Daily Mashriq


لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں ناکامی

لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں ناکامی

ملک بھر میں بجلی کا بحران حل ہونے کی بجائے شدت اختیار کرجانا عوام اور حکمرانوں دونوں کیلئے تکلیف دہ معاملہ ہے۔ گرمی کے ستائے افراد بجلی نہ ہونے پر حکمرانوں ہی کو مطعون کریں گے مگر حکمرانوں کے پاس تمام دعوئوں کے باوجود اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ۔ حکمران تو اتر سے یہ دعوے کرتے رہے کہ اب عوام لوڈ شیڈنگ کو بھول جائیں گے مگر اچانک ہی غیر اعلانیہ اور بغیر شیڈول کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ شہریوں کو سولہ سولہ گھنٹے تک بجلی نہیں مل رہی ہے بجلی آنکھ مچولی لوڈ شیڈنگ سے زیادہ تکلیف دہ امر ہے ۔ بجلی ساز نجی کمپنیوں کو واجبات کی ادائیگی کے ذریعے موجود ہ حکومت نے اقتدار کے آغاز میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کی کامیاب سعی کی تھی ۔اب آئی پی پیز کے واجبات دوبارہ سے بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جانب سے بجلی کی پیدا وار میں ممکنہ طور پر کمی کی گئی ہو ۔ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز)کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ میں اضافے اور حکومت کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث بجلی کی پیداوار کم ہوسکتی ہے۔وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے حال ہی میں ایوان بالا میں سرکلر ڈیٹ میں اضافہ تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ گردشی قرضے فروری میں 393 ارب روپے ہو گئے تھے۔ حکومت باقاعدگی کے ساتھ صارفین سے بلوں کی رقم وصول کرتی ہے بلکہ گرمیوں میں صارفین سے بجلی کے غیر حقیقی اور زائد نرخوں کے مطابق وصولی ہوتی ہے جس کا بعد میں ازالہ ضرور کر لیاجاتا ہے مگر بہر حال خواہ جو صورت بھی ہو حکومت کے پاس ایک خطیر اضافی رقم جمع ہوتی ہے مگر اس کے باوجود آئی پی پیز کو ادائیگی نہیں ہوتی ۔حکومت پن بجلی کی قیمت بھی وہ وصول کرتی ہے جوایندھن سے بننے والی بجلی کی ہوتی ہے مستزاد حکومت کمپنیوں سے خریدی گئی بجلی میں بھی اپنا منافع شامل کر تی ہے مگر اس کے باوجود عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق قیمتاً بلکہ مہنگے داموں بجلی کی فراہمی نہیں ہوتی جس کے باعث یو پی ایس ، سو لر اور جنر یٹر کے متبادل اور اضافی اخراجات کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے ۔ حکومت بجلی کے متبادل ذرائع کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کرتی اگر حکومت اس ضمن میں مخلص ہوتی تو شمسی توانائی کے استعمال کی پوری طرح سے حوصلہ افزائی کی جاتی ۔ حکومت پن بجلی کی پیداوار میں اضافے کیلئے اس درجہ کو شاں نہیں جو حالات کا تقاضا اور عوام کی ضرورت ہے ۔ توانائی کے منصوبوں پر کام کی رفتار بھی تسلی بخش نہیں ۔ اس وقت جبکہ سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کیلئے صف بندیوں میں مصروف ہیں حکمران اگر دوبارہ عوام کے سامنے خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان کو چاہیئے کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے کی سنجیدہ سعی کریں۔ عوام سے 2018ء تک لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کاجو وعدہ کیا گیا تھا اگر وہ پورا نہ ہوا توحکمران جماعت کے نمائندوں کیلئے عوام کا سامنا کرنا نہایت مشکل ہوگا ۔

جامعات میں بڑھتی انتہاپسندی

سندھ کی طب کی طالبہ کے داعش نیٹ ورک سے روابط کے بعد لاہور میں گرفتاری اور نوجوان طلبہ اور خاص طور پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ذہین اور اونچی کلاس کے طلبہ کی انتہاپسند تنظیموں میں دلچسپی اور ان کے کارندہ بننے کے واقعات سے تشویش کی لہر تھی ہی اب اسلام آباد کی تین اہم یونیورسٹیوں میں انتہا پسند تنظیم کے نیٹ ورک کی موجود گی اور اس کے مبینہ کارندوں بارے تفصیلات چشم کشا ہیں جن کی روشنی میں اگر خیبر پختونخوا سمیت دیگر صوبوں میں بھی اس قسم کی سرگرمیوں کا امکان ظاہر کیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ پشاور یونیورسٹی میں اس طرح کی سرگرمیاں اس وقت ہونے کی اطلاعات تھیں جب انتہا پسندی ابھی نام کوبھی نہ تھی اس سے ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے حالات کی منصوبہ بندی بہت پہلے سے تھی اور اس کی تیاریاں عرصے سے جاری تھیں بہر حال ماضی کے برعکس فی الوقت جامعہ پشاور میں کسی ایسی سرگرمی کا کوئی وجود نہیں جو اپنی جگہ اطمینان بخش امر ہے لیکن ساتھ ہی اس امر پر بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ اب صوبے میں پشاور یونیورسٹی واحد جامعہ نہیں بلکہ کئی جامعات بن چکی ہیں اور ان جامعات میں بعض ایسے انتہا پسند انہ واقعات بھی پیش آچکے ہیں جس میں روایتی طور پر انتہا پسند سمجھے جانے والوں کے برعکس کے عناصر ملوث نکلے ۔ یہ ساری صورتحال اس امر کی متقا ضی ہے کہ ملک او ر خاص طور پر صوبے کی جامعات میں مختلف ا مکانات کو مد نظر رکھ کر معلومات اکٹھی کرنے اور طلبہ ذہنی تبدیلی جانچنے اور ہر وقت اقدامات پر توجہ دی جائے ۔

متعلقہ خبریں