Daily Mashriq


کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئی

کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئی

جب سے حکومت خیبر پختونخوا اور عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کے مابین گدھوں کی تجارت کا کوئی معاہدہ ہونے کی خبریں سامنے آرہی ہیں ہمارے بعض کرمفرما ہم سے اس موضوع پر توجہ دینے کی بات کر رہے ہیں ، ہم نے جواب میں کہا کہ یہ کوئی نیا موضوع تو ہے نہیں بلکہ اس پر ہم پہلے بھی کئی بار قلم گھسیٹ چکے ہیں اور چونکہ یہ موضوع خود ہمارے ساتھ بھی تعلق رکھتا ہے یعنی وہ جو سیانے لوگ ہم عوام کو کالا نعام سمجھتے ہیں تو جانوروں کے بارے میں لکھنا خود اپنے بارے ہی میں تو لکھنا ہوا ناں ، اور اس ضمن میں ہمارے ایک پروفیسر شمیم صاحب تھے جو کالج میں ہم کو انگریز ی پڑھایا کرتے تھے ،انہوں نے جمہوریت کی ''عالمی شہریت یافتہ '' تعریف یعنی جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہے جو عوام کیلئے ، عوام کے ذریعے عوام ہی کی حکومت ہے ، کو بدل کر اسے جمہوریت گدھو ں کیلئے گدھوں کے ذریعے اور گدھو ں ہی کی حکومت ہے کردی تھی ، وہ اپنے اس نظریئے کیلئے ٹھوس دلائل بھی رکھتے تھے ، اور سب سے بڑی دلیل تو یہ ہوتی تھی کہ بقول شاعر 

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے

اور وہ یہ ثابت کیا کرتے تھے کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنا نمائندے چن کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں تو تعداد کے لحاظ تو یقینا زیادہ ووٹ لینے والا چنا جاتا ہے مگر چننے والوں کی غلطیوں سے صحیح نمائندوں کی جگہ غلط نمائندوں کے اسمبلی میں پہنچنے کے امکان کو رد تو نہیں کیا جا سکتا ، اسی لئے تو علامہ اقبال نے بھی صاف صاف بتا دیا تھا کہ

گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کار شو

کہ ا ز مغز دو صد خر فکر انسانی نمی آئی

لیکن ہم ہیں کہ جمہوریت ہی پر ایمان لا چکے ہیں ۔ خیر بات تو گدھو ں کی خرید و فروخت کی ہور ہی تھی اور ہم نے گزارش یہ کی کہ عوام کو جانور (گدھے ) سمجھنے کی وجہ سے ہمارے اکثر کالم انہی کے بارے میں تو ہوتے ہیں ، اس پر بھی اگر ہمارے بعض کر مفرما گدھوں کے بارے میں نہ لکھنے کا ہم پر الزام لگاتے ہیں تووہ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کیا ہم نے ان (گدھوں )کے بارے میں واقعی کبھی نہیں لکھا ؟۔ اس لئے ہمیں توان پر بھی گدھے کی اس خصوصیت میں مبتلا ہونے کا شک ہورہا ہے جسے پشتو زبان کے ایک محاورہ یا روز مر ہ کے مطابق ''خرہ خپہ '' کہتے ہیں ۔ اب اس کی با محاورہ اردو کیا ہو سکتی ہے ۔ اگر چہ کیفیت تو یہ اڑجانے کی ہے مگر گدھے کو اڑیل نہیں کہا جا سکتا بلکہ اڑیل ٹٹو یا گھوڑا استعمال ہوتا ہے ، تاہم مثال دینے سے شاید وضاحت ہو سکے کیونکہ گھوڑا اگر اڑی کرے تو دو چار چابک کھانے کے بعد بادل نخواستہ ہی سہی چل پڑتا ہے لیکن گدھا ؟ ۔۔ توبہ توبہ وہ جتنی بھی مار کھائے آگے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف زور کرتا ہے ۔ گدھاجو ہوا ، یہی وجہ ہے کہ جب گدھے کو دریا پار کرانا ہو تو اس کو دریا کے الٹی سمت کھڑا کر کے آگے کی جانب کھینچا جاتا ہے اور وہ حسب عادت پیچھے کی جانب زور لگاتے ہوئے دریا کے کنارے کشتی کے ساتھ تختے پر الٹی سمت چلتا ہوا کشتی میں سوار ہو جاتا ہے ، یعنی بقول ظریف لکھنوی

