Daily Mashriq

افغانستان میں صدارتی انتخابات کا پر خطر ماحول

افغانستان میں صدارتی انتخابات کا پر خطر ماحول

ایک ایسے وقت میں جبکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد دن رات کھلی رکھنے کا باضابطہ افتتاح ہوا جس سے قبل تقریباً ایک ماہ سے آزمائشی بنیادوں پر اس کا کامیاب تجربہ جاری رہا افغانستان میں صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی پر حملہ پڑوسی ملک میں داخلی عدم استحکام کا مظہر ہیںجس کے بالواسطہ اثرات ہمسایہ ملکوں پر پڑنا فطری امر ہوگا۔طالبان نے ایک ہی دن دو بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے واضح رہے کہ اس سلسلے میں امریکہ اور طالبان کے اس مذاکرات میں تعطل کے بعد شدت آگئی ہے اور ایک مرتبہ پھر افغانستان میں انتشار کی کیفیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔افغانستان کے صدارتی انتخابات میں قرعہ کس کے نام پر نکلتا ہے اور انتخابات کے انعقاد تک مزید کتنے واقعات رونما ہوئے ہیں اس سے قطع نظر افغانستان میں اس طرح کے واقعات کے پاک افغان تجارت پر منفی اثرات پڑنا یقینی ہے وزیراعظم پاکستان کی پاک افغان سرحد دن رات کھلا رکھنے میں خصوصی دلچسپی اور اس کے لئے انتظامات کے پس پردہ دونوں ملکوں کے درمیان آمدورفت میں آسانی وتیزی کے ساتھ ساتھ تجارت کا فروغ تھا اسی ماہ ہی دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور آمدورفت کے ریکارڈ ٹو ٹ گئے تھے جہاں تک افغانستان میں طالبان اور داعش کی کارروائیوں کا سوال ہے اس سے افغانستان کی حکومت کو نمٹنے کیلئے مزید وقت درکار ہوگا امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کامیاب ہوئے اور تخت کابل کے کسی فارمولے پر متفق ہونے کے بعد معاملات طے پا جاتے تو افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہو جاتی اور افغان حکومت واتحادی یکسوئی کے ساتھ داعش کے خطرے سے نمٹنے پر توجہ دیتے ممکن ہے طالبان بھی اس خطرے سے نمٹنے اورا پنے ملک کو خارجی عناصر سے پاک کرنے میں تعاون کرتے ان حالات میں افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے پرامن ہونے کی دعا ہی کی جاسکتی ہے افغانستان میں اس طرح کے مواقع پر اس قسم کے واقعات کوئی نئی بات تو نہیں لیکن طالبان امریکہ مذاکرات سے قیام امن کی جو امید پیدا ہوگئی تھی اس کی ناکامی نے افغانستان کو مزید خطرات اورداخلی عدم استحکام سے دوچار کردیا جو خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی پریشانی کی بات ہے۔

