Daily Mashriq


عام ،قیمتیں اور ادویات

عام ،قیمتیں اور ادویات

صدر پاکستان جناب ممنون حسین نے سیکریٹری صحت سے ملاقات میں کہا ہے کہ ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں ہونی چاہئیں ۔یہ گزشتہ روز کے اخبار کی سب سے نمایاں سرخی تھی ۔ اگر چہ تمام اخبارات میںاہم خبریں پانامہ لیکس کے متوقعہ فیصلے کے حوالے سے تھیں کہ جس فیصلے پرآنے والے دنوں میں بہت سی تبدیلیوں کے امکانات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ پاکستانی عوام ہونے کے ناطے پانامہ لیکس والی خبر ہمارے لیے اہم ہونی چاہیئے تھی لیکن ہمیں ممنون حسین والی خبر متاثر کر گئی ۔ اگرچہ میںلفظ'' متاثر''استعمال کرتے وقت بڑا محتاط ہوتا ہوں کیونکہ اس لفظ میں بڑے گہرے معنی و مطالب کے علاوہ گہری کاٹ بھی پوشیدہ ہے۔ جیسے متاثر سے متاثرین ۔ یا متاثرہ خاندان یا متاثرہ لوگ وغیرہ۔ یہ لفظ اتنادیر پاہے کہ جس کے ساتھ چمٹ جائے پھر اس سے ہٹتا نہیں ۔

جیسے تربیلہ کو بنے دہائیاں گزر گئی ہیں لیکن آپ کو اب بھی تربیلہ متاثرین کا لفظ اخبار میں کسی نہ کسی خبر میں دکھائی دے جائے گا۔اب چونکہ ہم نے جناب ممنون حسین کے اس بیان کے حوالے سے اپنے لیے متاثر ہونے کا لفظ استعمال کیا ہے اگرچہ یہ متاثر ہونا متاثرین والا متاثر نہیں ہے لیکن پھر بھی دیکھا جائے تو یہ کچھ کچھ متاثرین والا ہی متاثر لگتا ہے ۔ صدر ممنون حسین اگرچہ بظاہر'' غیر سیاسی'' ہیں لیکن بہرحال وہ سیاسی سسٹم کا حصہ تو ضرور ہیں ۔پاکستان میں کسی بھی شخصیت کا صدر بن جانا یقینا ایک بہت بڑی لاٹری کے نکل آنے کے مترادف ہے ،بسنت دوسری سیاسی عہدوں کے ،کیونکہ ان عہدو ں کا حاصل کرنا ''جوئے شیر ''لانے کے مترادف ہے ۔ بات توصدر صاحب کے بیان کی ہورہی ہے ۔ اس بیان میں میرے لیے تین لفظ بہت اہم ہیں ۔یعنی ''ادویات '''' قیمتیں ''اور ''عام آدمی ''۔اگرچہ ممنون صاحب اور سیکریٹری کے نام بھی اہم ہیں لیکن چونکہ یہ دونوں شخصیات پہلے سے ہی خاص ہیں،اور خاص چیزیں اپنی تخصیصی خوبیوں کی وجہ سے پہلے ہی سے اہم ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ دونوں اہم حوالے ہماری بحث سے خارج ہیں ۔عام آدمی کی بات کی جائے بظاہر سب آدمی عام آدمی ہی ہوتے ہیں لیکن کچھ خاص ہوجاتے ہیں ۔لیکن کسی خاص آدمی کے منہ سے جب عام آدمی کا ذکر خیر ہوتا ہے تو پھر یہ تخصیص یا تفاوت یابُعد(اس سے آسان الفاظ میرے ذہن میں نہیں آرہے) نئے معنی اختیار کرلیتا ہے ۔ عام آدمی ہمارے ہاں سچ مچ کا عام ہی ہے ۔اس عام آدمی کی عمومیت کی یہاں بڑی مارکیٹ ہے لیکن وہ بھی خاص دنوں میںخصوصی ہوتا ہے لیکن پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی کے مصداق عمومیت کی ازلی کیفیت اختیار کرلیتا ہے ۔ زیر بحث خبر کے حوالے سے دوسرا لفظ ''قیمتیں'' ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ عام لوگوں کی لیے تو کوئی بھی قیمت ،چاہے کم ہو یا زیادہ ،ناقابل برداشت ہوتی ہے ۔ اس لیے عام اور قیمت کے الفاظ آپس میں ایک دوسرے سے لازم وملزوم ہیں۔ اسی لیے ہمارے ملک میں ہر عام خاص ہونے کے چکر میں رہتا ہے کیونکہ عام ہونا بھی کوئی ''ہونا '' ہے ۔اصل ہونا تو ''خاص ہونا''ہے مگر افسوس کہ چند ہی لوگ خاص ہوسکتے ہیں یعنی خاص خاص ہی خاص ہوسکتے ہیںاور عام خاص نہیں ہوسکتے کیونکہ جب کوئی عام خاص ہوجائے تو وہ بھلا عام کہاں رہتا ہے وہ تو پدرم سلطان بود کے مصداق خاص ہی کہلوانا پسند کرتاہے۔وجہ ا س کی قیمت ہی ہے ۔ عام کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ کوئی پید اہوتے ہی خاص کے زمرے میںآجاتا ہے اور کوئی ساری زندگی خاص کے کسی ذیل میں نہیں آپاتا ۔اب تیسر ے لفظ کی طرف آتے ہیں اور وہ ہے ''ادویات''۔ اب اس لفظ کا بھی پہلے دو لفظوں (عام اور قیمتیں )سے بہت گہرا تعلق ہے ۔ عام نلکے کا آلودہ پانی پیتا ہے یا کھارا پانی پیتا ہے اور بیمار ہوجاتا ہے ۔

