Daily Mashriq

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

اس میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر قومیں حقیقی ترقی و اطمینان کی منزل تک پہنچ سکتی ہیں لیکن یہ بات کسی کی سمجھ میںآئے یا نہ آئے کم از کم موجودہ دور کے مسلمانوں کی سمجھ میںآنے کے فی الحال کوئی امکانات دور دور تک نظر نہیںآتے۔ اس کی بہت سادہ سی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ موجودہ دور کا مسلمان مولوی ہو یا مسٹر، وہ اپنے آپ کو سمجھتا تو مسلمان ہے لیکن ہر دو قسم کا مسلمان (مولوی یا مسٹر) مسلمان نہیں ہے البتہ اس کا نام مسلمانوں جیسا ضرور ہے۔ دنیا کے دیگر نام نہاد مسلم ممالک کے مسلمانوں کے بارے میں وہاں کے رہنے والے ہی بہتر جانتے ہوںگے۔ باقی مسلمان ممالک کا تذکرہ چھوڑ کر پاکستان کے مسلمانوں تک اپنی گفتگو محدود رکھتے ہوئے ہر عام و خاص کو اس بات سے آگاہ ضرور کرنا چاہوں گا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمان ممکن ہے وہ یا تو پورے تیتر ہوں یا پورے کے پورے بٹیر لیکن وہ مسلمان جو پاکستان میں رہتے ہیں وہ ہر معاملے میںآدھا تیترآدھا بٹیر بھی نہیں۔پاکستان کے سوا جتنے بھی وہ ممالک جن کو اسلامی ممالک میں شمار کیا جاتا ہے ان میں بیش تر بادشاہوں والے سیاسی نظام نافذ نظرآتے ہیں۔ بے شک وہاں کا ہر حکمران شاہ نہ کہلاتا ہو لیکن طرز حکومت اسی انداز کا ہے جو انداز ’’شاہوں‘‘ کا ہوتا ہے، لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کسی کوآج تک اس بات کا پتا ہی نہیں چل پایا کہ یہاں اصل حکمرانی کس کی ہے۔ اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچا جائے تو پاکستان کی ساری ’’اقوام‘‘ ہر معاملے میں اپنی اپنی سوچ اور مزاج رکھتی ہیں۔ سوچ اور مزاج کا یہ انداز صرف سیاست ہی میں نظر نہیںآتا بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں ’شش و پنج‘ اب ایسی پہچان بن چکا ہے جس سے تا قیامت چھٹکارا پانا ناممکن نظرآتا ہے۔ بے شک زندگی کا کوئی بھی پہلو ہو وہاں اختلاف رائے کوئی بری چیز نہیں لیکن اس میں اتنی شدت آجانا کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہی گوارہ نہ ہو، یہ پہلو کسی بھی قوم کی تباہی و بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اسی قسم کی شدید سوچ ان لوگوں میں ہی کیوں زیادہ ہے جن کی تعلیم کی بنیادی شرط ہی تحمل، برداشت اور صبر ہے۔پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں گزشتہ72برسوں میں دنیا کے سارے سیاسی فلسفے آزمائے جاچکے ہیں۔ یہاں بادشاہوں جیسا نظام (آمریت) بھی رائج رہا ہے۔ یہاں بھٹو دور میں ہر شے کو قومیا کر کمیونزم اور سوشل ازم کو بھی رواج دیا گیا ہے۔ یہاں ضیاء الحق کے دور میں ’’اسلام‘‘ کو بھی برپا کیا گیا ہے اور جمہوریت کی چٹنی بھی خوب بنائی گئی ہے۔ لطف کی بات یہ کہ جمہوریت کی یہ ’’چٹنی‘‘ ہر قسم کی طرز حکومت یعنی بادشاہت (آمریت)، کمیونزم، سوشل ازم، مارشل لائی ازم اور نام نہاد جمہوریت میں بنائی جاتی رہی ہے۔ ہر قسم کے حکمران اس بات پر مجبور نظرآتے رہے ہیں کہ ہم جو مرضی کرلیں لیکن لوگوں کو کھانے پینے، بولنے چالنے اور ہر قسم کی چیخم دھاڑ کی اجازت دیے بغیر بہر حال لوگوں پر ہمارا حکمرانی کرنا ممکن نہ ہو سکے گا اس لیے وہ ایوبی دور کا ’’بی ڈی‘‘ سسٹم ہو یا مقامی جمہوریتوں کا نظام ہو یا مقامی حکومتی نظام، اس کو نافذ کیے بغیر لوگ ہمیں کرسیوں پر متمکن نہیں ہونے دیں گے۔ چنانچہ ہر بادشاہت نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ’’نقار خانوں‘‘ کی تعمیر کو لازمی سمجھا اور توتیوں کو شور مچانے کی آزادی دینا پڑی۔ پاکستانی قوم کی ایک خصوصیت یہ بھی ابھر کر سامنے آئی کہ ان میں تلون مزاجی بلاکی ہے اور یہ تلون مزاجی پاکستان کے سب سے بڑی آبادی والے صوبے میں بسنے والے لوگوں میں باقی ماندہ صوبوں میں بسنے والوں سے کئی سو گناہ زیادہ ہے۔ اس صوبے کو پنجاب کہا جاتا ہے۔ یہ تلون مزاجی کئی صدیوں پرانی ہے۔ جب کوئی مریض بالکل ہی لب دم ہو تو اس کا حال اس ڈوبنے والے کا سا ہو جاتا ہے جس کو صرف اور صرف سہارا چاہیے ہوتا ہے خواہ وہ تنکے ہی کا کیوں نہ ہو۔ اس وقت ان کی نگاہ میں نہ مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی مسلک، نہ سیاہ نہ سفید رنگت، نہ ملک ہوتا ہے اور نہ ہی ملت، اسے اگر کوئی غرض ہوتی ہے تو اپنی زندگی سے ہوتی ہے۔ وہی حال اس وقت پاکستان کی قوم کا ہو کر رہ گیا ہے۔ دنیا کا کوئی ایک ’’تنکا‘‘ بھی ایسا نہیں جس کو پکڑ پکڑ کر وہ سہارا بنانے کی کوشش میں مصروف نظر نہیںآتی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جسے سہارا بنانا ہے اور جو ہر شے پر قادر ہے اسے سہارا بنانے کے لیے قوم کہیں سے کہیں تک تیار نہیں۔جس مالک کے سامنے آج سے72 برس پہلے قسمیں کھائی تھیں کہ وہ (اللہ) اپنی قدرت سے اسے پنجہ خونیں سے نجات دے کر اگر ایک خطہ زمین عنایت کرے گا تو اس خطے میں وہ اس کا (اللہ کا) نظام نافذ کریں گے لیکن اللہ کی تائید اور نصرت حاصل ہونے کے بعد ساری قسمیں اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور پوری پاکستانی قوم بنی اسرائیل بن گئی۔ یہ ذلت، یہ در در کی ٹھوکریں، یہ گدا گری، یہ تذلیل اور درماندگی اسی کا نتیجہ ہے اور جب تک اللہ کی جانب نہیں پلٹا جائے گا اس وقت تک ذلت و خواری مقدر بنی رہے گی۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا کہ

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

متعلقہ خبریں