ڈینگی اور اتائی کی دکان پر رش

ڈینگی وائرس کے پھیلائو اور شہریوں کا عام بخار پر ڈینگی فیور میں مبتلا ہونے کے شک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پشتہ خرہ میں اتائی کا کلینک کھول دینا اور درجنوں افراد کا شفاء کی امید پر ان کے پاس اکٹھا ہونا لاعلمی اور شعور کی کمی کا سبب ہی ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ہیلتھ کئیر کمیشن کی ٹیم کیخلاف موقع پر موجود سادہ لوح شہریوںنے ان کی حمایت واعانت کرنے کی بجائے الٹا مزاحمت کی اس طرح کی فضا میں اتائی اور غیرمستند ڈاکٹروں کا کاروبار چمکنا فطری امر ہے اس واقعے کے بعد اس امر کی ضرورت ہے کہ لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے کیلئے گھر گھر کی سطح پر مہم چلائی جائے اور لوگوں تک مختلف ذریعوں سے رسائی حاصل کر کے ان کو بتایا جا ئے کہ ان کے مفاد میں کیا ہے اور ان کی صحت سے کس طرح کھیلا جاتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مہم چلانا صرف سرکاری اداروں کے بس کی بات نہیں اس کیلئے ہائی سکولوں کالجوں اور جامعات سے رضا کاروں کی ضرورت ہوگی جس میں خواتین کی جامعات بھی شامل ہوں تاکہ گھر گھر جا کر طلباء مردوں اور طالبات خواتین کو بتائیں کہ وہ نہ صرف صحت سے متعلق معاملات بلکہ دیگر معاملات میں بھی یہاں تک کہ کھانے پینے کی اشیاء اور مصنوعات کی خریداری اور استعمال میں احتیاط سے کام لیں بہرحال اس امر کی کم ہی توقع ہے کہ اس تجویز پر عمل ہو سکے البتہ سکولوں میں اساتذہ اپنے شاگردوں کو اس قسم کا شعوروآگہی دینے کیلئے تھوڑا وقت ضرور صرف کریں کلاسوں میں اور خاص طور پر اسمبلی کے وقت روزانہ کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی معلومات سے طلبہ کو آگاہ اور ذہن نشین کیا جائے اور اس بات کو بار بار دہرایا جائے تقریری مقابلے کروائے جائیں اور ان موضوعات پر مضامین لکھوائے جائیں تاکہ شعوروآگہی پھیلے اور بچوں کو گھر جا کر والدین اور محلے میں ان معلومات سے دوسروں کو بھی آگاہ کرنے کو کہا جائے تاکہ شعور پھیلے اور لوگوں کی سادہ لوحی اور جہالت سے فائدہ اٹھانے والوں کا راستہ روکا جاسکے۔

صوبے کے کاروباری طبقے کی مشکلات

خیبرپختونخوا کے تاجروں کی جانب سے ٹیکسوں بدامنی اور مہنگائی کے باعث پچانوے فیصد کاروبار کی تباہی کا بیان اگر مبالغہ بھی ہے تو بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں کو خاص طور پر خسارے کا سامنا ہے۔صوبائی دارالحکومت پشاور میں بی آر ٹی کے باعث کاروباری مراکز کی اہمیت میں کمی اور منتقلی بھی توجہ طلب مسئلہ ہے بی آر ٹی بننے کے دوران تاجروں کا جو کاروبار متاثر ہوا اس کاسروے کیا جائے تو کاروبار کے سو فیصد متاثر ہونے کے نتائج آنا عجب نہ ہوگا اب صدر روڈ کو یکطرفہ کرنے سے رہی سہی کسر بھی پوری دکھائی دیتی ہے اس ساری صورتحال میں سرحد چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداروںپر بالخصوص اور تاجر تنظیموں اور نمائندوں پر بالعموم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس صورتحا ل سے نکلنے کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کریں اور اس صورتحال سے نکلنے کی مشترکہ سعی کی جائے جہاں تک حکومتی اقدامات کا تعلق ہے حکومت کی جانب سے کاروباری برادری کو مراعات او رسہولیات کی فراہمی تو درکنار ٹیکسوں میں اضافے بجلی کے اضافی دراضافی نرخوں اور بلوں میں اضافے سے کاروباری طبقہ دوہری مشکل کا شکار ہے جاری صورتحال میں صوبے کی معیشت کی بحالی اور کاروبار وروزگار کے مواقع کی بہتر ی وبحالی ممکن نظر نہیں آتی۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ان مسائل کا جائزہ لینے اور نہ صرف کاروباری طبقے بلکہ صنعت کاروں اور عوام تک کو ان کی ضرورت اور سطح کے مطابق رعایت دینے کی ضرورت ہے توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت معاشی مشکلات سے نکلتے ہی ان مسائل کی طرف بھی متوجہ ہوگی۔

متعلقہ خبریں