Daily Mashriq


آرمی چیف کا دو ٹوک جواب

آرمی چیف کا دو ٹوک جواب

کابل سے اسلام آباد آمد کے موقع پر امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے پاکستان کو پراکسی چھوڑنے اور ڈپلومیسی اپنانے کاجو مشورہ دیا تھا آرمی چیف نے اس کاجواب دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کا کوئی پراکسی نہیں پاکستان خود ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔ پاک فوج کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قائدانہ کردار اور اس ضمن میں تعاون کسی سے پوشیدہ امرنہیں ۔ اس امر کا اعتراف خواہی نخواہی خود امریکہ کو بھی ہے۔ اس بارے میں دو رائے نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی و عالمی استحکام کے لئے پاکستان کا کردار دنیا کے سامنے ہے۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر ایک روز قبل پراکسی وار چھوڑ کر ڈپلومیسی اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں اور دوسری جانب اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں دہشت گردوں اور ان کے ڈھانچے کے خاتمے میں پاک فوج کی کوششوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے قیام کے لئے امریکی حمایت کی یقین دہانی بھی کراتے ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات ہوں یا دفاعی تعلقات ان دونوں میں اعتماد کی کمی اور ایک دوسرے سے شاکی ہونا معمول کی بات ہے۔ د ونوں ممالک کے تعلقات کو دریا کے دو کناروں کی مثال دی جاتی ہے جو ساتھ ساتھ چلتے رہنے پر مجبور ہونے اور ایسا کرنے کے باوجود بھی بہر حال باہم نہیں ملتے۔ پاکستان جتنے عرصے تک امریکہ کی ناگزیر ضرورت رہتا ہے تب تک امریکہ کارویہ کچھ اور ہوتا ہے جیسے ہی مطلب برآوری ہو جاتی ہے تو امریکہ کا لب و لہجہ تبدیل ہو جاتا ہے جبکہ پاکستان کئی ایک سیاسی اور دفاعی ضروریات وجوہات کے باعث امریکہ جیسے ہر جائی دوست سے تعلقات رکھنے پر مجبور رہا ہے اور ہے لیکن ایسا لگتاہے کہ بدلتے حالات میں اب پاکستان کا امریکہ پر انحصار کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان نے خطے میں نئے دوست تلاش کرلئے ہیں اور خطے میں جس قوت سے پاکستان کو مشکلات تھیں وہ مشکلات اب نہیں رہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان اور روس کے درمیان سیاسی و دفاعی تعلقات کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ شاید ہی کسی کے تصور میں تھا کہ پاکستان اور روس قبائلی علاقوں میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی کرسکتے ہیں مگر چشم فلک نے دیکھا کہ پاکستا ن اور روس کے درمیان دوریوں کے بادل چھٹ کر مطلع اس قدر صاف اور اعتماد اس حد تک قائم ہوا ہے کہ روس اور پاکستان کی فوجوں نے مشترکہ مشقیں کیں۔ امریکہ یقینا اس پیشرفت سے لا علم نہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ پاکستان کو اب بھی پرانی نظروں سے دیکھتا ہے کم از کم امریکی سلامتی کے مشیر کے بیانات سے تو اس امر کا اظہار ہوتا ہے۔ امریکہ سے تعلقات پاکستان کی ضرورت ضرور ہیں لیکن اب اشد ضرورت کے زمرے میں نہیں آتے اور نہ ہی اب امریکہ دنیا میں اب ایسی قوت کے طور پر زیادہ عرصہ ٹھہر سکے گا کہ وہ اپنی بالادستی دوسرے ملکوں پر قائم کرے یا قائم رکھ سکے۔ اس حوالے سے مزید کسی بحث کی گنجائش نہیں کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ملک ہے بلکہ اس کی پالیسی ہمسایہ ممالک اور خطے کے ملکوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اچھے تعلقات کا قیام ہے اور بین الاقوامی طور پر باوقار تعلقات کے قیام کا خواہاں اور اس پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا امریکہ کو ادراک ہونا چاہئے اور اس کا احترام کیا جانا چاہئے۔ افغانستان کے معاملے میں امریکہ کا کردار اور پالیسی ایک طاقتور ملک کے طور پر نہیں بلکہ امریکہ افغان حکمرانوں کی کانا پھوسی اور الزامات سے متاثر رہا ہے اور نہ صرف ان کو وقعت دیتا آیا ہے بلکہ بعض اوقات تو امریکی حکمرانوں کے بیانات افغانستان کے حکمرانوں کے بیانات کا چربہ محسوس ہوتے رہے ۔ افغانستان میں روس کے خلاف پاکستان اور امریکہ کا کردار جو بھی رہا ہو اب وہ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ نئے افق میں ماضی کے حلیف اور حریف ایک جیسے دکھائی نہیں دیتے ۔ امریکہ کو اگر خطے میں قیام امن اور استحکام امن مطلوب ہے تو ان کے قومی سلامتی کے مشیر پراکسی کی بجائے ڈپلومیسی اختیار کرنے کا مشورہ اسلام آباد آکر نہیں بلکہ کابل ائیر پورٹ پر رخصت ہوتے اپنے میزبانوں کو دینا چاہئے تھا۔امریکہ کو چاہئے کہ وہ خطے میں مستقل قیام امن کی مساعی میں شراکت داری کے طور پر مسئلہ کشمیر کے حل اور افغان مسئلے کے حل میں کسی فریق سے ہمدردی رکھے بغیر ثالثی کاکردار ادا کرے اس کے لئے پاکستان کی آمادگی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ پاکستان بھارت کے ساتھ با مقصد مذاکرات کے لئے تیار ہے جبکہ افغان بحران کے حل اور خطے کی بہتری کے لئے نئی امریکی انتظامیہ سے مل کر کام کرنے کا خواہشمند ہے۔ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھی پاکستان کی مساعی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پاکستان کی کامیابیوں اور کوششوں کی مثال پیش کرنا ممکن نہیں جبکہ پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کے گٹھ جوڑ سے بھی دنیا واقف ہے جس کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ کلبھوشن یادیو اس کا تازہ ترین زندہ ثبوت ہے۔ اس ساری صورتحال میں پراکسی کا نہیں ڈپلومیسی کا مشورہ کس کو دینے کی ضرورت ہے اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا دورہ کابل واسلام آباد کا نتیجہ اسلام آباد میں اس کے بیانات کے برعکس اور مثبت ہوگا اور وہ اپنے ملک کو پاکستان کی مشکلات اور مسائل سے معروضی طور پر آگاہ کرکے امریکی پالیسیوں میں پاکستان کے لئے زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔

متعلقہ خبریں