Daily Mashriq


پختون قوم کے لئے نئی آزمائشیں؟

پختون قوم کے لئے نئی آزمائشیں؟

خوشحال خان بابا جس زمانے میں پشتون قوم کی قیادت کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے ان کو بہت ہی مشکل حالات کا سامنا تھا۔ ایک طرف مغلوں کی یلغار تھی جو اپنے آپ کو تہذیبی اور عسکری لحاظ سے خطے کا سپر پاور سمجھ رہے تھے اور دوسری طرف پشتون تھے جو اگرچہ آپس کی نا اتفاقیوں اور نا چاکیوں کے سبب بہت کمزور تھے لیکن پشتون ولی نبھانے کے لئے سرنگوں ہونے کو موت کے مترادف سمجھتے تھے۔ خوشحال کے دور سے لے کر آج تک پشتونوں کا یہ خطہ قرار نہ پا سکا۔ کیوں؟ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن سوسوالوں کا ایک جواب یہ ہے کہ پشتون آج بھی بکھرے ہوئے اور منتشر ہیں۔قیام پاکستان کے بعد افغانستان کی پختون قیادت عقل و ہوش سے کام لیتی تو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اتنے مضبوط تعلقات قائم ہونے کے امکانات تھے کہ آج پختون اس پورے خطے کی سیاست و قیادت میں بہت اہم مقام کے حامل ہوتے۔ اس سلسلے میں جہاں پختون قیادت (لر و بر) سے خطائیں سر زد ہوئیں وہاں کچھ اور عناصر بھی تھے جو پختونوں کے اتفاق سے خائف تھے۔ اس کے علاوہ افغانستان کے پڑوس میں سپر پاور روس نے بھی ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف کے پختونوں کے افکار و اذہان کو بہت خطرناک رجحانات کی طرف مائل کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ کوئی مانے یا نہ مانے مذہب پختون کی سر شت میں خون کی طرح سرایت کئے ہوئے ہے۔ لیکن سوویت یونین نے افغانستان کے منتخب نوجوانوں کو روس کے اندر تعلیم و تربیت کے ایسے مواقع فراہم کئے جس سے ان نوجوانوں کی کایا پلٹ گئی۔ نور محمد ترکئی' حفیظ اللہ آمین' ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب وغیرہ اس کے اہم نما ئندے تھے جنہوں نے افغانستان میں ایسے حالات پیدا کئے کہ پشتون اور افغانی دو واضح کیمپوں میں تقسیم ہوگئے۔ وہ دن اور آج کا دن پختونوں کی سیاہ بختی ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ پختون فکری لحاظ سے کتنے تقسیم ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی ہم پختونوں کی تباہی و بربادی کے ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ آج بھی افغانستان کی پختون قیادت پاکستان پر بے سر و پا الزامات لگا کر پختونوں کے پختون وں کے لئے پاکستان اور افغانستان اور بیرونی دنیا میں مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ آج بھی خیبر پختونخوا کی پختون قیادت کے درمیان فکری و نظری اور تعامل کے لحاظ سے بعدالمشرقین ہے۔ آج بھی یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر پاکستان میں رہتے ہوئے خیبر پختونخوا وفاقی حکومت سے اپنا آئینی و دستوری حصہ کیوں وصول نہیںکرسکتا۔ آج بھی یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ پختونخوا کی صوبائی حکومتیں اکثر و بیشتر وفاق سے کیوں سر پٹھول میں لگی رہتی ہیں۔ آخر پنجاب کیوں تعلیم و صنعت کے لحاظ سے ترقی کر رہا ہے اور بلوچستان اور پختونخوا' پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں کے مقابلے میں دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہیں۔ کیا پختونوں کے صوبے اور علاقے اپنی ہی قیادت کے ہاتھوں ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں؟ اب جبکہ پختون قوم نے گزشتہ نصف صدی سے بہت مصیبتیں اور آزمائشیں جھلیں۔ کیا افغانستان اور پورے پختونخوا کی قیادت' مولانا فضل الرحمن' سراج الحق' اسفند یار ولی' آفتاب شیر پائو' اشرف غنی' حامد کرزئی اور دیگر مل کر مستقبل قریب میں ایک دفعہ پختونخوا کے ارد گرد جو حالات نظر آرہے ہیں کے بارے میں کوئی ایسی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں جو پختونوں کو مزید آزمائشوں سے پچانے میں مدد گار ہو۔ قبائلی علاقہ جات اور افغانستان پر جو کچھ گزری وہ تو تاریخ کا حصہ بن گیا اور مورخ لکھے گا کہ پختونوں کے ساتھ اکیسویں صدی میں جو ظلم و بربریت کی داستان رقم ہوئی اس میں غیروں کے علاوہ اپنوں کاکتنا حصہ و کردار ہے۔ لیکن چند دن پہلے امریکہ نے پہلے شام کے ائیر پورٹ پر میزائلوں کی بارش کی اور پھر افغانستان میں ننگر ہار میں پختونوں کی آبادیوں پر داعش کو ختم کرنے کے لئے ''بموں کی ماں'' کے نام سے جو بم پھینکا کسی پختون رہنما نے اس بم کی تباہ کاری کے بارے میں سروے کرانے کے لئے کوئی اقدام کیا۔ حامد کرزئی کے علاوہ کسی نے مذمت کی؟کیا پختون قیادت نوشتہ دیوار پڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے کہ امریکہ اور روس ایک دفعہ پھر افغانستان میں آمنے سامنے ہونے والے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو جائے حالانکہ حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ ایسا ہونے والا ہے کیونکہ روس' چین' وسطی ایشیائی ممالک اور پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کے لئے اور امریکہ کو یہاں سے رخصت کرنے کے لئے طالبان سے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں جبکہ امریکہ اس کے خلاف ہے۔ روس نے آہستہ آہستہ کریمیا' جارجیا' یو کرائن' شام وغیرہ میں امریکہ کو ٹف ٹائم دیا ہے اور دوسری طرف شمالی کوریا کسی لگی لپٹی کے بغیر امریکہ کو چیلنج کر رہا ہے۔ لہٰذا اس وقت پختون قیادت پر بہت بڑی ذمہ داری یہ عایدہوتی ہے کہ سارے جزوی' فروعی اور سیاسی اختلافات بھلا کر پختون قوم کی حفاظت' ترقی اور مستقبل کے لئے متحد ہو کر سپرپاورز کی اس تازہ متوقع زورآزمائی کی آزمائشوں سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کریں ورنہ تاریخ ان سے ضرور پوچھے گی۔

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

متعلقہ خبریں