاروں امیدواروں نے ہزاروں روپے خرچ کر کے دن رات محنت کر کے سفر کی صعوبتیں سہہ کر ٹیسٹ دیا تھا ملی بھگت اور بد عنوانی کی شکایات کی بالواسطہ تصدیق کے بعد محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کا امیدواروں کو اسی عطار کے لڑکے سے دوبارہ دوا لینے کے کمال کی حکمت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ امیدواروں کے اعتماد کی بحالی اور ٹیسٹنگ ایجنسی کو عملی طور پر احساس دلانے کا بہتر طریقہ یہ تھا کہ مذکورہ ٹیسٹنگ ایجنسی سے امیدواروں کی جمع شدہ فیس واپس لیکر کسی دوسری ایجنسی کی خدمات حاصل کی جائیں انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایجنسی پر ہرجانہ عاید کیا جاتا اور امیدواروں کے سفری اخرجات بھی دلوائے جاتے جس کے بعد ایجنسی کو بلیک لسٹ کردیا جاتا مگر اس درجے کے انصاف کا تصور ہمارے ہاںکرنا اور حکام سے اس کی توقع عبث ہے دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا ہوا ہوتا تو عین ممکن ہے کہ نہ صرف ایسا ہی کیا جاتا بلکہ ٹیسٹنگ ایجنسی کے دفاتر کو تالہ لگا کر ذمہ داروں کو جیل میں ڈالا جاتا کسی حد تک ایگزیکٹ کیس میں ایسا ہوا بھی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیسٹنگ ایجنسی کے حوالے سے جس قدر نرم فیصلہ سامنے آیا ہے وہ اپنی جگہ خود متعلقہ حکام کی ملی بھگت کا ثبوت ہے جس کا تحقیقاتی اداروں کو نوٹس لینا چاہیئے اور معاملے کی ہرسطح پر باریک بینی کے ساتھ چھان بین کر کے ذمہ داروں کو عدالت اور قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور مشیر تعلیم کو محکمہ تعلیم کے حکام کے اس فیصلے کا سختی سے نوٹس لینے اور معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کی ضرورت ہے کہ ایک باربداعتمادی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیسٹنگ ایجنسی پر دوسری بار اعتماد کیسے کیا گیا ۔شفاف طریقے سے تقرریاں امیدواروں کا حق اورموجودہ حکومت کی پالیسی ہے تقرریاں میرٹ پر ہونے کے باوجود بھی امیدواروں کے دل میں شکوک وشبہات باقی رہتے ہیں کجا کہ وہ ایک مرتبہ بد اعتماد ثابت ہونے والی ایجنسی پر اعتماد کریں ہمیں اس امر کا احساس ضرور ہے کہ چند ایک ملازمین کی ملی بھگت اور بد دیانتی کی سزاء پوری ایجنسی کو نہیں دی جانی چاہیئے لیکن کیا یہ بھی ایجنسی کی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ لوگوں کا مستقبل ایسے ملازمین کے حوالے نہ کرتی جو چند ٹکوں کے باعث ایجنسی کی ساکھ کو آنکھیں بند کر کے دائو پر لگادیتے ہیں۔سوال یہ بھی ہے کہ ٹیسٹنگ ایجنسی سے اپنے طور پر ان شکایات والزامات کی کیا تحقیقات کیں اور ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی کی ٹیسٹنگ ایجنسی نے امیدواروں سے معذرت کیوں نہ کی اور ان کے خدشات کا ازالہ کرنے کی سعی کیوں نہ کی۔جب تک اس حوالے سے مکمل طور پر حقائق سامنے نہیں آتے ذمہ داری کا تعین کر کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جا تی اور ٹیسٹنگ ایجنسی امیدواروں سے معذرت نہیں کرتی اور امیدواروں کا اعتماد بحال نہیں ہوتا حکومت کو اس کی خدمات نہیں لینی چاہیئے۔

متعلقہ خبریں