خاص کے لیے قدرت نے منرل واٹر کا بندوبست کررکھا ہے سو اسے ادویات سے تعلق کم رہتا ہے ۔ ادویات عام لوگوں کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں ۔ یعنی انہیں اس کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ دوائی ملے تو چند دن مزید زندگی کی تپش سہارنے کا موقع مل سکتا ہے اور عام زندگی گزاری جاسکتی ہے ۔عام آدمی کے لیے ادویات مہنگی ہوجائیں تو عام کی زندگی جو پہلے سے دکھ درد کا شکار ہوتی ہے اس میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور زندگی کے درد کی شدتیں اور بڑھ جاتی ہیں ۔ جب حبس زدہ راتوں میں اور دھوپ سے تپتی دوپہروں میں چھت کا پنکھا ہماری زندگی کی طرح جمود کا شکار ہوجائے ، جب سرد راتوں میں پائپ میں گیس عنقا ہوجائے ،جب امن اگلے کسی بھی لمحے بدامنی کی صورت اختیار کرلے ۔ جب ہسپتالوں میں بیماریاں میسر ہوں تو ایسے میں عام ہونا ایک اذیت ہی ہے ۔ اس اذیت میں دوائی کا مہنگا ہوجانا سوہان روح سے کیا کم ہے ۔ لیکن سوچتا ہوں زندگی تو خدا کی دین ہے اور موت کا مالک بھی وہی ہے لیکن یہ عام لوگ '' مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا ''کی صورتحال کا شکار نہیں ہے ۔ اگر ہے تو یہ بیان کافی اہم ہے کہ ہمارے ملک کے سب سے بڑے عہدے پر فائز شخصیت کوعام آدمی کے مسائل کا ادراک تو ہے یہ الگ بات کہ ان کی رہائش کا سرکاری خرچہ اتنا ہے کہ جس سے دو چار ڈسپنسریاں تو چل ہی سکتی ہیں ۔ یہ بھی مقام شکر ہے کہ انہیں احساس تو ہوا کیونکہ احساس سے ہی عمل شروع ہوتا ہے ۔پھر ایک غیرسیاسی شخص سے ایسا بیان زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ جس نے الیکشن میں حصہ بھی نہیں لینا۔۔اس بیان کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔۔۔

متعلقہ خبریں