وحشت میں ہر ایک نقشہ الٹانظر آتا ہے

مجنون نظر آتی ہے ، لیلیٰ نظر آتا ہے

اصولاً تو خیبر پختونخوا کی حکومت کو عوامی جمہوریہ چین کی بجائے امریکہ سے گدھو ں کی خرید وفروخت کا معاہدہ کرنا چاہیئے تھا کیونکہ امریکہ کی ایک سیاسی جماعت کا انتخابی نشان بھی گدھا ہے یوں وہ پاکستانی گدھوں کی قدرومنزلت چین کے مقابلے میں زیادہ کریں گے ۔ جبکہ چین تو گدھوں کو مار کر ا س کا گوشت انسانوں کو کھلائیں گے اور اس کی کھال سے شنید ہے کہ مختلف قسم کی بیوٹی کریمز بنا کر دنیا بھر کی خواتین کو ان بیوٹی کریمز کی خریداری پر مجبور کرے گا ۔ مشہور تو یہ بھی ہے کہ مصر کی ملکہ قلو پطرہ کی خوبصورتی کاراز گدھی کے دودھ سے ہر صبح غسل کرنا تھا ۔ گویا مصری قبل از مسیح کے دور سے گدھیوں کی افادیت کے قائل تھے ۔ سو اب دیکھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں گدھو ں کی افزائش نسل کیلئے جو فارم بنائے جائیں گے ان کا انتظام کسی ''خر کار '' کے پاس ہوگا یا پھر سرکار کے پاس ! اگر چہ خیبرپختونخوا حکومت نے چین میں صوبے کیلئے سرمایہ کاری روڈ شو کا جو اہتمام کیا ہے اس میں گدھوں کی خرید و فروخت کابھی منصوبہ شامل ہے یا نہیں ۔ کیونکہ ہمارے لیڈروں کو دوسرے ممالک پر اپنے ''گدھے '' فروخت کرنے کا ملکہ حاصل ہے اور قیام پاکستان کے بعد لیڈروں نے یہی تو کیا ہے ، اس سلسلے میںسابق آمر جنر ل (ر) مشرف نے تو اپنی کتاب میں ایسی کئی وارداتوں کا تذکر ہ بھی کیا ہے یعنی موصوف نے ڈالروں کے عوض اپنے ملک کے کالانعام گرفتار کر کرکے امریکہ کے حوالے کئے ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ جنرل مشرف میں اتنی اخلاقی جرأت تو ہے کہ جنہیں اس نے امریکہ وغیرہ کو فروخت کیا ان کا موصوف نے بر ملا اظہار کیا ، ورنہ تو اقتدار میں رہنے والوں میں سے کتنے ہوں گے جو اس گناہ کے مرتکب نہ ہو ئے ہوں گے مگر اس خرید و فروخت سے ہمیشہ انکار ہی کرتے رہے ہیں ۔ ہو سکتا ہے ایک آدھ یا چند خوف خدا سے ڈرتے ہوئے اس گناہ کے مرتکب نہ ہوئے ہوں ۔ ورنہ صورتحال تو فارسی کے اس مصر ے کی سی رہی ہے کہ

قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

یوں جو لوگ عوام کو کالا انعام ''جانور '' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو اس میں کسی شک کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ، اسی لئے تو یک شاعر نے یہ بھی کہا ہے کہ

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

''گدھوں '' کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ

متعلقہ خبریں